بارڈر بندش: پنجگور کے بعد تربت میں احتجاج، سی پیک روٹ بند کرنے کا عندیہ

210

دی بلوچستان پوسٹ نیوز ڈیسک کو موصول ہونے اطلاعات کے مطابق بارڈر ٹریڈ ایکشن کمیٹی اور تربت سول سوسائٹی کی جانب سے تربت شہر میں پاک ایران باڈر (گولد سمڈ لائن) کی بندش کے خلاف احتجاجی ریلی نکالی گئی، ریلی میں مقامی کاروباری افراد اور شہریوں نے شرکت کی۔

مظاہرین نے احتجاجاً تربت مین چوک کو ٹریفک کے لئے بند کردیا۔ مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ حکومت کی جانب سے باڈر پر کاروبار کرنے والے افراد کے لئے انتظامات کئے جائیں۔

بارڈر ٹریڈ ایکشن کمیٹی کے ممبر علی بخش دشتی نے ایران بارڈر کی بندش پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے گھروں کے چولہے بج چکے ہیں اور حکمرانوں کو کوئی پرواہ نہیں ہے، پچھلے 18 دنوں سے لوگ سرحد کے دوسری طرف پھسے ہوئے ہیں ان کا کوئی پرسان حال نہیں۔

علی بخش دشتی نے مزید بتایا کہ ہماری تجارت پہ قدغن لگانا ہمیں کسی صورت قابل قبول نہیں، بارڈر کو بحال کرکے لوگوں کو عزت سے روزی روٹی کمانے کے لیے اجازت دی جائے۔

مظاہرین کے مطابق بارہا مطالبہ کررہے ہیں کہ ہماری بارڈر جالگی، گَرِ بُن کور، دشتُک، کھیر توک اور عبدوئی بارڈر کو علاقائی عوام کی سہولت کے لیے کھولا جائے مگر ہمارے مطالبات پہ کوئی کان نہیں دھرتا جس کے باعث کل منگل کے دن ہم احتجاجاََ چائنہ پاکستان اکنامک کوریڈور کو بلاک کریں گے۔

یاد رہے بلوچستان سے متصل ایران باڈر پر پیمانے پر تیل و دیگر اشیاء کا کاروبار کیا جاتا ہے۔ مکران سمیت گرد نواح کے زیادہ تر عوام اس کاروبار سے منسلک ہیں تاہم باڈر بندش کے باعث وہ مزدوری سے محروم ہیں۔

ایران باڈر بندش کے خلاف گذشتہ کئی دنوں سے بلوچستان کے علاقے پنجگور، تربت و مختلف علاقوں میں احتجاجی مظاہرے کئے جارہے ہیں۔ مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ حکام کے جانب سے باڈر کھولنے کے لئے اقدامات اٹھائے جائیں۔