کیچ بلڈ ڈونرز – معراج لعل

43

کیچ بلڈ ڈونرز

تحریر: معراج لعل

دی بلوچستان پوسٹ

دنیا کا یہ ضابطہ ہے کہ کوئی انسان تنہا سفر زندگی کو آگے بڑھا نہیں سکتا۔ ہر انسان زندگی بسر کرنے میں دوسرے انسانوں کا محتاج ہے۔ کیونکہ ہر انسان کی زندگی دوسرے انسانوں کے مدد اور تعاون کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔ ایک مثالی معاشرہ وہی ہوتا ہے جس میں ہر فرد دوسرے فرد کے ساتھ مل کر باقی حاجت مندوں کی ضرورت پورا کرکے زندگی بسر کرنے کو اپنا فرض سمجھتا ہے۔

اسی طرح ہمارے صوبہ بلوچستان کے ضلع کیچ سے تعلق رکھنے والا نوجوان جو تعریف کا محتاج نہیں ہے پھر بھی آپ کو بتاتا چلوں کہ اُنہیں ارشاد عارف کے نام سے جانا جاتا ہے ، جنہوں نے قوم دوستی اور انسان پسندی کے تحت آگے بڑھ کر تھیلیسمیا سے متاثر بچوں کے لیے ایک بلڈ ڈونرز ٹیم تشکیل دی ہے تاکہ اِنہیں بروقت خون عطیہ کرکے زندگی کے کچھ روز اور جینے کی امید دے سکے۔ اس سے پہلے کئی ماؤں نے اپنے جگر کے ٹکڑوں کو بروقت خون نہ ملنے سے اپنے ہی سامنے مرتے دیکھے ہیں اور کچھ تو اپنے پیاروں کو کھونے کے غم میں دن رات ڈوبے رہتے ہیں۔

کیا یہ بچے انسان نہیں ہیں؟ کیا اِن کو باقی بچوں کی طرح زندگی بسر کرنا نہیں چاہیئے؟ کیا اِن پر پابندی عائد کی گئی ہے؟ اور کیا اِن کے لیے تعلیم حاصل کرنا گناہ تصور کیا جاتا ہے؟

جی ہرگز نہیں ، فرق صرف اور صرف اتنا ہے کہ یہ بچے تھیلیسمیا کے مریض ہیں اور بروقت خون نہ ملنے کی وجہ سے وہ سب کچھ نہیں کرسکتے جو کہ ایک نارمل بچہ کرتا ہے۔

ویسے تو صوبے بھر میں مسئلے مسائل کی تو کمی نہیں ہے لیکن اُن میں سے تھیلیسمیا ایک سنگین ترین مسئلہ بنتا جارہا ہے، جسے کنٹرول کرنے کی اشدد ضرورت ہے ۔ چونکہ یہ ایک آسان کام نہیں ہے لیکن غالباً اُتنا مشکل بھی نہیں ہے ۔ ہاں ایک عام اور سول فرد کی بس سے بالا تر ہے۔ تو یہ ہمارا فرض بنتا ہے کہ جو قدم ارشاد عارف اُن کے ساتھیوں نے اُٹھایا ہے ہمیں اُن کے ساتھ یک مُشت اور ہمگام ہو کر چلنا چاہئے ۔ تاکہ کسی حد اس مسلے کو سُلجھا سکیں۔

اگر ہم مغربی ممالک (برطانیہ ،امریکا ) کی مثال لے لیں جنہوں نے اسلام کے بہت سے احکامات پر عمل کرکے خود کو ایک مضبوط اور خوشحال معاشرہ بنا لیا ہے ۔ پر ہم تو مسلمان ہیں اور اسلام کے فالور ہیں ہمیں تو اُن سے 50 فیصد آگے جانا چاہے، کیونکہ ہمارا مذہب دکھی انسانیت کی خدمت کا باقاعدہ حکم دیتا ہے۔

آخر میں آپ لوگوں کوگوش گُزار کرتا چلوں کہ کیچ بلڈ ڈونرز ٹیم آپ سے کروڑوں اور لاکھوں کی مالیت نہیں چاہتا صرف اور صرف دو قطرے خون عطیہ کرکے پوری انسانیت کی جان بچانے کا درس دیتا ہے۔


بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں