کراچی: بلوچ لاپتہ افراد کیلئے احتجاج جاری

48

وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کی جانب سے سندھ کے دارالحکومت کراچی میں احتجاج کو 4239 دن مکمل ہوگئے۔ ایچ آر سی پی کے چیئرمین اسد بٹ، صوبائی صدر قاضی خضر، کونسل ممبر سعید بلوچ اور دیگر نے کیمپ کا دورہ کرکے لواحقین سے اظہار یکجہتی کی۔

وی بی ایم پی کے رہنماء ماما قدیر بلوچ کا اس موقع پر کہنا تھا کہ آج بلوچستان میں عظیم پرامن جدوجہد جاری ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ پرامن جدوجہد ایک کشمکش پر مبنی جدوجہد ہے ایک طرف وہ ہیں جو پرامن جدوجہد کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں اور دوسری وہ  ہیں جو جمہوریت کے خوشنماء لیکن دراصل بدصورت نعروں کے تحت لوگوں کو ورغلاء کر غلامی میں لیجانا چاہتے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ حقائق کے نام پر بنائے جانیوالے کمیشن حقائق کی تذلیل کے سوا کچھ نہیں ہیں، قاتلوں، جلادوں کو مقتولوں اور مظلوموں کے ساتھ کیسی مصالحت اور کیسی امن، ان کی تو قبروں سے آوازیں آرہی ہے کہ ہمارے جانوں اور زندگیوں کا بھی کوئی حساب ہے۔

ان کا کہنا تھا تھا کہ بلوچستان میں لوگوں کی بنیادی حقوق آج بھی منظم طریقے سے پامال کیے جارہے ہیں جس میں وہ زندہ رہنے کا حق، رشتہ داروں سے ملنے کا حق، لکھنے اور بولنے کا حق حتیٰ کہ عبادت کا بھی حق چھین لیا گیا ہے لیکن ان تمام پابندیوں کے باوجود آج بلوچستان کے اندر بھر پور پرامن جدوجہد آگے بڑھ رہی ہے۔