لاپتہ کبیر، مشتاق اور عطاء اللہ بلوچ کے لواحقین 12 سالوں سے ان کے واپسی کے منتظر

264
File Photo

بلوچستان کے ضلع خضدار سے جبری طور لاپتہ کبیر بلوچ، مشتاق بلوچ اور عطاء اللہ بلوچ کے لواحقین نے ان کے گمشدگی کو بارہ سال مکمل ہونے پر کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کی۔

اس موقع پر ان کے ہمراہ وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ بھی موجود تھے۔

لواحقین کا کہنا تھا کہ یہ بات بلوچستان کے ہر ایک فرد کے علم میں ہے کہ گذشتہ دو دہائیوں سے بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کا ایک نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہے، سیاسی و سماجی کارکنوں کو صرف اس لئے لاپتہ کیا جاتا ہے کہ وہ شعور رکھتے ہیں، استحصال و جبر کے خلاف بولتے اور لکھتے ہیں، اس پاداش میں ہزاروں افراد گمنام ٹارچر سیلوں میں اپنے ناکردہ گناہوں کی سزا کاٹ رہے ہیں اور کئی نوجوان مسخ شدہ لاشوں کی صورت میں میدانوں، بیابانوں اور سڑکوں سے ملے ہیں۔ ظلم کی تاریخ طویل اور بہت اذیت ناک ہے، جبری الحاق سے لیکر تاحال بلوچ خون آشام تباہ کاریوں کا سامنا کرتے آرہے ہیں۔

وحید بلوچ کے ہمشیرہ کا کہنا کہ تھا کہ ذاتی طور پر میں اور میرا خاندان گذشتہ 12 سال سے درد اور اذیت میں زندگی گزار رہے ہیں، ہم بھی جبری گمشدگیوں اور ٹارگٹ کلنگ کا شکار ہوئے ہیں، میرے بھائی وحید بلوچ کو ان کے ساتھی سلمان کے ہمراہ 29 فروری 2012 کو خضدار میں شہید کیا گیا جبکہ میرے دوسرے بھائی کبیر بلوچ اپنے دو ساتھیوں مشتاق بلوچ اور عطاء اللہ بلوچ کے ہمراہ گذشتہ 12 سال سے لاپتہ ہے، 27 مارچ 2009 کو ان کو خضدار سے جبری طور پر لاپتہ کیا گیا وہ تاحال لاپتہ ہے ان 12 سالوں میں ہم نے انصاف کے تمام اداروں کے دروازوں کو کھٹکھٹایا لیکن ہمیں کئی سے بھی کوئی انصاف نہیں ملا انصاف تو دور کی بات ہے کسی نے دلاسہ بھی نہیں دی۔ کمیشن نے ان کا کیس خارج کیا، جسٹس جاوید اقبال کی کمیشن ایک ڈھونگ ہے جس کو عالمی انسانی حقوق کی اداروں کو گمراہ کرنے کے لئے تشکیل دیا گیا ہے۔

لواحقین کا کہنا تھا کہ کبیر بلوچ، مشتاق بلوچ اور عطاء اللہ بلوچ کو 12 سال کا طویل عرصہ مکمل ہونے پر اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں و حکومت و عدالتوں کی توجہ مبذول کرانے اور ان کی بحفاظت بازیابی کے لئے اقدامات اٹھانے کے لئے اپیل کرنے کے لئے ہم 26 مارچ 2021 کو وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے کیمپ میں علامتی بھوک ہڑتال پر بیٹھیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ 26 مارچ کو ہی شام 6 بجے سے 12 بجے تک ٹیوئٹر پر  #ReleaseBalochMissingPersons ہیش ٹیگ کیساتھ آن لائن کمپین چلائیں گے اور 27 مارچ کو کوئٹہ پریس کلب کے باہر مظاہرہ کرینگے۔ لہذا ہم میڈیا کے توسط سے تمام سیاسی و سماجی پارٹیوں، طلباء و خواتین تنظیموں ٹریڈ یونینز، وکلاء سمیت دیگر مکتبہ فکر کے لوگوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ 26 مارچ کو ایک روزہ علامتی بھوک ہڑتال، شام کو آن لائن کمپین اور 27 مارچ کو مظاہرے میں شرکت کرکے ہمارے پیاروں کی بازیابی کے لئے اپنا اخلاقی و انسانی حق ادا کریں۔