لاپتہ افراد کے لواحقین سے اظہار یکجہتی: بی این ایم کا یورپ میں احتجاجی مظاہرہ

85

بلوچ نیشنل مومنٹ کی جانب سے بلوچستان سے لاپتہ افراد کے لواحقین سے اظہار یکجہتی اور وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے احتجاجی دھرنوں سے اظہار یکجہتی کے لئے یورپی ممالک جرمنی و نیدرلینڈ میں احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔

بی این ایم کی جانب سے جرمنی کے شہر برلن و نیدر لینڈ کے شہر امسٹرڈم میں احتجاجی مظاہروں میں بیرون ملک مقیم بلوچوں اور دیگر انسانی حقوق کے کارکنان نے شرکت کی۔

بی این ایم ترجمان نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ جرمنی مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے بی این ایم جرمنی زون کے جنرل سیکریٹری اصغر علی بلوچ نے کہا کہ انیس سو اڑتالیس سے لیکر آج تک پاکستان بلوچستان میں انسانی حقوق کی پامالی کر رہی ہے ان جرائم میں ایک لوگوں کی جبری گمشدگی ہے قبضہ سے لیکر آج تک پاکستان نے ہزاروں بلوچوں کو تاریک زندانوں میں قید کی ہے اور ان کے بارے میں کسی کو معلومات نہیں دی جارہی ہیں پاکستان عالمی قوانین کے ساتھ اپنے قوانین کی بھی پامالی کر رہی ہے کیونکہ پاکستان کی قانون کے مطابق کسی کو بھی پکڑ کر اڑتالیس گھنٹے میں عدالت میں پیش کرنے کا پابند ہے لیکن ہزاروں لاپتہ بلوچوں میں سے کسی کو بھی پیش نہیں کیا گیا ہے۔ جیسے کہ ڈاکٹردین محمد بلوچ، رمضان بلوچ اور دوسرے ہزاروں بلوچ ہیں۔

جرمنی مظاہرے میں بلوچ ری پبلکن پارٹی کے کارکنان بھی شامل تھے۔

جرمنی زون کے صدر حمل بلوچ نے کہا کہ بلوچ قوم نے ہمیشہ ظالموں کا راستہ روک کر مزاحمت کی ہے، چاہے وہ نوشروان ہو یا سلجوق، لیکن بلوچ نے کسی کی بالادستی قبول نہیں کی ہے، ان کے خلاف مزاحمت کی ہے۔ آج بلوچ قوم اپنی تاریخ کے بدترین دور سے گزر رہی ہے۔ آج پاکستان نے ہزاروں لوگوں کو لاپتہ کیا ہے اور ہزاروں افرادکی مسخ لاشیں پھینکی ہیں۔ آج بچوں کو پتہ نہیں کہ ان کے والد کہاں ہیں؟ ماؤں کو معلوم نہیں کہ ان کے بچے کہاں ہیں؟ عورتوں کو معلوم نہیں کہ بیوہ ہوچکی ہیں یا نہیں؟ لیکن آج نام نہاد فیمنسٹ بھی خاموش ہیں۔ بلوچ عورتیں جو گیارہ، بارہ سالوں سے سڑکوں پر بیٹھی ہیں وہ انہیں نظر نہیں آتی ہیں۔ کہاں ہیں انسانی حقوق اور خواتین کے حقوق کے دعویدار؟ سب ایسے خاموش ہیں جیسے بلوچ کوئی انسان نہیں ہیں۔

مظاہرین سے خطاب میں شہر حسن بلوچ نے کہا کہ بلوچ قوم پاکستانی دہشت گردی کے سامنے اپنی جدوجہد سے دستبردار نہیں ہوگا اور نہ ہی ہم اس وجہ سے دستبردار ہوجائیں گے کہ دنیا ہماری مدد نہیں کر رہی بلکہ پاکستان کی مدد کر رہی ہے۔

بی آر پی کے فواز بلوچ نے کہا کہ پاکستان بے شک ظلم کرے، ہزاروں لاپتہ کرے لیکن ہم اپنی جدودجہد سے دستبردار نہیں ہونگے۔

مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے بی این ایم جرمنی زون کے نائب صدر دوستین بلوچ نے کہا کہ لوگوں کو لاپتہ کرنا نئی بات نہیں ہے۔ پاکستان کئی سالوں سے بلوچوں کو لاپتہ کر رہی ہے۔ انیس سو چہتر میں اسد مینگل اور احمد شاہ کرد کو لاپتہ کیا گیا۔ اسی طرح کئی بلوچ خواتین کو لاپتہ کیا گیا۔ آج بلوچ ہزاروں کی تعداد میں لاپتہ ہیں۔ بلوچستان میں اجتماعی قبریں دریافت ہوئی ہیں۔ توتک کی اجتماعی قبروں سے ایک سو انسٹھ لاشیں برامد ہوئیں۔ کوئی ایسا دن نہیں گزرتا کہ کوئی بلوچ جبری گمشدگی کاشکار نہ ہو رہا ہو۔ لیکن دنیا کی ذمہ دار اداروں اور ملکوں نے اس جانب اپنی آنکھیں بند رکھی ہیں۔ یہی وجہ سے بلوچستان میں انسانی حقوق کی پامالی میں اضافہ ہورہا ہے۔

بلوچ نیشنل مومنٹ نیدرلینڈ کی جانب سے نیدرلینڈ کے دارالحکومت امسٹرڈم میں مظاہرہ کیا گیا۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں لاپتہ افراد کی تصاویر و لواحقین سے اظہار یکجہتی کے لئے بینر اٹھائے رکھے تھے۔

نیدرلینڈ مظاہرین نے عالم اقوام و انسانی حقوق کے اداروں سے بلوچستان میں جبری گمشدگیوں، لوگوں کو ماورائے قانونی گرفتاریوں کو روکنے و پاکستان میں انسانی حقوق کے پامالیوں کے خلاف نوٹس لینے کی اپیل کی ہے۔

یاد رہے چند روز قبل بلوچستان سے ماورائے عدالت گرفتار و گمشدگی کا شکار 13 بلوچ لاپتہ افراد کے لواحقین اسلام آباد میں احتجاجی دھرنے پر موجود تھے- مظاہرین سے یکجہتی کے لئے کراچی کوئٹہ، لاہور سمیت دیگر شہروں میں احتجاجی مظاہرے کئے گئے-

اسلام آباد میں مظاہرین سے پاکستانی حکومت کے جانب سے مذاکرات کے بعد لواحقین نے اپنا دھرنا ختم کردیا تھا تاہم لواحقین کا موقف ہے کہ اگر حکومت اپنا وعدے پورا نہیں کرتی ہے تو وہ پھر سے اسلام آباد میں دھرنا دینگے۔