عمران خان کے پاس جرات نہیں کہ لاپتہ افراد کیلئے اس بلا کے منہ میں ہاتھ ڈالے – اختر مینگل

270

بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ اور رکن پاکستان اسمبلی سردار اختر مینگل نے کہا  کہ پی ڈی ایم کی تحریک کا یہ آخری معرکہ ہے ملک میں جمہوری اداروں کو مضبوط کرنے اور آئین پر عملدرآمد حقیقی جمہوری نظام لانے کیلئے ہم نے اپنی انا اور ضد کی وجہ سے موقع گنوایا تو پھر اس ملک میں ہم سیاست کی بجائے پرچون کی دکان بناکر بیٹھ جائیں۔

انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم استعفوں کے حوالے سے مشترکہ فیصلہ کرئے ہم استعفیٰ دینے کیلئے تیار ہیں کیونکہ استعفیٰ اس لئے جمع نہیں کرائے کہ اسمبلیاں اپنی مدت پوری کریں، سینیٹ الیکشن میں ریٹرننگ آفیسر کو اپنی جادو کی چھڑی سے سات ووٹ مسترد کرنے پر تمغہ امتیاز ملنا چاہیے تھا۔

انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم جن قوتوں کی خلاف اکٹھی ہوئی تھی وہ قوتیں دائرہ اختیار سے ہٹ کر پارلیمنٹ کے اختیارات اور آئین کی خلاف ورزی کررہی ہیں، ہم نے کبھی بھی سرحدوں کی ذمہ داری نہیں اٹھائی ہے۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان کے پاس اتنی جرات نہیں ہے کہ لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے اس بلا کے منہ میں ہاتھ ڈالے  پاکستان پیپلزپارٹی مسلم لیگ (ن) جمعیت علماء اسلام سے رابطے ہوئے ہیں اور مثبت جواب ملا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ ہم ایک پلیٹ فارم پر اکھٹے ہوئے ہیں اس کو پاکستان ڈیموکریٹک پارٹی کا نام دیا جارہاہے ہے ہم کس مقاصد کیلئے اس تحریک میں آرہے ہیں نہ ہم کسی رتبے کیلئے اور نہ ہی کسی عہدے کیلئے اس تحریک میں شامل ہوئے ہیں تمام سیاسی پارٹیاں ایک اہم مقصد یا گریٹر مقصد کیلئے اکھٹے ہوئے ہیں میرا خیال میں اس کے مقابلے میں فائدے رتبے ہمارے لئے اہمیت نہیں رکھتی ہے اور دیکھا جائے تو پہلے ہم پاکستان تحریک انصاف کے اتحادی تھے وہاں بھی ہم نے رتبے عہدے اور وزارتوں کی آفرز بھی تھی لیکن ہم نے سب کچھ چھوڑ کر پی ڈی ایم میں آگئے۔ تمام سیاسی جماعتوں کی کوششوں سے ایک پلیٹ فارم بنایا۔

اختر مینگل نے کہا کہ بلوچستان نیشنل پارٹی کی آخری وقت تک کوشش رہے گی کہ کسی رتبے یا عہدے کیلئے ان اہم مقاصد کو روندا نہ جائے اس وقت سینیٹ الیکشن کے موقع پر ہماری پوزیشن واضح تھی اور آنے کا کوئی سوال ہی نہیں تھا اللہ عمر دراز دے اسی ریٹرننگ آفیسر کو جس نے اپنی جادو کی چھڑی سے سات ووٹوں کو مسترد کردیا ویسے ایک یا دو ووٹ مسترد ہوسکتے تھے سات کے سات اکھٹے مسترد کرنے سے میرے خیال میں 23مارچ کو ریٹرننگ آفیسر کو تمغہ امتیاز ملنا چاہیے تھا۔ انہوں نے کہا کہ عہدے چاہے اپوزیشن لیڈ ر کا ہو یا سینیٹ کا ہو ہم نے اپنا جدوجہد کاٹارگٹ رکھا ہوا ہے جس کیلئے ہم کہتے ہیں کہ جان ومال سب قربان کردینگے تو پھر یہ عہدے ہمارے لئے کوئی اہمیت نہیں رکھتے ہیں اور نہ ہی رکھنا چاہیے ہم ملک میں آئین کی بالادستی آئین کی حکمرانی اور عدم مداخلت ہونے کی جو ذمہ داریاں اٹھائی ہوئی ہے کہ اس مقصد کو ہم پورا کرینگے اس میں ہم نے بہت کچھ قربان اور کھونا بھی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کچھ ایسی باتیں بھی ہوتیں ہیں جو کہ ہم میڈیا میں نہیں بول سکتے ہیں سیاسی جماعتوں کے اندر اختلاف رائے ضرور ہوتا ہے لیکن وہ میڈیا کی زینت نہیں بنتی ہے آج کل ہماری میڈیا نے پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں کے درمیان اختلاف رائے پر میڈیا جھلتی پر تیل چھڑک رہی ہے ہماری کوشش ہے کہ میرے جملوں سے کوئی متاثر نہ ہو ں پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں میں جس سے غلطی ہوئی ہے وہ دوبارہ نہیں دہرایا جائے میری پاکستان پیپلزپارٹی کے صدر آصف علی زرداری جمعیت علماء اسلام کے مولانا فضل الرحمن مسلم لیگ (ن) کے میاں نواز شریف سے ان ڈائریکٹ بات چیت ہوئی ہے اور میں نے یہ گزارش کی ہے کہ اپنے ترجمان ایک رکھیں اور جو ذمہ دار ہو بدقسمتی یہ رہی ہے میں کسی ایک پارٹی کو نہیں کہہ رہا ہوں اگر پی ڈی ایم کہتی ہے آج استعفیٰ دے اور اجتماعی فیصلہ جو بھی ہو ہم تیار ہے اور سب کیلئے قبول ہونا چاہیے ہم سب نے اپنے استعفیٰ جمع کرائیں ہے وہ کیوں جمع کرائے گئے تھے۔ اسمبلیوں کی مدت پوری ہونے کیلئے جمع نہیں کرائے گئے ہیں۔ ہاں ٹائم میں فرق آسکتا ہے لیکن ہمیں اس سلیکٹیڈ حکومت کیخلاف استعفیٰ دینے ہونگے یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ ہم لڑنا چاہتے ہیں یہ تو ہم بلوچستان کے لوگوں پر الزام تھا کہ وہ ہمیشہ لڑنے کی بات کرتے ہیں لیکن یہ حقیقت ہے کہ لڑنے والے ہم نہیں ہے ہم کبھی لڑنا نہیں چاہتے تھے لیکن ہم سرجکا نا بھی نہیں چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم کسی کے اختیارات میں مداخلت نہیں کرنا چاہتے ہیں اور نہ ہی ہم نے مداخلت کی ہے اور زندگی بھر ہم نے بلوچستان کے سائل وسائل حق وحاکمیت کی جدوجہد کرتے آرہے ہیں جب ہم بلوچستان کے حقوق کیلئے حق مانگتے ہیں تو غداری کا لقب دیا جاتا ہے اور جدوجہد کو جنگ کہا جاتا ہے یہ پاکستان کی سیاسی ڈکشنری میں آچکے ہیں جس سے ہم پیچھے نہیں ہٹ سکتے ہیں یہ جدوجہد پارلیمنٹ اور ڈی چوک سمیت ہر فورم پر کرسکتے ہیں انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم جن قوتوں کے خلاف اکھٹی ہوئی ہے وہ قوتیں اپنے دائرہ اختیار سے ہٹ کر وہ پارلیمنٹ کے اختیارات اور آئین کی خلاف ورزی کررہے ہیں ہم نے کبھی آئین کی خلاف ورزی نہیں کی ہے اور ہم نے کبھی بیرکوں اور سرحدوں کی ذمہ داری نہیں اٹھائی ہے کہ ہم سرحدوں کی حفاظت کرینگے پارلیمنٹ اور حکومت کو چلانا یہ سیاسی جماعتوں کی ذمہ داری ہے پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں میں اختلافات ضرور ہوتے ہیں بلوچستان نیشنل پارٹی نے پیپلزپارٹی مسلم لیگ (ن) جمعیت علماء اسلام کے قائدین سے رابطے کیے ہیں اور مثبت جواب ملا ہے اور امید ہے اختلافات رائے ختم ہوجائینگی۔

انہوں نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر کیلئے کسی ایک پارٹی کو کڑوا گھونٹ پینا پڑے گا اور متنازعہ تقریروں کو حل کی طرف لے جارہاہوں۔ جدوجہد ملک کے اندر اور باہر بھی چل سکتے ہے میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ میاں نواز شریف کو کب آنا چاہیے جب وہ حالات کو سازگار اور صحت کو ٹھیک سمجھیں گے توپاکستان آنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم کی تحریک کا آخری معرکہ ہے ملک میں جمہوری اداروں کو مضبوط کرنے کیلئے اور آئین پر عملدرآمد حقیقی جمہوری نظام لانے کیلئے اس بار ہم نے اپنا انا اور ضد کی وجہ سے موقع گنوایا تو پھر ہم اس ملک میں سیاست کی بجائے پرچون اسٹور بناکر بیٹھ جائیں انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت سنجیدہ ہوتی تو ہمارے نکات کو سنجیدہ لیتے اور حکومت کو پتہ ہے کہ لاپتہ افراد کتنے ہیں اور کہاں ہیں ان کی جرت نہیں ہے کہ وہاں تک پہنچنے کیلئے وزیراعظم عمران خان کو جرت ہوتی تو مجھے آرمی چیف کی طرف لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے نہیں بھیجتے۔ ہماری حکومت سے علیحدگی کے بعد ان کو اختیارات ملے ہوں شائد مجھے نہیں لگتا کہ کسی بھی وزیراعظم کو اتنے اختیارات ملے ہوں کہ لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے اس بلا کی منہ میں ہاتھ ڈال کر لاپتہ افرادکو بازیاب کرے۔