پاکستان کشمیر کے لیے حق خودارادیت کی وکالت سے بلوچستان میں اپنے جنگی جرائم کی پردہ پوشی کرنا چاہتا ہے۔مرکزی ترجمان بی این ایم

105

 

بلوچ نیشنل موومنٹ کے مرکزی ترجما ن نے اقوام متحدہ میں پاکستانی مندوب منیر اکرم کی طرف سے سیکورٹی کو نسل کے
حالیہ اجلاس میں کشمیریوں کی حق خودارادیت کیلئے مسلح جدوجہد سمیت جدوجہد کے تمام ذرائع کی حمایت اور وکالت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستانی مندوب نے سیکورٹی کونسل میں یہ ظاہرکرنے کی کوشش کی ہے کہ ان کا ملک حق خود ارادیت کے عالمی اصولوں پر یقین رکھتاہے۔ وہ اسی تناظرمیں کشمیریوں کی جدوجہد برائے حق خود ارادیت کی حمایت کرتاہے لیکن یہ پاکستان کا وہ چہرہ ہے جو کہ وہ دنیا کو دکھاتاہے، جبکہ پاکستان کا حقیقی چہرہ اس کے برعکس اور انتہائی بھیانک ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک طرف پاکستان نے اقوام متحدہ میں حق خودارادیت کے لیے مسلح جدوجہد کی حمایت کی ہے، دوسری طرف پاکستان سیکورٹی کی آڑ میں مقبوضہ بلوچستان میں اپنے جنگی جرائم کی پردہ پوشی کی ناکام کوشش کر رہاہے۔ پاکستان بلوچ قومی تحریک آزادی کو کچلنے کے لئے نہ صرف عالمی قوانین کو روند رہی ہے بلکہ تاریخ کے بدترین جنگی جرائم کا ارتکاب کر رہا ہے۔ پاکستانی فوج اور خفیہ اداروں کے ہاتھوں بلوچ نسل کشی اپنے عروج پر ہے۔ بلوچ قوم کو اپنی آزادی کی جدوجہد سے دستبردار کرنے کے لئے پاکستان بلوچ آزادی پسندوں اور عوام کو اجتماعی سزا کا نشانہ بنا رہا ہے۔ اس سے بلوچ وطن میں باقاعدہ ایک انسانی بحران جنم لے چکی ہے۔

ترجمان نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ اقوام متحدہ میں پاکستانی مندوب منیر اکرم کی باتیں ریاستی پالیسی کے دوغلے پن کو ظاہر کرتی ہیں۔ کیونکہ ایک جانب پاکستان جموں و کشمیر کیلئے حق خودارادیت کے مطالبے اور مسلح جدوجہد کو جائز قرار دے کر اس کی حمایت کرتا ہے، دوسری جانب بلوچ قومی تحریک آزادی کو دہشتگردی قرار دے کر مقبوضہ بلوچستان کے آزادی کی مخالفت کرتی ہے۔ حتیٰ کہ پاکستانی اپنے زیر قبضہ کشمیر کے عوام کی حق خودارادیت اور آزادی کے مطالبے کی شدید مخالفت کرتی ہے۔ کشمیری آزادی پسند صحافی تنویر بٹ کی گرفتاری اور اس پر مقدمات پاکستانی منافقت کا ثبوت ہے۔ اقوام متحدہ کو چاہیئے کہ کشمیر کی خودارادیت پر پاکستانی مندوب کو تقریر کی اجازت دینے کے ساتھ ساتھ بلوچستان میں قومی آزادی کے لئے برسرپیکار ہزاروں لوگوں کی جبری گمشدگیوں اورحراستی قتل جیسے واضح جنگی جرائم پر پاکستان کو جوابدہ بناتا، کیونکہ یہ نہ صرف بلوچ کی موت و زیست کا مسئلہ ہے بلکہ اقوام متحدہ کی ساکھ کا بھی مسئلہ ہے۔

انہوں نے کہا جس وقت پاکستانی مندوب اقوام متحدہ جیسے دنیاکے سب سے بڑے پلیٹ فارم پر حق خودارادیت کی تقریر جھاڑ رہا تھا، عین اسی وقت بلوچستان کے طول و عرض میں پاکستانی فوج درندگی و حیوانیت کے تمام حدود کو پار کر رہا تھا۔ یہ پاکستان کی منافقت اور دہرے معیار کی واضح نشانی ہے۔اس پر اقوام متحدہ کو فوری نوٹس لینا چاہئے اور اپنے چارٹر کے مطابق اسے بلوچ قومی تحریک آزادی کی بھرپور حمایت اور مدد کرنا چاہیئے۔

انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی قا نون کے مطابق بلوچ قوم نے انیس سو اڑ تالیس کو اپنے پارلیمان کے دونوں ایوانوں میں رائے دہی کے ذریعے پاکستان کے ساتھ الحاق کو مسترد کیا تھا لیکن پاکستان نے بلوچ جمہوری اداروں کے فیصلے کو روندتے ہوئے بندوق کی نوک پر بلوچستان پر قبضہ کیا۔ اسی دن سے بلوچ قوم پر آزادی کی مانگ کے عوض ظلم و بربریت کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بلوچ قوم پاکستانی قبضہ گیریت کے خلاف آج بھی قومی آزادی کی جدوجہد کرتے ہوئے اپنی منزل کی جانب رواں ہے۔ اس تحریک کو کچلنے کے لیے پاکستان زمینی اور فضائی طاقت کابے تحاشہ استعمال کر رہی ہے۔ اقوام متحدہ کے مختلف فورمز میں دوسروں کے خلاف جھوٹے دعوے کرکے پاکستان اپنے آپ کو بری الذمہ کر نے کی ہزار جتن کرے لیکن پاکستان کے جرائم تاریخ کے صفحات پر درج ہورہے ہیں۔

ترجمان نے کہا کہ اقوام متحدہ اور عالمی قوتوں کو پاکستان کی منافقت اور بلوچستان میں انسانی بحران کا ادراک کرکے فوری طور پر مداخلت کرنا چاہیئے۔