پاکستانی مندوب کا کشمیر کے لئے مسلح جدوجہد کو جائز قرار دینا پاکستان کی دہرا معیار کا واضح ثبوت ہے- ڈاکٹراللہ نذر بلوچ

222

بلوچ آزادی پسند رہنماء ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ نے کہا کہ پاکستان کے مندوب منیر اکرم کی جا نب سے اقوام متحدہ میں کشمیر کی حق خود ارادیت کیلئے تمام ذرائع بشمول مسلح جدوجہد کی حمایت پاکستان کی دہرا معیار، منافقت اور دوغلے پن کی ایک اور واضح ثبوت ہے۔ پاکستان کس قانون یااخلاقیات کی بنیاد پر کشمیر کے لئے مسلح جدوجہد کی وکالت کر رہا ہے، جبکہ وہ خود تہترسالوں سے بلوچ وطن پر قابض اور بین لاقوامی قوانین کے عین مطابق جاری بلوچ قومی تحریک آزادی کو کچلنے کے لئے دہشت گردی و جنگی جرائم کا ارتکاب کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا پاکستان کے ہر مسئلے پر موقف متضاد اور عالمی اصولوں کے خلاف ہے۔ایک طرف آدھے کشمیر پر قابض ہے تو دوسری جانب کشمیرکے رضاکارانہ الحاق کے خلاف اپنی پراکسی جنگ کوجائز قرار دینے کے لئے چیخ و پکار کر رہا ہے۔ بلوچستان پر قبضہ کے بعد بلوچ قومی تحریک آزادی جس کا ایک جزو مسلح جدوجہد ہے، کو دہشت گردی قرار دینے کے لئے پاکستان دنیا کا ہر فورم استعمال کرتا چلا آیا ہے۔ لیکن پاکستان کی ایسی تمام کوششیں رائیگاں ثابت ہوئی ہیں۔ عالمی برادری اور عالمی میڈیا میں آج تک بلوچ جدوجہد آزادی اور دہشت گردی میں واضح فرق نظر آ رہا ہے۔

بلوچ رہنماء نے کہا کہ بلوچ قوم اپنی قومی آزادی کے حصول کیلئے تہتر سالوں سے پاکستان جیسے غیرفطری ریاست کے خلاف برسرپیکار ہے اورپاکستان کے خلاف مسلح جدوجہد کا راستہ اختیار کرنا ہماری قومی ضرورت اور عصری تقاضا ہے۔ پاکستان انسانی و قومی اقدارسے عاری ایک غیر فطری اور دہشت گردی ریاست ہے، اگربلوچ قوم مسلح جدوجہد کا راستہ اختیار نہیں کرتا تو اس وقت پاکستان ہماری پاؤں کے نیچے ہماری دھرتی کھینچ لیتا اور ہم اپنی سرزمین پر ریڈانڈین سے بھی بدتر حالات سے دوچار ہوتے۔

ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ نے کہا کہ اقوام متحدہ میں پاکستانی مندوب منیر اکرم نے قومی آزادی کیلئے مسلح جدوجہد کو اقوام متحدہ کے قرار داد کے مطابق جائز قرار دیکر ہمارے موقف کی تائید کی ہے۔ اب اقوام متحدہ کو بھی چاہئے کہ وہ بلوچستا ن کی آزادی کیلئے ہماری مدد کرے کیو نکہ خطے اور دنیا میں امن و خوشحالی کے راستے آزاد بلوچستان سے ہوکر گزرتے ہیں۔

انہوں نے کہا عالمی قوتوں کو اپنی طویل المدتی پالیسیوں پر نظرثانی کرکے نہ صرف بلوچ بلکہ سندھی اورپختون قوم کی آزادی کی حمایت کے لئے واضح روڈمیپ تیار کرنا چاہئے۔ بصورت دیگر پاکستان کی دہشت گردی، پراکسی جنگیں اور دہشت گردوں کی ایکسپورٹ و امپورٹ جاری رہے گا اور اس خطے میں امن محض ایک خواب ثابت ہوگا۔