میانمار میں فوجی بغاوت، آنگ سان سوچی گرفتار

63

میانمار کی فوج نے برسر اقتدار جماعت نیشنل لیگ آف ڈیموکریسی (این ایل ڈی) کی رہنماء آنگ سان سوچی اور دیگر رہنماؤں کی گرفتاری کے بعد ملک کا کنٹرول سنبھالنے کا تصدیق کر دی ہے۔

یہ بغاوت انتخابات کے بعد سویلین حکومت اور فوج کے مابین کشیدگی کے نتیجے میں ہوئی ہے۔

آنگ سان سوچی اور دیگر رہنماؤں کی گرفتاری کے چند گھنٹے بعد میانمار کی فوج نے ٹی وی پر اس بات کی تصدیق کی کہ وہ ایک سال کے لیے ہنگامی حالت کا اعلان کر رہی ہے۔

فوج نے کہا ہے کہ وہ کمانڈر ان چیف من آنگ ہلاینگ کو اختیارات سونپ رہی ہے۔

واضح رہے کہ ملک میں نومبر میں ہونے والے انتخابات میں این ایل ڈی نے حکومت بنانے کے لیے درکار نشستیں حاصل کر لی تھیں تاہم فوج انتخابات کے نتائج کو تسلیم نہیں کرتی۔

یاد رہے کہ میانمار جسے برما بھی کہا جاتا ہے، پر سنہ 2011 تک فوج کی حکومت رہی ہے۔

پارلیمنٹ کے نو منتخب ایوان زیریں نے آج یعنی پیر کے روز پہلا اجلاس کرنا تھا لیکن فوج نے التوا کا مطالبہ کر رکھا تھا۔

اس سے قبل آج آنگ سان سوچی کی جماعت کے ترجمان میو نیونٹ نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو فون پر بتایا کہ آنگ سان سوچی، صدر ون مائنٹ اور دیگر رہنماؤں کو صبح سویرے ’حراست‘ میں لے لیا گیا ہے۔

یہ بتاتے ہوئے کہ انھیں بھی گرفتار کیا جا سکتا ہے، میو نیونٹ نے کہا ’میں اپنے لوگوں سے کہنا چاہتا ہوں کہ عجلت میں ردعمل کا اظہار نہ کریں اور میں چاہتا ہوں کہ وہ قانون کے مطابق کام کریں۔‘

بی بی سی کے جنوب مشرقی ایشیا کے نمائندے جوناتھن ہیڈ کا کہنا ہے کہ دارالحکومت نیپئٹا اور مرکزی شہر ینگون کی سڑکوں پر فوجی موجود ہیں۔

ملک کے اہم شہروں میں ٹیلیفون اور انٹرنیٹ سروس منقطع کر دی گئی ہے جبکہ میانمار کے ریاستی نشریاتی ادارے ایم آر ٹی وی کا کہنا ہے کہ انھیں تکنیکی مسائل کا سامنا ہے اور وہ آف ایئر ہے۔

وزارئے اعلیٰ کے خاندانوں کے مطابق فوجی اہلکاروں نے متعدد علاقوں میں ان کے گھروں کا بھی دورہ کیا اور انھیں لے کر چلے گئے ہیں۔

واضح رہے کہ سنیچر کو میانمار کی مسلح افواج نے آئین کی پاسداری کا وعدہ کیا تھا کیونکہ ملک میں اس بارے میں خدشات بڑھ رہے تھے کہ فوج بغاوت کی تیاری کر رہی ہے۔