مغربی بلوچستان میں بے چینی – ٹی بی پی اداریہ

203

مغربی بلوچستان میں بے چینی

دی بلوچستان پوسٹ اداریہ

قدرتی وسائل سے مالا مال ہونے کے باوجود بلوچستان کے عوام غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گذارنے پر مجبور ہیں، جس کی سب سے بڑی وجہ دہائیوں سے جاری استحصال اور بدانتظامی ہے۔

بیروزگاری کی بڑھتی شرح کی وجہ سے بلوچ نوجوان، جن میں سے کئی اعلی جامعات سے فارغ التحصیل ڈگری یافتہ ہیں، تیل کی سمگلنگ کے کاروبار پر مجبور ہیں تاکہ وہ اپنے گھر کا چولہا جلائے رکھ سکیں۔ حکام اس کاروبار کو “سمگلنگ” کا نام دیتے ہیں، لیکن گولڈ سمڈ لائن کے اطراف آباد بلوچوں کیلئے یہ آمدن کا واحد ذریعہ ہے، جس کے بغیر شدید غربت اور بیروزگاری کی وجہ سے لوگ فاقوں پر مجبور ہوجائیں گے۔

اس تیل کی ترسیل “گولڈ سمڈ لائن” سے ہوتی ہے۔ یاد رہے گولڈ سمڈ لائن بلوچوں کی تاریخی سرزمین کو دو حصوں، مشرقی بلوچستان جو پاکستانی انتظام کے ماتحت ہے اور مغربی بلوچستان جو ایرانی انتظام کے ماتحت ہے میں کاٹتی ہے۔ تاہم بلوچوں کی اکثریت، خاص طور پر بلوچ قوم پرست بلوچستان کی اس تقسیم اور گولڈ سمڈ لائن کی حیثیت کو تسلیم نہیں کرتے، اسی لیئے اس لائن کے دونوں اطراف “عظیم تر آزاد بلوچستان” کیلئے دہائیوں سے مزاحمت جاری ہے۔

اس لائن کے گرد آباد ہزاروں گھرانے، تیل کے ترسیل کے خطرناک کاروبار سے جڑے ہوئے ہیں، جو انکی واحد آمدنی ہے۔ باوجود اسکے کہ ہمیشہ سے ہی تیل کے کاروبار سے جڑے ان بلوچوں کو دونوں اطراف پاکستانی اور ایرانی سیکورٹی فورسز کی جانب سے تذلیل کا سامنا رہتا ہے۔ حالانکہ یہ شکایات عام ہیں کہ سیکیورٹی فورسز ان کاروباری افراد سے بھاری رقم رشوت اور بھتے کی صورت زبردستی وصول کرتے ہیں۔ لیکن اسکے باوجود تنگ کرنے کا سلسلہ نہیں روکا جاتا۔

22 فروری کو اسی طرح کے ایک واقعے میں ایرانی سرحدی علاقے حق آباد اور پاکستانی سرحدی علاقے پروم کے بیچ دو دنوں تک ہزاروں کی تعداد میں کاروباری حضرات غیر اعلانیہ بارڈر بندش کی وجہ سے پھنس گئے تھے۔ مختصر دورانیوں کیلئے سرحد بندش معمول کی بات ہے لیکن دو دنوں تک ویرانے میں اس طویل بندش کی وجہ سے لوگوں کے خوردونوش کے سامان ختم ہوگئے، جس کی وجہ سے کاروباری حضرات جمع ہوکر احتجاج کرنے لگے۔

لیکن اس جائز احتجاج کو ایرانی فوج نے آہنی ہاتھ سے دبانے کا فیصلہ کرتے ہوئے مظاہرین پر سینکڑوں گولیوں کی بوچھاڑ کردی، جسکے نتیجے میں مشرقی و مغربی بلوچستان سے تعلق رکھنے والے کم از کم ایک درجن بلوچ موقع پر ہی جانبحق، جبکہ متعدد زخمی ہوگئے۔ بعض ذرائع جانبحق افراد کی تعداد کئی گنا زائد بتاتی ہے لیکن میڈیا بندش کی وجہ سے درست اعدادوشمار تک رسائی حاصل نہیں ہوپایا ہے۔

اس بربریت کے بعد مختلف شہروں میں فسادات اور پرتشدد احتجاجات کا سلسلہ پھوٹ پڑا، جہاں سڑکیں بلاک کی گئیں، ایرانی افواج کی گاڑیاں اور چوکیاں نذرِ آتش کی گئیں۔ منگل کے روزاحتجاجیوں نے سراوان کے گورنر کے دفتر پر ہلہ بول دیا۔ احتجاجوں کا سلسلہ بدھ اور آج جمعرات کو بھی جاری رہی۔

گولڈ سمڈ لائن کے دونوں اطراف آباد بلوچوں اور خاص طور پر بلوچ قوم پرست جماعتوں نے اس واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ بلوچ نیشنل موومنٹ ( بی این ایم) جو مشرقی بلوچستان کی ایک قوم پرست جماعت ہے نے اس واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ” معصوم لوگوں پر بارڈر فورسز کی فائرنگ کھلی بربریت اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ ملوث عناصر کو فوری سزا دی جائے۔”

دریں اثنا مغربی بلوچستان کے ایک بااثر شخصیت اور دارلعلوم سیستان و بلوچستان کے سربراہ مولانا عبدلحمید نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ معصوم کارباری حضرات کا ایرانی فورسز کے ہاتھوں قتل قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

حالیہ واقعہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں ہے، گولڈ سمڈ لائن سے ملحقہ آباد علاقوں کے لوگ دہائیوں سے ایسے مظالم کی شکایات کررہی ہیں۔ خاردار تار لگا کر ہزاروں خاندانوں کو تقسیم کیا جارہا ہے، صدیوں سے جو لوگ رشتہ داری کرنے جاتے تھے اب انہیں اپنے رشتہ داروں سے ملنے تک کیلئے مارپیٹ اور بے عزتی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

دونوں اطراف کے فورسز کی رویوں نے ان علاقوں میں بلوچستان کی آزادی کے حصول کے جذبات میں مزید اضافہ کیا ہے۔ متعدد مسلح و غیر مسلح جماعتیں سرحد کے دونوں اطراف بلوچستان کی آزادی کیلئے جدوجہد کررہے ہیں اور انکی مقبولیت میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے۔ یہ مزاحمتی تنظیمیں دونوں ممالک ایران اور پاکستان سے آزادی کا مطالبہ کرتے ہیں۔

مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ کارباری حضرات کو محض ایرانی افواج کے ہزیمت کا ہی سامنا نہیں بلکہ پاکستانی افواج بھی ماضی میں متعدد بار لوگوں پر فائرنگ کرکے متعدد افراد کو قتل کرچکے ہیں۔

انسانی حقوق کی متعدد تنظیموں نے یہ اپیل کی ہے آزاد عالمی تحقیقاتی اداروں کو مذکورہ علاقے میں رسائی دی جائے تاکہ وہ اس واقعے کی تحقیقات کرسکیں۔

بلوچ صدیوں سے اس سرزمین کے مالک رہے ہیں، انہیں اپنے ہی سرزمین پر دوسرے درجے کی شہری بنانے کے نتائج سود مند ثابت نہیں ہونگے۔