سی پیک کے تحفظ کیلئے پاکستانی فوج کاخصوصی طور پر دو نئے ڈویژن کا اضافہ

275

پاکستان کی فوج نے تصدیق کی ہے کہ اس نے دو نئے ڈویژن حجم کے سیکیورٹی دستوں کو اکٹھا کیا ہے جو مکمل طور پر بلوچستان میں ملٹی بلین چائنا پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) منصوبوں کی حفاظت کے لئے مقرر ہے۔ یہ نیم فوجی دستوں کے یونٹوں کو ایک سے بڑھا کر دو کرنے کے علاوہ ہے۔

چین کو سیکیورٹی بڑھانے کی یقین دہانی بلوچ مسلح پسند آزادی پسند تنظیموں کی جانب سے سی پیک سے منسلک منصوبوں پر بڑھتے ہوئے حملوں کے باعث کی گئی۔ جمعرات کو ایسے ہی ایک حملے میں، ضلع خضدار میں سی پیک پروجیکٹ پر کام کرنے والی تعمیراتی کمپنی کے ایک گاڑی کو بم حملے میں نشانہ بنایا گیا۔ اس حملے کی ذمہ داری بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے قبول کی تھی، جو خطے میں چینی اور پاکستانی مفادات پر متعدد حملے کرچکا ہے۔

پاکستان فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر، میجر جنرل بابر افتخار نے چینی خبر رساں ایجنسی ژنہوا کو بتایا ہے کہ “ہم نے دو ڈویژن حجم کی سیکیورٹی دستوں کو تعینات کیا ہے جو سی پیک کو سیکیورٹی فراہم کرنے کے لئے وقف ہیں، اس کے علاوہ، سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لئے صوبے میں نیم فوجی دستوں کے یونٹوں کی تعداد کو ایک سے بڑھا کر دو کردیا گیا ہے۔

سنہوا کے مطابق سی پیک منصوبوں کو زیادہ سے زیادہ تحفظ فراہم کرنے اور پورے خطے میں سیکیورٹی بڑھانے کے لئے حالیہ اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔

اس سے قبل مصدقہ ذرائع سے خبر سامنے آئی تھی کہ پاکستان فوج کی جانب سے بلوچستان میں بڑے پیمانے پر نقل و حرکت میں اضافہ کیا ہے جس کے باعث شدید نوعیت کے آپریشن کا خدشہ ہے۔ اطلاعات کے مطابق فوجی کارروائیوں کا مقصد چائنا پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) منصوبے کو تحفظ فراہم کرنا اور بلوچ آزادی پسندوں کی جانب سے فوج پر حملوں میں حالیہ اضافے کو روکنا ہے۔ فوجی آپریشن کا فیصلہ مکران کے علاقوں میں پاکستان فوج اور سی پیک روٹ پر تنصیبات پر حالیہ حملوں اور بی ایل اے کی جانب سے بلوچستان کے علاقے بولان اور کاہان میں فوجی کیمپوں پر شدید نوعیت کے حملوں کے بعد کیا گیا ہے۔

بی ایل اے کی مجید بریگیڈ بھی خطے میں چینی مفادات پر چار خودکش حملے کرچکی ہے۔ اگست 2018 میں دالبندین میں چینی انجینئروں کو لے جانے والی ایک بس پر بی ایل اے نے حملہ کیا۔ اس کے بعد نومبر 2018 میں کراچی میں چینی قونصل خانے پر ایک اور خودکش حملہ ہوا۔ مئی 2019 میں گوادر میں چینی نمائندوں پر چار ستارہ ہوٹل میں ایک شدید نوعیت کا حملہ کیا گیا۔ اس کے بعد کراچی میں پاکستان کے اسٹاک ایکسچینج پر بھی بی ایل اے کے مجید بریگیڈ نے ایک اور حملہ ہوا جہاں چین تقریبا 50 فیصد حصص کا مالک ہے۔ ان حملوں میں درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔

پچھلے ہفتے کے آغاز میں ایک اور مسلح تنظیم بلوچستان لبریشن فرنٹ کے رہنماء ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ نے بھی چین کو خبردار کیا تھا کہ وہ بلوچستان میں اپنی سرگرمیوں سے دستبردار ہوجائے۔ ایک ویڈیو پیغام میں بلوچ رہنماء نے کہا کہ بلوچ کبھی بھی چین کو ہمسایہ ممالک کے خلاف فوجی مقاصد کے لئے بلوچ کے ساحل کو استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ میں چین سے کہنا چاہتا ہوں کہ بلوچ قوم کبھی بھی اجازت نہیں دے گی کہ آپ اپنے مالی مفادات کے ساتھ ساتھ، بلوچستان کے گرم پانیوں کے ذریعے پڑوسی ممالک سمیت پوری دنیا کے لئے خطرہ بن کر فوجی مقاصد کے لئے بلوچ ساحل کو استعمال کرے۔