بلوچستان: وسیع پیمانے پر آپریشن کے خدشات، شیخ رشید کی آئی جی ایف سی سے ملاقات

300

پاکستان کے وزیر داخلہ شیخ رشید کا بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں آئی جی ایف سی سے ملاقات کے بعد بلوچستان میں وسیع پیمانے پر شدید نوعیت کے آپریشن کے امکانات کو تقویت مل رہی ہے۔

اتوار کے روز وفاقی وزیر شیخ رشید احمد نے ہیڈ کوارٹر فرنٹیئر کور بلوچستان کا دورہ کیا اور آئی جی ایف سی نارتھ میجر جنرل محمد یوسف مجوکہ سے ملاقات کی۔

وزیر داخلہ کو بلوچستان میں آپریشنل تیاریوں، سرحدوں کی نگرانی اور امن وامان پر تفصیلی بریفننگ دی گئی۔

اس موقع پر شیخ رشید کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں امن کو ہر صورت یقینی بنانے کے لئے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے۔ نیشنل ایکشن پلان کے تمام نکات پر مکمل عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے گا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ امن و امان کو بہتر بنانے کے لیے بین الصوبائی رابطہ کو مزید بہتر بنایا جائے گا۔

خیال رہے قبل ازیں وزیر داخلہ نے گوادر کا دورہ کرنے کے بعد جمعہ کے روز ایران سے متصل تفتان سرحد کا دورہ کیا تھا۔

وزیر داخلہ کے کوئٹہ میں آئی جی ایف سی سے ملاقات کے بعد بلوچستان میں وسیع پیمانے پر شدید نوعیت کے آپریشن کے امکانات کو تقویت مل رہی ہے۔

گذشتہ دنوں باوثوق ذرائع سے اطلاعات تھی کہ پاکستان کے اعلیٰ سطحی عسکری اداروں نے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں ایک وسیع اور شدید نوعیت کے فوجی آپریشن کے آغاز کا فیصلہ کیا ہے۔  آپریشن کا فیصلہ سی پیک روٹ پر ہونے والے متعدد حملوں کے بعد پاکستان چین اقتصادی راہداری منصوبے کو تحفظ فراہم کرنے اور بولان و گردونواح میں فورسز پر حالیہ شدید حملوں کے بعد لیا گیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق نئے منصوبے کے تحت بلوچستان میں پہلے سے جاری آپریشنوں کے سلسلے میں تیزی اور وسعت لائی جائے گی۔ اس شدید نوعیت کے آپریشن کا دائرہ کار بلوچستان کے مکران، بولان، کوہلو اور قلات ریجن بتائے جاتے ہیں۔

خیال رہے نئے سال کے آغاز سے لیکر اب تک بلوچستان کے ضلع بولان، ہرنائی، کوہلو، سبی، مستونگ، کیچ اور آواران کے مختلف علاقوں میں مختلف اوقات میں آپریشن کی جاچکی ہے۔ مذکورہ علاقوں میں آپریشن کے دوران گن شپ ہیلی کاپٹر بھی حصہ لیتے رہے ہیں۔

مذکورہ علاقوں میں آپریشن کے حوالے سے عسکری حکام نے کوئی موقف پیش نہیں کیا۔

سال 2017 میں بلوچستان میں “سوات طرز فوجی آپریشن” کی باتیں سامنے آئی تھی۔ اس حوالے سے تربت میں پاکستانی فوج کے اعلیٰ افسران، وزیر اعلیٰ ثناء اللہ زہری اور دیگر حکام کے درمیان اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوئی تھی، جس میں اس بات کا فیصلہ کیا گیا ہے کہ سوات طرز کا فوجی آپریشن ہی سیکورٹی کے تمام خطرات کا حتمی حل ہے جو چینی فنڈڈ اربوں ڈالروں کے منصوبے سی پیک کو لاحق ہیں۔

اس اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ مسلح گروہوں کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات کے عمل کو فوری طور پر روک دیا جائے گا اور بڑے پیمانے پر ‘گرینڈ آپریشن’ شروع کیا جائے گا۔

بعدازاں مکران، آواران، بولان سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں میں آپریشنوں میں تیزی دیکھنے میں آئی تھی تاہم حکام نے “سوات طرز” آپریشن کے حوالے سے رپورٹ کی تصدیق یا تردید نہیں کی۔