ایرانی فورسز کی فائرنگ سے بلوچوں کی شہادت قومی سانحہ ہے – بی ایس او آزاد

213

‎بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آزاد کے مرکزی ترجمان نے ایرانی بارڈر فورس کی فائرنگ سے 10 سے زائد بلوچوں کی شہادت اور درجنوں کے زخمی ہونے پر غم و رنج کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اِس طرح کے اندوہناک عمل بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ بلوچستان میں عام انسانوں کی حالتِ زندگی ابتر سے ابتر ہوتی جا رہی ہے، جنگ زدہ بلوچستان سے لیکر دنیا کے کسی بھی کونے میں بلوچوں کو محفوظ پناہ گاہ میسر نہیں جس کی وجہ سے بلوچ قوم ایک انتہائی دگرگوں صورتحال سے دوچار ہیں۔

‎انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں جاری ریاستی بربریت اور ظلم کی وجہ سے ہزاروں افراد اس وقت لقمہ اجل بن چکے ہیں اور لوگوں کی کاروبار تباہ ہو چکے ہیں۔ اس سے پہلے بلوچوں کی ایک بڑی تعداد مال مویشیوں سے گزر بسر کرتے تھے لیکن ریاستی ظلم و جبر کے سبب بلوچوں کے پاس کاروبار کے تمام مواقع ختم ہو چکے ہیں جس کے بعد پورے مکران سے جھالاوان تک تمام بلوچوں کا کاروبار ایران باڈر پر تیل کے کاروبار سے وابسطہ ہے لیکن اب مسلسل انہیں بھی سنگین جرائم کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ ایرانی فورسز کی طرف سے نہتے بلوچوں پر اندھا دھند فائرنگ اور دس سے زائد بے گناہ بلوچوں کی شہادت انسانیت کے خلاف جرائم ہے۔

‎ انہوں نے کہا کہ ایسی جارحیت اور انسانی جرائم کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے ، ایرانی فورسز نے کھلم کھلا عالمی انسانی حقوق کو پاؤں تلے روندتے ہوئے درجنوں نہتے افراد کو لقمہ اجل بنایا ہے۔ مقبوضہ اقوام پر ہونے والی جبر کے تاریخ پر اگر طائرانہ نظر دوڑائی جائے تو یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ موجودہ جارحیت جو بلوچ قوم کے خلاف جاری و ساری ہے ایسی جاریت کی مثالیں دنیا کے کسی دوسرے کونے میں دیکھنے کو نہیں ملتی۔

‎ترجمان نے کہا کہ سرحدی کاروبار سے منسلک بلوچوں کی زندگی کو ایران و پاکستانی فورسز نے اجیرن بنایا ہوا ہے، مسلسل کاروبار بند کرکے لوگوں کو نان شبینہ کا محتاج بنا دیا گیا ہے جبکہ دوسری طرف پاکستانی فورسز کی ناروا سلوک نے کاروبار سے منسلک لوگوں کو سخت مراحل سے دوچار کیا ہوا ہے جبکہ وہ انتہائی ناگفتہ صورتحال میں یہ کاروبار کرکے اپنے گھر کا چولہا جلانے پر مجبور ہیں لیکن انہیں مسلسل قتل و غارت کا نشانہ بنایا جا رہا ہے جس سے لاکھوں افراد کی زندگی خطرات سے دوچار ہیں۔

‎ترجمان نے عالمی انسانی حقوق کے اداروں سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ بلوچ قوم اس وقت نسل کشی کا شکار ہے، لوگوں کا قتل عام معمول کی بات بن چکی ہے، بلوچوں کے پاس احتجاج و مظاہرے کا بھی حق نہیں اس تمام صورتحال میں عالمی حقوق کے اداروں کی بنیادی اور انسانی فریضہ بنتی ہے کہ وہ بلوچستان میں جاری انسانی المیہ کو روکنے کیلئے ایک قدم آگے بڑھائیں ورنہ دنیا کی رہتی تاریخ میں بلوچوں کی نسل کشی پر عالمی اداروں کی خاموشی ایک بدنما داغ بن کر رہے گی۔