‏بلوچستان ایک وطن ہے، جنوبی و شمالی کی اصطلاح قابل مذمت ہے ۔ نواب اسلم رئیسانی

149

سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان اور رکن بلوچستان اسمبلی نواب اسلم رئیسانی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ‏بلوچستان وطن ایک ہے اور ہمارے دل و دماغ میں ایک رہے گا، اگر لوگ اپنے مفادات حاصل کرنے کے لیے “جنوب شمال مغرب مشرق “ کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں ہم اُن کے اس مفاد پرستی کی مذمت کرتے ہیں۔

نواب اسلم رئیسانی کا بیان ایک ایسے وقت آیا جب آج وزیراعلی بلوچستان جام کمال خان کی زیرصدارت جنوبی بلوچستان ترقیاتی پروگرام پر پیش رفت سے متعلق پہلی اپیکس کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔

چیف سیکرٹری بلوچستان نے ‘جنوبی بلوچستان ترقیاتی پیکج’ کے تحت مجوزہ منصوبوں اور فنانسنگ پلان پر تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ پیکج کے تحت 119 منصوبے تیار کیے گئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘جنوبی بلوچستان’ کے 9 اضلاع میں صحت، تعلیم، پانی، بجلی، پبلک ہیلتھ انفرااسٹرکچر اور سڑکوں کی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ پیکج کے تحت 16 نئے ڈیمز بننے جا رہے ہیں ایگرو مارکیٹس کی ترقی اور ای کامرس کے ذریعے لائیو اسٹاک مارکیٹوں کو ملک کی دیگر بڑی مارکیٹوں سے منسلک کرنے کے منصوبے شامل ہیں۔

حکومت کو ‘جنوبی بلوچستان’ پیکج کے اصطلاح پر سخت تنقید کا سامنا ہے۔ بلوچ سیاسی حلقوں کی جانب سے پیکج کو بلوچستان کو حصوں میں بانٹنے کی سازش قرار دیا جارہا ہے۔

یاد رہے کہ نواب اسلم خان رئیسانی سابق گورنر اور وفاقی وزیر نواب غوث بخش رئیسانی کے فرزند ہے۔ اس کے علاوہ وہ بلوچ قبائل میں چیف آف سراوان کی ذمہ داری بھی رکھتے ہیں۔ وہ پولیٹکل سائنس میں ماسٹرز کی ڈگری رکھتے ہیں۔

نواب رئیسانی پہلی مرتبہ بلوچستان اسمبلی کے رکن سنہ 1988 میں منتخب ہوئے البتہ پیپلز پارٹی میں انہوں نے شمولیت سنہ 1994 میں اختیار کی۔ آج کل وہ بلوچستان اسلمبی میں آزاد حیثیت سے براجمان ہیں اور بلوچستان سمیت پاکستان کی سیاسی صورتحال پر سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنا موقف پیش کرتے رہتے ہیں۔