کراچی: بلوچ لاپتہ افراد کیلئے احتجاج جاری

81

وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کی جانب سے کراچی پریس کلب کے سامنے احتجاج جاری ہے۔ احتجاج کو مجموعی طور پر 4206 دن مکمل ہوگئے۔ جئے سندھ متحدہ محاذ کے سابق جنرل سیکرٹری الہیٰ بخش بکک، سنٹرل کمیٹی کے ممبر ایڈوکیٹ عاقب راجپر، نعیم کھوسہ نے کیمپ آکر لواحقین سے اظہار یکجہتی کی۔

وی بی ایم پی کے رہنماء ماما قدیر نے وفود سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہوچکی ہے کہ انسانیت کی اعلیٰ قدروں کو کوئی بھی پامال نہیں کرسکتا، قابضین کا وطیرہ ظلم و استبداد کیساتھ جاری رہتا ہے مگر جبر کا ہر طریقہ جابر کی موت کو قریب کردیتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بلوچ اور سندھی شہداء کا خون رائیگاں نہیں جائے گا۔ خطے کے بدلتے حالات اور قابض ریاست کی جانب سے بلوچستان طول و عرض میں آپریشن اور بلوچ فرزندوں کو لاپتہ کرنے کی تازہ کاروائیاں توجہ طلب ہیں۔ پارٹیوں اور تنظیموں پر اب پہلے سے بھی زیادہ ذمہ داری عائد ہوچکی ہے کہ انہیں اپنے پرامن جدوجہد کے فرائض اچھی طریقے سے انجام دینے کیلئے تمام تر گروہی ذاتی اور شخصی حصار سے نکل کر حقیقی اور سائسنی بنیادوں پر واضح طور پر بلوچ قومی سوال دنیا کے سامنے پیش کرنا ہے۔

ماما قدیر کا کہنا تھا کہ بارہ سالہ جاری پرامند جدوجہد میں بجائے آگے بڑھنے کے ہم تقسیم در تقسیم کا شکار ہوئیں آج حقیقت اور سچائی یہ ہے کہ بلوچ قوم اپنے اس عظیم پرامن جدوجہد میں بیگانگی کا شکار ہوتی جارہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ آنے والے دنوں میں خطے میں بہت سی تبدیلیاں رونماء ہونگے، پاکستانی ریاست اور اس کے حکمران اب بھی سامراجی ممالک کے خاص چہیتے ہیں۔