ملائیشیا میں ایمرجنسی نافذ، پارلیمان معطل

91

وزیراعظم محی الدین یاسین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام کورونا کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے باعث اٹھایا گیا ہے۔

ملائیشیا  کے وزیراعظم محی الدین یاسین نے منگل کو ٹی وی پر قوم سے خطاب میں کہا کہ فوج نے حکومت کا تختہ نہیں الٹا اور نہ ہی ملک میں کرفیو نافذ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ دورانِ ایمرجنسی اقتداران کی سول حکومت کے ہاتھ میں ہی رہے گا۔

وزیراعظم کا اعلان ملائیشیا کے بادشاہ سلطان عبداللہ سلطان احمد شاہ کی طرف سے اس فیصلے کی توثیق کے بعد سامنے آیا۔

وزیراعظم کے مطابق فیصلے کے تحت پارلیمان اس سال اگست تک معطل رہے گی۔ اس دوران ملک میں عام انتخابات منعقد نہیں کرائے جا سکیں گے۔ خیال ہے کہ اس فیصلے سے وزیراعظم محی الدین یاسین کی کمزور حکومت کو عارضی استحکام ملے گا۔

ملائیشیا میں ہنگامی صورتحال کا اعلان غیرمتوقع تھا۔ اس سے ایک روز پہلے پیر کو وزیراعظم نے اعلان کیا تھا کہ بدھ سے ملک کے سب سے بڑے شہر کوالالمپور اور سرکاری دارالحکومت پُتراجایا سمیت پانچ ریاستوں میں دو ہفتوں کے لیے لاک ڈاؤن جیسی پابندیاں نافذ کی جارہی ہیں۔

مبصرین کے مطابق ملک میں کورونا کو جواز بتا کر ہنگامی حالات نافذ کرنے کے سیاسی محرکات ہیں۔

تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ حکومت میں شامل سب سے بڑی جماعت ‘یونائیٹڈ مَلیز نیشنل آرگنائزیشن‘ وزیراعظم سے ناخوش ہے اور حکومت سے علحیدگی اور نئے انتخابات کے مطالبے پر زور دے رہی تھی۔ تاہم وزیراعظم نے ملک میں ایمرجنسی نافذ کرکے بظاہر اپنی حکومت کو گرنے سے بچالیا ہے۔

قوم سے اپنے خطاب میں وزیراعظم محی الدین یاسین نے واضح کیا کہ اب عام انتخابات کا اعلان وبا پر قابو پانے کے بعد ہی ممکن ہوگا۔

ملائیشیا میں آخری بار ہنگامی حالات کا نفاذ ملک میں سن انیس سو انہتر کے خون ریز نسلی فسادات کے بعد کیا گیا۔ ملائیشیا کے بادشاہ نے پچھلے سال اکتوبر میں وزیراعظم کی طرف سے ایمرجنسی نافذ کرنے کی درخواست مسترد کر دی تھی۔ اس وقت ان کا موقف تھا کہ وائرس پر قابو پانے کے لیے پہلے سے موجود قوانین کافی ہیں اس لیے ہنگامی حالات نافذ کرنے کی ضرورت نہیں۔

تاہم شاہی محل کے ایک تازہ بیان میں کہا گیا ہے کہ بادشاہ پیر کے شب وزیراعظم سے ملاقات کے بعد اس نتیجے پر پہنچے کہ ایمرجنسی کا نفاذ عوام کے تحفظ اور ملکی مفاد میں ہوگا۔

ملائیشیا میں تین ماہ میں کورونا کے کیسز پندرہ ہزار سے بڑھ کر ایک لاکھ اڑتیس ہزار سے تجاوز کر گئے ہیں اور پانچ سو پچپن اموات ہوئی ہیں۔

ملکی قوانین کے تحت دورانِ ایمرجنسی حکومت آرڈینینسوں کے ذریعے ملک چلا سکتی ہے۔ حکومت کے ان احکامات کو عدالتوں میں چیلنج نہیں کیا جا سکے گا۔