راڑہ شم بنیادی ضروریات سے محروم، بلوچوں کو اقلیت میں تبدیل کی جارہی ہے۔ بلوچ راج

130

بلوچ راج راڑہ شم کے ترجمان نے پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ اس جدید دور میں جہاں دنیا سائنس اور ٹیکنالوجی کے ذریعے بہت تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔ پورے بلوچستان سمیت راڑہ شم جیسے گنجان آباد  بلوچ علاقے اس دور میں بھی  بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ تعلیم و صحت کا نظام نہ ہونے کے برابر ہے۔ ان سے متعلقہ ادارے مکمل طور پر فعال نہیں ہیں۔ ان خیالات کا اظہار بلوچ راج ڑارشم کے ترجمان نے پریس کانفرنس کے موقع پر کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ پورے راڑہ شم میں تعلیمی اور صحت کے ادارے انسان دشمن لوگوں کے ہاتھ میں ہیں۔ اس علاقے کے زیادہ تر سکول اور ایک ہی بنیادی مرکز صحت (بی ایچ یو) ہے۔ جو وڈیروں کی بیٹھک ہے اور اُس کی سرکاری ادویات پرائیوٹ میڈیکل سٹورز کی نظر ہیں۔ یہ انسان دشمنی ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت یہاں کی عوام کے ساتھ روا رکھا جا رہی ہے اور عوام کی لاشعوری کی وجہ سے ہر ادارہ مکمل طور پر ان کا استحصال کر رہا ہے۔ اب بلوچ راج راڑہ شم کسی بھی صورت میں اپنے عوام کا استصحال کرنے کی اجازت نہیں دے گی۔

بلوچ راج راڑہ شم کے ترجمان نے مزید کہا کہ حالیہ چند سالوں سے راڑہ شم جیسے گنجان آباد بلوچ علاقے کو اقلیت میں تبدیل کرنے کی کوششں کی جاری ہے۔ جس کو کسی بھی صورت میں قبول نہیں کیا جائے گا۔ بلوچ مخالف قوتیں بلوچ قوم کو اپنی زمین سے دربدر کرنے کی مکمل کوششوں میں مگن ہیں۔ چند مہینوں سے ضلع موسیٰ خیل کی طرف سے ایک لوکل سرٹیفکیٹ کیمٹی بنائی گئی ہے۔ جو ایک جانبدار اور بلوچ عوام سے متعصبانہ رویہ برت رہی ہے۔ جس کا مقصد صرف بلوچ عوام کو جانچ و پڑتال کے نام پر ذلیل و خوار کرنے کے علاوہ کچھ نہیں۔ جو لوکل کیمٹی کا پرانا وطیرہ رہا ہے کہ آپ کا ووٹر لسٹ کہاں ہے آپ کی والد یا دادا کی قبر کہاں ہے۔ اور اس لوکل کیمٹی میں انہوں نے چند اپنے نام نہاد بلوچ ممبرز رکھے ہوئے ہیں۔ جو شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار والی پالیسی پر گامزن ہیں۔ جو اپنی ذاتی چپقلشوں کے بنیادوں پر بلوچ قوم کو ذلیل و خوار کر رہے ہیں۔ جو کسی صورت میں بھی قبول نہیں کیا جائے گا۔ ہم حکام بالا سے اپیل کرتے ہیں کہ اس طرح کے واقعات کا فل فور نوٹس لیا جائے۔

بلوچ راج راڑہ شم کے ترجمان نے موسیٰ خیل کی بلوچوں سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ موسیٰ خیل کے تمام بلوچ اپنی بنیادی اور عوامی مسائل کے حل کے لئے بلوچ راج کے ہم آواز بنیں ان مسائل کا حل راڑہ شم کو تحصیل بنانے میں پنہاں ہے اور ان مسائل کو سیاسی دانش و سائنسی بنیادوں پر حل کرنا ہی حقیقی سیاسی حکمت عملی ہے۔