حمل، خالد اور کینسر – ماما ابراہیم بلوچ

69

حمل، خالد اور کینسر

تحریر: ماما ابراہیم بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

ہمارے بچوں کی زندہ دلی کہوں یا دریا دلی کینسر کے ساتھ بھی ہنسی خوشی کھیل لیتے ہیں. بے شک کینسر سے ہار جاۓ, زندگی میں موت سے ہار جاۓ, اپنوں میں پرایوں سے ہار جاۓ, دریا میں پیاس سے ہار جاۓ, خشکی میں نمی سے ہار جاۓ.
لیکن….!
مسکرانا نہیں چھوڑتے اور رونا نہیں جانتے,
جدوجہد نہیں چھوڑتے اور ہاتھ پہ ہاتھ نہیں رکھتے,
ہمت نہیں ہارتے اور زندہ دلی نہیں چھوڑتے,
خزاں سے ڈرتے نہیں اور بہار میں کھلنا نہیں چھوڑتے,
بجھنا نہیں جانتے اور چراغ ہے جلنا نہیں چھوڑتے .
حمل ظفر بھی انہی بچوں میں سے ایک ہیں.
اکیلا تو ہے پر دوست بنانا نہیں چھوڑا اس نے,
کتاب و قلم ساتھ نہیں لیکن پڑھنا نہیں چھوڑا اس نے,
بال کنگی سے عاری, چہرہ زرد پوشکن اور آنکھوں کے آس پاس کالے بادل لیکن خوبصورت لگنا نہیں چھوڑا اس نے,
خراب موسم کی وجہ سے وہ تھوڑا مرجھایا تو ہے سہی لیکن خوشبو پھیلانا نہیں چھوڑا اس نے,
بیڈ پہ لیٹا ہے لیکن جاگنا نہیں چھوڑا اس نے,
گاتا اور بولتا بلے کم ہو اب پر سوچنا نہیں چھوڑا اس نے,
بیمار ضرور ہے لیکن تندرست ہونا نہیں چھوڑا اس نے.

انسانیت کی خوش قسمتی سمجھوں یا کینسر کی بد قسمتی ایک حمل نے ایک دفعہ پھر پورے بلوچستان کے انسانوں کو ایک ہونا سکھایا ہے,
ایک سوچ پہ اکتفا کرنا سکھایا ہے, اتحاد و اتفاق میں سرسوبی سکھایاہے, ناسوروں کو ہرانے کا گر سکھایا ہے, اپنے دوست و دشمن میں فرق کرنا سکھایا ہے۔

آخری دم تک جینا, لڑنا, ثابت قدم رہنا اور جیتنا سکھایا ہے,
بھائی چارگی اور انسانیت کا سبق پڑھنا سکھایا ہے.

رب پاک سے یہی دعا ہے کہ حمل جان کو جلد از جلد صحتیاب کرے تاکہ وہ کینسر اور کینسر زدہ بلوچستان کو وہ سب سکھاۓ جو اب تک سکھا نہیں پایا ہے. اسکی صحتیابی اور کینسر کے خلاف کامیاب جنگ شاید پورے بلوچستان کی فتح اور کامرانی ہو. کینسر کو لیکر کینسر کی جو من مانی اور بلوچستان کی نا امیدی ہے ان دونوں وباوں کا خاتمہ ہو.

درج بالا الفاظ کا گٹھ جوڑ ہمت و ایمان, خوشی و غم, اُمید و مایوسی کے حالات و تاثرات سے متاثر ہوکر پچھلے سال بنانے کی کوشش کی تھی جب بلوچستان کے کمسن فرزند حمل ظفر کینسر جیسے موذی مرض سے نبرد آزما تھے.

آج ایک سال پیچھے مڑھ کے دیکھا تو پتہ چلا حالات و تاثرات آج بھی وہی ہیں۔ درد و غم کا وہی موسم… خوف و ڈر کی وہی بدبو.. بے حسی و بے بسی کے وہی ماتم کدہ چہرے….. یہاں کچھ بھی نہیں بدلا سواۓ سال کے ہندسوں کے…کل کی طرح آج بھی بلوچستان کینسر سے نبرد آزما ہے… کل بھی ہماری خوشی سے تنگ تھا کینسر اور آج بھی ہمارے غم پہ خوشی منا رہا ہے کینسر … کینسر کل بھی ہمارے جان کے پیچے تھا اور کینسر آج بھی ہمارے سر پہ کھڑا ہے. کل بھی ہمارے اوپر کینسر کو مسلط کیا گیا تھا اور آج بھی کینسر کا راج ہے یہاں.. کل بھی ہم دل زدہ و غم زدہ تھے آج بھی ہم شکستہ و کینسر زدہ ہے.!

جب سے آنکھیں کھولیں ہیں، تب سے اندھیرے ہی سے واقفیت ہوئی ہے. روشنی کے لیۓ ضامن نہ سرکار کو پایا ہے اور نہ خیر خواہی کا خیر منانے والے سردار کو، دُکھ, غصہ اور افسوس تو اس بات کا ہوتا ہے کہ جس طرح بلوچستان کا گُن گایا جاتا ہے. جس طرح نام میں بلوچستان لگا کر جیبوں کو بھر دیا جاتا ہے. جس طرح بلوچستان کو سرمایہ کہہ کر خرچ کیا جاتا ہے اُس طرح کبھی کسی نے بلوچستان کو اندھیرے سے نکالنے کی کوشش ہی نہیں کی ہے. اپنے اور پراۓ سب اس کار ء شر میں شریک ہے اور اس گٹھن و اندھیرے کا ذمہ دار ہے. جو اندھیرے میں ضم نہیں ہوتے بلکہ اس پہ تحفظات رکھتے ہیں اور اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اس سے جنگ کرتے ہیں.جو روشنی بنتے ہے روشنی پھیلاتے ہیں. شمع روشن کرنے کی کوشش کرتے ہیں شومہی قسمت وہی بغیر اپنے مرضی کے اس کار ء شر کے تجربات کا حصہ بن جاتے ہیں.

بلوچستان تو ایک تجربہ گاہ ہے جہاں تجربات کرکے طاقت حاصل کی جاتی ہے, پیسے کماۓ جاتے ہیں. سُرخ آنکھیں دکھاۓ جاتے ہیں. رُعب جمایا جاتا ہے یعنی بے وقوف بنایا جاتا ہے. ان تجربات کا شکار کبھی ریحان رند ہوتا ہے تو کبھی شہ مرید اس کے بھینٹ چڑھتے ہیں. کبھی پھل اقبال جان اس دلدل میں پھنس جاتا ہے تو کبھی حمل ظفر اس کی لپیٹ میں آجاتا ہے اور کبھی خالد پرکانی کے روشن چہرے پہ یہ داغ بن جاتا ہے. اور اسی طرح بلوچستان کی خوبصورت,خوشبودار پھول و کلیاں , مسکراہٹیں اور خوشیاں ایک ایک کرکے کینسر کی نظر ہوتی جاتی ہیں بلکہ ہورہے ہیں اور یہ سلسلہ یونہی جاری و ساری رہی تو یہ شر انگیزیاں یعنی یہ کینسرزدگیاں یونہی ہوتی رہیگی.

خالد پرکانی پُرنور چہرے کے ساتھ پُرفکر زہن رکھنے والا ہمارے سریاب کوئٹہ کا ایک قابل فخر و قابل دید سنگت ہے.. اُنکی منفرد پہچان اُنکی منفرد , آسان, باعث مُسکان و سکون شاعری ہے.

بلے آپ خالد سے کبھی نہ ملے ہو لیکن اگر آپ ایک دفعہ اسکے اشعار کو پڑھیگے یعنی سمجھیگے تو ایسا لگیگا کہ وہ آپ کے ساتھ بیٹھ کہ آپ ہی کو آپ کے دل کا حال سنا رہے ہیں اور یہ کیفیت کتنی محظوظ و قرار بخشنے والی ہوتی ہے یہ آپ خالد کا کوئی شعر پڑھ کہ دیکھ لیجیۓ.

خالد جان سے اب تک کی میری پہلی اور آخری ملاقات رواں مہینے کی اوائل میں ہوا تھا. جہاں تک میرے کام کی نوبت و نوعیت تھی تو مجھے نوشکی سے آنے والے ویگن سے اُتر کر واپس نوشکی جانے والے ویگن میں بیٹھنا تھا. چونکہ اس سے پہلے ایک دفعہ خالد کو ملاقات کا کہہ کر پھر ملاقات نہ ہونے کی وجہ سے میں بے زبان ہوگیا تھا اور ہمارے ہاں زبان کا معیار کتنا بڑا ہوتا ہے وہ کوئی بلوچ خود ہی سمجھ سکتا ہے. تو میں نے کہا چلو خالد جان ست مل لیتے ہیں بجاۓ ڈاہیریکٹ واپس نوشکی جانے کے. بس پھر کیا تھا کہ فٹ سے خالد کو میسج کیا “آ خالد جان ایلما ای اندادے سر مسوٹ کوہٹہ غے.” خالد نے سب سے پہلے تو کھانے اور چاۓ پینے پہ زور دیا کہ فلحال میں بال بنوانے آیا ہوں کسٹم لیکن آپ کے دوپہر کا کھانا میرے ساتھ ہے. خیر خالد کی مصروفیت کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوۓ میں کہیں اور نکل گیا. بس پھر کیا تھا سردی کے دن تھے 11بجے سے 4 بجے کیسے ہوا پتہ ہی نہیں چلا.. خالد جان طبیعت ناساز ہونے کے باوجود انتظار کرتے رہے اور ہم جنہوں نےخود کو خود ہی پھنسا لیا تھا اب نکلنے کی تگ و دو میں لگ گۓ. خیر خدا خدا کرکے جہاں خود کو پھنسا لیا تھا وہاں سے جان چڑھانے میں کامیاب ہوگیا. سیٹلائٹ ٹاؤن سے یونیورسٹی پیدل آکے مجھے پتہ چلا کہ یہاں سے خالد کا ٹھکانہ 2-3 کلومیٹر اور آگے ہے. تو فٹ سے رکشہ پکڑا اور روانہ ہوا خالد سے ملنے. اس دوران ایک اور گھنٹہ گزرچکا تھا. خالد پرکانی کو اگر میرے بے زبان ہونے کا شک تھا وہ تقریبا یقین میں بدلنے والا تھا کہ میں پہنچ گیا جہاں پنچنے کو کہا گیا تھا۔ خالد جان سے ملاقات کے وقت میرے ساتھ سعید الحسنی و خالد کے ساتھ امیر ساتک بلوچ تھے.

ادھر پہنچ کے پتہ چلا کہ خالد جان اور امیر ساتک صااحب نے تو کھانا ہی نہیں کھایا ہے دوپہر کا میرے آسرے و انتظار میں. افسوس, گلہ و رسمی حال و حوال کے ساتھ ہی چاۓ کا دور دورا شروع ہوا… پھر بس چاۓ, شاعری, باتیں اور ہم تھے.

میں نے سوچا تھا کہ خالد سے گھنٹہ ڈیڑھ مل کر پھر ادھری سے آخری ویگن میں پھر نوشکی کے لیۓ نکلونگا. کوئٹہ کے ساتھ کوئی خاص لگن نہیں لگی ہے آج تک پتہ نہیں کیوں اور یہ بات میرے اکثر دوست جانتے ہیں. اس لیۓ کبھی کوئٹہ آنے یا آکر رُکنے کی بات نہیں کرتے مجھ سے. کبھی مجبوری میں جانا ہوا تو صحیح وگرنہ بہت مشکل ہے کہ میں اپنے شوق سے کوئٹہ جاؤں. بہرحال چاۓ کے ساتھ ہی ہمارا باتونی روح نیند سے بیدار ہوگیا تھا. ایک گھنٹے سے 4 گھنٹے کیسے گزرے وہ تو خالد جان ہی بتاسکتے ہیں.

بہت سی باتیں ادھورے چھوڑ کر میں اور سعید جان اپنی راہ لیۓ اس نیت سے کہ کل صبح پھر خالد و ساتک سے ملاقات ہوگی نوشکی جانے سے ویسے بھی رہ گۓ تھے. لیکن بد قسمتی سے اگلے دن میں موقعہ ہی نہیں پاسکا کہ خالد سے ملوں.

خالد جان سے اس پہلی اور آخری ملاقات میں جو سب سے خاص چیز مجھے سیکھنے کو ملا وہ یہ تھا کہ خالد سنگت کے غلطی پہ خفا تو ہوجاتے ہیں لیکن ناراض کبھی نہیں ہوتے. انکی عاجزی و انکساری کا یہ عالم ہوتا ہے کہ دوست کے ساتھ بیٹھ کے دوست کو ایسے سُنتے ہیں جیسے کوئی شاگرد اپنے اُستاد کے سامنے ادب و احترام سے بیٹھے اور تجسس سے سُنے… آپ باتیں کرتے رہے اور خالد سُکون و قرار سے کان لگاۓ سُنتا رہا. آپ دنیا کے لیۓ بھلے ہی کتنا عام ہوجاؤ لیکن خالد جان کے ساتھ بیٹھ کہ آپ کو بھی خاص والا احساس آئیگا اور یہ میں پورے وثوق کے ساتھ کہہ رہا ہوں. یہ عاجزانہ و دوستانہ عادت بہت کم لوگوں میں ہوتا ہے اور خالد جان اُن کم لوگوں میں سے ایک ہے. اسی وجہ سے خالد جان سب کے چہیتے اور سب انکے شیدائی ہیں.

شومئی قسمت کہوں یا کچھ اور کہ کینسر کے خلاف لکھنے والے آگہی پھیلانے والے خالد جان خود ہی کینسر کے نشانے پہ آگئے ہیں. پچھلے ہفتے خالد جان سے حال حوال ہوا تو انہوں نے خون میں کینسر کی نشاندہی کا بتایا. پہلے تو مجھے یقین ہوا ہی نہیں کیونکہ خالد جان نے اپنے انمول انداز میں ایسے بتایا کہ مجھے کینسر ہے جیسے کچھ ہوا ہی نہیں. تب مجھے پتہ چلا کہ خالد جان صرف ایک مہر آور سنگت نہیں بلکہ ایک تناور یعنی قد آور شخصیت کے مالک بھی ہے. خالد جان کی عزم و ہمت کی میں کیا مثال یعنی کیا داد دوں وہ تو اب تک اتنے کُرب و درد و زہنی اذیت سے گزرنے کے باوجود بھی حمل ظفر کی طرح ہنسنا نہیں بھولے. بلکہ ہمہ وقت خوش و خُرم اور یقین سے بھرپور ہے کہ وہ کینسر کو شکست دیگا.

اس کی اس یقین کا سہارا خدا جان کے پاک ذات پہ کامل ایمان کے بعد صرف اور صرف اپنوں کی مدد و کُمک ہے. اُسے پتہ ہے کینسر جیسے منافق ترین بیماری کے خلاف جنگ میں وہ اکیلا نہیں ہے.

اسے پتہ ہے یہ جنگ صرف اُسکی نہیں بلکہ پورے بلوچستان کی ہے. اُسے پتہ ہے بلوچستان میں بسنے والے اقوام جی و جان لگادینگے اور خالد جان کو کینسر کے خلاف فاتح بنائنگے جیسے حمل ظفر کو بنایا تھا. اسے پتہ ہے مکران سے لیکر رخشان تک , جھالاوان سے لیکر بارکھان تک تمام با شعور, زندہ دل و درد مند لوگ اس کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہیں اور ہر قسم کی کُمک و مدد کے لیۓ تیار ہیں.

تو آئیں خالد جان کی اس یقین کو ٹوٹنے سے بچائیں. اس یقین کو مذید پختہ و کامل بنائیں جو تقدیر بدل دینی والی ہو. آئیں اپنے درد کو خود ہی محسوس کریں کیونکہ اسکا علاج بھی ہم نے خود کرنا ہے. اب بھی غیروں کے مدد کے آسرے پر رہے تو کیسے رہیں؟ وہ اگر کچھ کرتے ہمارے درد کے درمان کے لیۓ تو بہت پہلے کرچکے ہوتے. بہت نہیں تو کم از کم اتنے تجربات کے بعد خیرات میں بلوچستان کو ایک کینسر ہسپتال ضرور دیتے. لیکن نہیں کیونکہ اُن کو کوئی سروکار و پرواہ نہیں ہمارے درد و غم, کُرب و اذیت کا. ہم مر کے جیۓ یا جی کر مرے انہیں اس سے کوئی لینا دینا نہیں. تو آئیں اپنے درد کو خود ہی سانجھیں, خود ہی لقمان بنے اور اسکی درمان کریں. آۓ کینسر کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر خالد کو آذاد کریں۔ خالد کی ہنسی و مُسکان, شعر و داستان, پُر نور و ماہیکان جیسے چہرے کو کینسر کی چنگل سے چڑھائیں. آئیں اُسکے مہر و مزاح سے بھرپور مجالس کو پھر سے بحال کرائیں، آئیں بلوچستان سے کینسر کو خود ہی کینسر زدہ کرکے مار بھگائیں۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں