بولان میڈیکل کالج میں داخلہ پالیسی کے خلاف منفی پروپیگنڈوں کی مذمت کرتے ہیں – بی ایس اے سی

53

بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی نے اپنے مرکزی بیان میں کہا گیا ہے کہ موجودہ پروپیگنڈہ ایک سازش کے تحت ایک خاص موقع پر چلایا جارہا ہے تاکہ بلوچستان میں آباد قوموں کے درمیان غلط فہمی پیدا کرکے بلوچستان کے تعلیمی ماحول کو خراب کیا جائے۔

ترجمان نے اپنے بیان میں داخلہ پالیسی کا مکمل جائزہ لینے کے بعد اس عمل کو سراہتے ہوئے کہا کہ پرنسپل بولان میڈیکل کالج کوئٹہ پروفیسر ظاہر خان مندوخیل نے سابقہ تعلیمی پالیسی کو جاری رکھتے ہوئے پاکستان میڈیکل کمیشن اسلام آباد کی طرف سے اضافی سیٹوں کی منظوری کے بعد تمام اضلاع کی بنیادی آبادی کے تحت سیٹوں کو تقسیم کرتے ہوئے احسن قدم اٹھایا ہے۔ بولان میڈیکل کالج اپنے قیام سے تمام اضلاع میں ڈاکٹرز کی افرادی قوت میں اضافہ کے لئے کوشاں ہے ابتدا سے اب تک 7000 ڈاکٹرز بلوچستان کے مقامی افراد سے افرادی قوت پیدا کرچکی ہے جبکہ 538 ڈینٹل سرجن پیدا کئے ہیں جو ایک اعزاز ہے جس کی وجہ سے ہر ضلع کے عوام کو موجودہ سہولیات مل رہی ہیں جن سے وہ پہلے محروم تھے، ڈینٹل سیٹوں کی ضلعی تقسیم سے اب ان تمام ضلعوں میں ڈاکٹروں کی افرادی قوت میں اضافہ ہوگا جہاں پہلے سے ڈاکٹروں کی کمی کا سامنا ہے جن میں گوادر، آواران، واشک، چاغی، کوہلو، شیرانی، ہرنائی موسی خیل سمیت دیگر اضلاع شامل ہیں۔

ترجمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ پراسپیکٹس کا جائزہ لینے کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ کسی ضلع کے ساتھ ناانصافی نہیں ہوئی ہے ضلع قلات کی تقسیم سے پہلے آبادی چار لاکھ سے زائد تھی، ضلع سوراب کے الگ ہونے سے یہ آبادی نصف ہوگئی ہے اسی طرح ضلع لورالائی کی بھی تقسیم سے پہلے آبادی چار لاکھ سے زائد تھی ضلع دکی کے قیام سے اس کی آبادی بھی نصف ہوگئی ہے، دوسری جانب ضلع سبی کی آبادی تحصیل لہڑی کے شامل ہونے سے پہلے 135000 تھی جوکہ اب دو لاکھ سے زائد ہوئی ہے اس سے مذکورہ بالا اضلاع کے نشستوں میں اضافہ ہوا ہے، ضلع کوئٹہ کی آبادی 22 لاکھ ہے جس کی وجہ سے ان کی سیٹیں 11 سے 28 ہوئی ہیں۔

اس کے علاوہ تمام اضلاع کو برابری کی بنیاد پر دو دو سیٹیں دی گئی ہیں جس سے چھوٹے اضلاع (جس میں ضلع ہرنائی بھی شامل ہے جس کی آبادی صرف 97000 ہے) کو فائد پہنچا ہے۔ جہاں تک بات کچھ اضلاع کے سیٹوں میں اضافہ کی ہے جن میں کوئٹہ، پشین، کیچ، خضدار، قلعہ عبداللہ و دیگر شامل ہیں ان کی آبادی میں 2017 کے مردم شماری میں کافی اضافہ ہوا ہے۔

ترجمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ جہاں تک بات بولان یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز کی ہے تو اس کے ایکٹ میں اسی طرح ترمیم ہوئی ہے جس طرح خیبر میڈیکل یونیورسٹی اور خیبر میڈیکل کالج پشاور، یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز لاھور اور علامہ اقبال میڈیکل کالج لاھور، کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی لاھور اور کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج لاھور اور شہید ذوالفقار میڈیکل یونورسٹی اسلام آباد اور فیڈرل میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج اسلام آباد ہے۔ بولان یونیورسٹی ایکٹ اپنی نوعیت کا واحد ایکٹ تھا جس میں کالج کو غیر قانونی طور پر ضم کیا گیا تھا جس سے کافی مسائل پیدا ہوئے۔ جہاں بلوچستان کے طلباء کی ترجمانی کرتے ہوئے دیگر تنظیموں کے ساتھ تحریک چلا کر اس ایکٹ کی اصلاحات کئے گئے۔ بولان یونیورسٹی کو ختم کرنے کا پروپیگنڈہ منفی اور حقیقت کے منافی ہے، حقیقت میں وائس چانسلر کی نااہلی اس بات سے عیاں ہوتی ہے کہ گذشتہ ڈھائی سال میں موصوف ادارے کیلئے کچھ کرنے کے بجائے طلباء اور ملازمین کیلئے روز مسائل پیدا کرتے رہے ہیں اب جبکہ ان کے ملازمت کو ختم ہونے میں صرف 6 مہینے رہ گئے ہیں تو موصوف اپنی نااہلی کو چھپانے کے لیئے مختلف منفی حربے استعمال کررہی ہے، وائس چانسلر نے پرنسپل بولان میڈیکل کالج کے دفتر کو گونر کے حکم کے باوجود خالی کرنے سے انکاری ہیں۔

ترجمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے تاریخی فیصلہ جو چیف جسٹس انور ظہیر جمالی سمیت دیگر دو معزز ججز نے کیس نمبر civil appeal No 186 and 187 of 2015 میں سنایا تھا کہ پراسپیکٹس کی پالیسی کو بنانے کا اختیار صرف حکومت بلوچستان کو حاصل ہے اس لئے ماضی کے تمام فیصلوں کو کالعدم قرار دیا گیا تھا، موجودہ پراسپیکٹس بلوچستان کابینہ کی منظوری کے بعد نافذ عمل ہے، لہٰذا اگر آئین کے آرٹیکل 25 اور 37 اور 1999 میں 16 ترمیم کے اہم مقاصد کے خلاف اس پر کسی قسم کی غیر قانونی کاروائی کی گئی تو اس پر بھر پور احتجاج کیا جائے گا۔

ترجمان نے مزید کہا ہے کہ اوپن میرٹ کو صوبہ سندھ ماننے کے لئے راضی نہیں ہے حال ہی میں ایک حکم کے مطابق 95% نشستوں کو کوٹہ سسٹم کی بنیاد پر تقسیم کا اعلان کیا گیا ہے جبکہ صوبہ پنجاب میں جنوبی پنجاب اور کوہ سلیمان کے لئے خصوصی کوٹہ مختص کیا گیا ہے، صوبہ خیبر پختونخواہ نے فاٹا اور ڈیرہ اسماعیل خان کے لئے بھی کوٹہ رکھا ہوا ہے، کشمیر اور گلگت بلتستان کے لئے بھی یہی طریقہ نافذ عمل ہے اسی طرح وفاقی تمام نشستیں کوٹہ سسٹم کے تحت ہی ہیں حالانکہ پی سی ایس اور سی ایس ایس کے امتحانات بھی کوٹہ سسٹم کے تحت ہیں لہٰذا بلوچستان میں بھی آئین کے مطابق پسماندہ ضلعوں کو آگے لانے کے لئے ضلعی میرٹ اور ڈیویژنل میرٹ سسٹم نافذ ہے۔

ترجمان نے آخر میں کہا کہ مندرجہ بالا حقائق کو عوام کے سامنے لانا اس لئے بھی ضروری تھا کہ کچھ لوگ اپنے ذاتی مفادات کیلئے بلوچستان کے برادر اقوام کے درمیان غلط فہمی پیدا کرنے کی اپنی کوشش میں کامیاب نہ ہوں۔ تنظیم موجودہ داخلہ پالیسی میں تبدیلی کو بلوچستان بھر کے طلباء کے ساتھ ناانصافی کے مترادف سمجھتی ہے اور تنظیم بلوچستان کے طلباء کی مفادات کے تحفظ کے لئے اپنی جہدو جدہ جاری رکھے گی موجودہ داخلہ پالیسی میں تبدیلی کے خلاف ہر فورم پر آواز بلند کی جائے گی۔