بلوچستان کے چولہوں کے گرد باڑ – ٹی بی پی فیچر رپورٹ

513

بلوچستان کے چولہوں کے گرد باڑ

دی بلوچستان پوسٹ فیچر رپورٹ

شہداد شمبے زئی

زامران ضلع کیچ مکران بلوچستان کا ایک سب تحصیل ہے، جو ضلع کیچ کے شمال مغرب اور مغربی بلوچستان (سیستان و بلوچستان) کے سرحدی ضلع شھرستان سراوان کے جنوب میں واقع ہے۔

زامران مغربی (ایرانی) بلوچستان کے علاقے بم پشت کے جنوب اور ھُنگ کے مشرق جبکہ ضلع کیچ کے تحصیل مند اور تمپ کے شمال جبکہ بلیدہ کے شمال مغرب میں واقع ہے۔ گزی کور ندی جو گیشکور سے جاملتا ہے، زامران اسکے مغرب اور ضلع پنجگور کے علاقے پروم کے جنوب مغرب میں واقع ہے۔ اس جنوب مغربی پہاڑی سلسلے کو زامران کہا جاتاہے۔

زامران انتظامی طور پر تین حصوں میں تقسیم ہے

۱۔ سب تحصیل زامران: جو چار یونین کونسلوں بادئی، ناگ، سیاہ گیسی اور دربلی پر مشتمل ہے۔
۲۔ برُز زامران: جس میں زراگین، بُگان، ارچنان کاپار، گیشتردان چُر ، ھیجبی سمیت کئی اور دیہات شامل ہیں جو انتظامی طور پر تحصیل تمپ کا حصہ ہیں۔
۳۔ بگان زامران: جس کا ایک چھوٹا سا حصہ انتظامی طور پر مغربی بلوچستان کا حصہ ہے۔

زامران بلوچستان کا ایک تاریخی اور محل وقوع کے اعتبار سے اہم علاقہ ہے۔ یہ بلند و بالا پہاڑوں، تاریخی قلعوں ، خوبصورت وادیوں، چشموں اور سنگلاح چٹانوں کی سرزمین ہے، جو موسم بہار میں قابل دید مناظر پیش کرتا ہے۔ یہاں کا موسم گرمیوں میں درجہ حرارت 45° کو عبور کرتا ہے اور موسم سرما میں درجہ حرارت نقطہ انجماد سے نیچے °5- کو پہنچ جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں کھجور اور سیب ایک ہی باغ میں نظر آئینگے۔ زامران ميں کھجور و سیب کے علاوہ انار، انگور ، امرود، آم، مالٹا اور کئی اقسام کے پھل کے علاوہ گندم ، چاول بھی کاشت کی جاتی ہے جبکہ پہاڑی انجیر قدرتی طور پر پائی جاتی ہے اور گلہ بانی بھی یہاں کا اہم پیشہ ہے۔

بارشوں کی کمی کی وجہ سے گذشتہ چند عشروں سے زامران میں ایک طرف زراعت کا شعبہ بری طرح متاثر ہوچکا ہے، دوسری طرف قدرتی چراگاہوں کی گھٹتی تعداد نے روایتی گلہ بانی کے پیشے کو بھی شدید متاثر کئے رکھا ہے۔ حکومت کی طرف سے بھی یہاں روزگار کے مواقع شاید ہی کم پیدا کیے گئے ہیں، اس لیئے نان شبینہ کیلئے زامران اور گردونواح کے لوگ ایران سے تیل درآمد کرکے بلوچستان میں فروخت کرنے کے اس کاروبار سے منسلک ہوگئے ہیں۔ بڑھتی ہوئی بیروزگاری کی وجہ سے ایسے علاقے بھی موجود ہیں جہاں پورا کا پورا گاؤں اسی کاروبار سے منسلک ہے۔ اگر کسی وجہ سے کاروبار میں کوئی خلل پڑتا ہے تو سب فاقوں پر مجبور ہوجاتے ہیں۔

پچھلے سال دسمبر کو بلوچستان حکومت نے وفاقی حکومت کے حکم پر ایک نوٹیفکیشن جاری کی تھی کہ ایرانی تیل کے کاروبار پر پابندی عائد کیا گیا ہے، اس نوٹیفیکشن کے بعد امیر بلوچستان کے غریب شہریوں نے اپنے گھروں میں فاقوں کا منظر دیکھ کر اس نوٹیفکیشن کو بلوچستان کا معاشی قتل قرار دیا.

ہم اس بات کا کھوج لگانے نکلے کہ ایرانی تیل کے کاروبار سے وابستہ افراد اس نوٹیفکیشن سے متعلق کیا کہتے ہیں؟ ہمیں بہت سے لوگ ملے لیکن خوف کی وجہ سے کوئی شناخت ظاہر کرکے بات کرنے کو راضی نہیں ہورہا تھا۔

“وہ اپنے لیئے کرتار پور بناتے ہیں اور ہمارے لیے آہنی باڑ لگاتے ہیں، پھر کہتے ہیں بلوچ بھائی پاگل ہیں، بات نہیں سنتے ہیں، جب آپ ہم سے ہمارا روزی روٹی چھین لیتے ہو، ہر چار قدم پر ہمارا تذلیل کرتے ہو تو بلوچ بھائی ضرور پاگل ہوگا۔” یہ ہے زامران کا رہائشی دلمراد ( فرضی نام) جو تیل کے کاروبار سے منسلک ہے، انہوں نے اصل شناخت ظاہر نہ کرنے کے شرط پر ہم سے بات کرنے کی حامی بھری۔

یہ کہانی محض دلمراد زامرانی کی نہیں ہے بلکہ بلیدہ زامران کے ہر اس شخص کا ہے، جس کا نان شبینہ ایرانی تیل کے درآمداتی کاروبار سے وابسطہ ہے۔

دلمراد زامرانی حالیہ نوٹیفکیشن سے زیادہ ایران سرحد سے تربت شہر تک آتے ہوئے فورسز کی چیک پوسٹوں پر لوگوں کی تذلیل پر بات کرتے ہوئے اپنے دل کا بوجھ ہلکا کرنے کو عافیت جان کر کہتا ہے۔

مغربی بلوچستان سے متصل مشرقی بلوچستان کا سرحدی علاقہ جالگی، سرکیزی اور ابدوئی بلوچستان بھر سے لاکھوں لوگوں کے ذریعہ معاش کا حب ہے۔ ہزاروں کی تعداد میں لوگ یہاں بھوکے پیاسے اور راتوں کی نیندیں قربان کرکے ایران سے چند گیلن ڈیزل اور پیٹرول کی امید لگا کر بیٹھے ہوتے ہیں کہ وہاں سے ایرانی گجر کی گولیوں سے زندہ بچ کر کوئی بارڈر پر پہنچے، پھر دلمراد جیسے ہزاروں لوگ جو یہاں جالگی اور دیگر بارڈر پوائیٹ پر تیل خرید کر بلوچستان کے کسی شہر میں بیچ کر اپنے گھر کا چولہا جلاتے ہیں۔

دلمراد کہتا ہے کہ “چار راتوں کی بے خوابی، بھوک، پیاس، سردی کے بعد جب ہمیں تیل ملتا ہے اور ہم قافلے کی شکل میں رخت سفر باندھ لیتے ہیں تو جالگی میں ہمیں ایف سی ( فرنٹیئر کور جو پاکستانی فوج کا ذیلی ادارہ ہے) چیک پوسٹ پر ایک رات کبھی زیادہ روکنے کے بعد پانچ ہزار رشوت لیکر روانہ کیا جاتا ہے، جالگی سے چند کلومیٹر دور پیرپراھگ پر پھر وہی وردی میں ملبوس بندوق برداروں سے سامنا ہوتا ہے، پانچ گھنٹوں تک روک کر شناخت پوچھنے کے بعد دو ہزار روپے رشوت میں بات بنتی ہے۔”

دلمراد اپنے روایتی بلوچی رومال سے ماتھے سے دھول ہٹاتے ہوئے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہتا ہے کہ “پھر ناگ کے علاقے میں ایف سی چیک پوسٹ پر ہمیں بدترین تذلیل کا سامنا ہوتا ہے۔ یہاں ارشد عرف ھُدّک نامی صوبیدار کی ڈیوٹی ہے، جس کا تعلق پنجاب سے ہے، وہ نہ صرف ہمیں بلکہ مسافر گاڑیوں کو بھی گھنٹوں روک کر خواتین تک کی تذلیل کرتا ہے اور آس پاس کے گاؤں والوں کو جو خوشی اور غم کے دنوں میں یہاں سے وہاں سفر کررہے ہوتے ہیں، انہیں بھی آنے جانے میں اس غیر انسانی رویے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کبھی جانے دیا جاتا ہے تو کبھی چیک پوسٹ سے واپس کرکے ایک دوسرے کی خوشی اور غم میں شرکت کرنے نہیں دیا جاتا۔”

دلمراد زامرانی اپنے چہرے پر غصے اور بے بسی کے جذبات چھپانے کی کوشش میں نظریں زمین پر گھاڑتے ہوئے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہتا ہے “یہاں چند گھنٹوں گالیاں کھانے کے بعد ارشد صوبیدار کو چائے پانی (رشوت) دے کر ہم پھر تربت کے لیے نکل جاتے ہیں۔ اسکے بعد درَاچکی ناگ پر پھر ایف سی والے سامنے منڈلا رہے ہوتے ہیں، اور پھر وہی گالم گلوچ کا سلسلہ شروع ہوتا ہے اور چائے پانی(رشوت) دینے کے بعد جان چھوٹتی ہے۔ دس منٹ نہیں گذرتے ہیں کہ باہوٹ بازار گلِّی میں ایک اور چیک پوسٹ کا سامنا ہوتا ہے، یہاں کا رحم دل صوبیدار ہم سے پیسہ نہیں لیتا ہے اور نہ ہی گالی دیتا ہے بلکہ بلوچ بھائی کہہ کر ہم سے ایک ایک کرکے پوچھتا ہے کہ دہشت گردوں ( بلوچ مزاحمت کاروں) کو دیکھا ہے؟ انکے بارے میں معلومات فراہم کرو، انکی مخبری کرو، اور اس طرح کے کئی سوال پوچھے جاتے ہیں اور یہاں سے ہم ہنسی خوشی کا مصنوعی چہرہ بنا کر نکل جاتے ہیں۔ بیس منٹ بعد الندور کراس پر جنگی یونیفارم میں کھڑے اہلکاروں سے سامنا ہوتا ہے۔ گھنٹوں کا انتظار، پھر وہی سوالات، وہی جوابات، پھر چائے پانی کا خرچہ اور وہی اذیت ناک سفر جاری رہتا ہے۔”

دلمراد سے جب ہم نے پوچھا کہ اتنی تذلیل کے باوجود وہ کیونکر اس کاروبار سے جڑے ہیں تو انکا کہنا تھا کہ “ہم زامران سے نکلتے ہیں، تیل لیکر واپس تربت میں داخل ہوتے ہیں، اس دوران کئی دن لگ جاتے ہیں، تمام خواریاں اور مصیبتیں اپنی جگہ، ہم پورے راستے ایک طرف گالم گلوچ اور بے عزتی کا شکار ہوتے رہتے ہیں اور دوسری طرف آدھے سے زیادہ کمائی رشوت میں فوج کو دے دیتے ہیں۔ یہ سب ہم اس لیے برداشت کرتے ہیں کہ گھر میں ہمارے بچے بھوک سے نہ مریں، ہم مجبور ہیں، اس کاروبار کے علاوہ ہمارے پاس کوئی اور روزگار نہیں۔ لیکن یہ سب کم تھا کہ اب اس روزگار کے واحد سہارے کو بھی ہم سے چھین لیا جارہا ہے۔ اس سے اچھا ہوتا کہ ہمیں بس ایک ایک ہی دفعہ مار ہی دیا جاتا۔”

دلمراد کہتا ہے کہ اس کاروبار کی بندش کی وجہ سے بلوچستان کے لوگ معاشی تباہی کا شکار ہونگے، وہ اختر مینگل اور ڈاکٹر مالک سے التجا کرتا ہے کہ آپ ہمیں ایف سی کی گالیوں سے نجات دلا تو نہیں سکے لیکن خدارا یہ کاروبار بند کرنے نہ دیں۔

دلمراد نے آخر میں چڑتے ہوئے کہا کہ “بلیدہ زامران کی ستر اسی ہزار آبادی کیلئے 4 سے 5 بڑے ایف سی کیمپ اور 28 سے زائد چیک پوسٹ موجود ہیں، ان میں لوگوں کی تذلیل اور صاحب لوگوں (فوجی افسروں) کی کمائی کے سوا اور کچھ نہیں ہوتا ہے۔ بلوچستان انکے لیئے سونے کی چڑیا ہے اور ہم اسکے وارث، بھوکے مررہے ہیں۔”

حکومت کی طرف سے نہ صرف تیل کے کاروبار پر پابندی لگائی گئی ہے بلکہ مغربی و مشرقی بلوچستان کے اس متنازعہ سرحد پر باڑ لگانے کا کام بھی شروع کیا گیا ہے، اور ان سب سفری اذیتوں مشکلات کے باوجود سرحد باڑ نصب کرنے میں فورسز دلمراد جیسے بیوپاریوں کو روک کر ان سے زبردستی جبری مزدوری لیتے ہیں۔ باڑ کے پلر کو نصب کرنے میں اجرتی کے مزدور نہیں بلکہ تیل بردار بلوچ مزدوروں کو روک کر مزدوری لیا جاتا ہے اور ان کے گاڑیوں کے تیل اتاروا کر بجری اور ریت بھی انہی کے گاڑیوں کو لوڈ کر ان سے کام لیا جاتا ہے،
یاد رہے بلوچ قوم پرست، بلوچستان کو پاکستان اور ایران میں تقسیم کرنے والے اس متنازعہ سرحد جسے گولڈ سمتھ لائن بھی کہتے ہیں کو تسلیم نہیں کرتے۔

جب دلمراد سے ہم نے پوچھا کہ اس سرحدی باڑ کے لگنے کے بعد تیل کے کاروبار کے علاوہ انکی زندگیوں پر کیا اثرات پڑیں گے؟ تو انہوں نے مزید کہا ” مغربی و مشرقی بلوچستان میں، خاص طور پر زامران اور پروم سے متصل علاقوں،مغربی اور مشرقی بلوچستان کے علاقے شمسر، باسد، ایشوی، تھدیم ، دربلی، کٹگاں، گربن، میتہ، سنگ، ڈمبانی، تحتانی گتان، کسوئی، سیاہ گیسی، ملوئی، تلان سر، گربن، سرکیزے ، ہتک، ناگ، خان کلگ بادئی، پوگنزان، سادیم ، اسپیتین گر ، میں ایک دوسرے کے رشتہ دار رہتے ہیں۔ صدیوں سے ہمارا بلا روک ٹوک ایک دوسرے کے ہاں آنا جانا ہے، ہم ایک دوسرے کی خوشی و غم میں شریک ہوتے ہیں۔ اب زامران کو بھی باڑ کے ذریعے الگ کیا جارہا ہے۔ اس سے ایک طرف ہمارے اپنے رشتہ داروں سے دوری ہوگی اور ہم ایک دوسرے کے کسی خوشی او غم کی تقریب میں شریک نہیں ہوسکیں گے، تو دوسری طرف ہمارے معاشی بدحالی کا دور بھی شروع ہوگا۔ ہم پسماندہ تو ہیں ہی، اب شاید ایک شدید فاقے کی صورت حال کیلئے ہم کو پہلے سے ہی تیار ہونا پڑے گا اور ہم اس کیلئے کچھ کر نہیں سکتے البتہ التجا کر سکتے ہیں کوئی اس انسانی المیے کو روکنے میں کردار ادا کرے۔”

بلوچستان پہلے سے ہی متعدد مسائل میں گھیرا ہوا ہے، اب جس طرح سیکیورٹی کے نام پر بلوچستان کے مختلف علاقوں میں باڑ لگانے کا کام شروع کیا گیا ہے، اس عمل سے یقینا بے چینی اور غیریقینی صورتحال میں اضافہ ہوگا، اور ان دعوؤں کو تقویت ملے گی کہ بلوچستان کو ایک کالونی کی حیثیت سے دیکھا جاتا ہے۔