بلوچستان میں گیس بحران – ٹی بی پی اداریہ

75

بلوچستان میں گیس بحران
ٹی بی پی اداریہ

بلوچستان کی متنوع آب و ہوا کی وجہ سے، یہاں پورا سال سخت موسم کا سامنا رہتا ہے۔ سردیوں کے دوران خاص طور پر بلوچستان کے پہاڑی علاقوں میں درجہ حرارت نقطہ انجماد سے نیچے چلا جاتا ہے، کبھی کبھار درجہ حرارت منفی 15 سینٹی گریڈ تک بھی پہنچ جاتا ہے اور گرمیوں میں یہاں موسم سخت گرم رہتا ہے۔

ہر سال سردیوں کے موسم میں برفباری اور بارش سرد مغربی ہواوں کے ساتھ ملکر مقامی لوگوں کیلئے جینا دو بھر کردیتے ہیں۔ جہاں بلوچستان کے لوگ زندگی کے دوسرے ضروریاتِ زندگی سے محروم ہیں، اسی طرح یہاں کے لوگ سرد موسم کی سختیوں سے مقابلہ کرنے کیلئے بھی سہولیات سے یکسر محروم ہیں۔

بلوچستان قدرتی وسائل سے مالا مال ہے اور پورے پاکستان کو قدرتی گیس مہیا کرنے والا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ سوئی گیس فیلڈ، جو بلوچستان کے ضلع ڈیرہ بگٹی میں واقع ہے، قدرتی گیس کے وسیع ذخائر رکھتا ہے اور سنہ 1950 سے پاکستان کے آدھے سے زائد گیس کی ضروریات پورا کررہا ہے۔ گیس پائپ لائنوں کا ایک جدید نظام سوئی گیس فیلڈ کے 87 کنووں سے روزانہ 800 ایم ایم ایس سی ایف گیس ہزاروں میل دور پنجاب سپلائی کرتا ہے۔ لیکن گیس فیلڈ سے محض چند کلومیٹر دور ڈیرہ بگٹی شہر تک قدرتی گیس کے ان ذخائر سے مستفید ہونے سے محروم ہے اور مقامی لوگ ابھی تک گیس کی بنیادی سہولت حاصل نہیں کرسکے ہیں۔ گردونواح کے لوگ آج تک حرارت کیلئے لکڑیوں پر گذارا کرتے ہیں۔

یہ محرومی محض ڈیرہ بگٹی تک موقوف نہیں، بلوچستان کے 33 اضلاع میں سے محض 4 اضلاع کو گیس کی سہولت میسر ہے، جن میں کوئٹہ، زیارت، مستونگ اور قلات شامل ہیں۔ یہ اضلاع بھی سردیوں میں گیس پریشر میں شدید کمی اور لوڈ شیڈنگ کا سامنا کرتے رہتے ہیں۔ ہر سال سردیاں بلوچستان کے لوگوں کیلئے اپنے ساتھ بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی کی وجہ سے بے شمار مصائب بھی لے آتا ہے۔

ہر سال بلوچستان کے لوگ گیس کی عدم دستیابی پر سڑکوں پر نکل کر سراپا احتجاج نظر آتے ہیں، اور حزب اختلاف اسلمبلیوں میں احتجاج کرتی ہے، لیکن ہر گذرتے سال حالات بہتر ہونے کے بجائے ابتر ہوتے جارہے ہیں۔ گذشتہ سال بلوچستان کے ضلع قلات میں شیخڑی کے مقام پر گیس کے ایک ٹریلین مکعب فٹ کے نئے ذخائر دریافت ہوئے۔ لیکن اسکے باوجود بلوچستان کے حالت میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، اسکی سب سے بڑی وجہ بلوچستان سے نکلنے والے گیس کو پنجاب اور سندھ کی ضروریات پوری کرنے کیلئے پائپ لائن لگاکر وہاں سپلائی کیجاتی ہے۔

متذکرہ مسئلہ اور بلوچستان کے اسی طرز کے دوسرے مسائل بلوچ قوم پرستوں اس موقف کو توانا کرتی ہے کہ ریاست پاکستان بلوچ وسائل کا استحصال کررہا ہے اور بلوچستان کے لوگ بیش بہا وسائل کے مالک ہونے کے باوجود بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔

بلوچستان کے لوگوں کو جب تک انکے اپنے وسائل پر مکمل اختیار اور حق نہیں مل جاتا، تب تک بلوچستان کے سرزمین پر بلوچوں کی منشا کے خلاف ہونے والے سیپک جیسے معاہدات، بلوچوں کے غم وغصے اور بلوچستان میں جاری بے چینی میں مزید اضافہ کرتے جائیں گے۔