امریکا کے نومنتخب صدر جوبائیڈن نے عہدے کا حلف اٹھا لیا، وہ امریکا کے 46ویں صدر بن گئے

94

تقریب حلف برداری سے خطاب کرتے ہوئے جوبائیڈن کا کہنا تھا کہ آج کا دن امریکا اور جمہوریت کا دن ہے ہمیں مختلف چیلینجز کا سامنا ہے جس کا مل کر مقابلہ کریں گے۔

اُن کا کہنا تھا کہ جمہوریت انمول اور نازک ضرور ہے مگر آج بھی جمہوریت ہی سربلند ہے، ہم جمہوریت کی بنیادوں اور اتحاد کی بحالی کیلئے کام کریں گے، میں اپنی پارٹی کے پہلے دو صدور کی گراں قدرخدمات کو سراہتا ہوں۔ آج ہم ایک امیدوار نہیں بلکہ اپنےنصب العین کی فتح کاجشن منارہے ہیں کیونکہ آج شخصیات کی نہیں جمہوریت اور جمہوری عمل کی فتح ہوئی ہے۔

جوبائیڈن کا کہنا تھا کہ چند روز قبل کیپٹل ہل حملے نے جمہوریت کی بنیادی ہلا کر رکھ دی تھی. امریکا کی کہانی کسی ایک پر نہیں ہم سب منحصر ہے آج پورے امریکا کو پھر سے متحد کرنےکا دن ہے کیونکہ یہ عظیم لوگوں کا ملک ہے اور ہمارے درمیان بہترین روابط بھی ہیں۔

جوبائیڈن کا کہنا تھا کہ میں امریکا کے آئین کی طاقت پریقین رکھتا ہوں، ہمیں مل کر نفرت، تعصب، نسل پرستی، انتہاء پسندی کا مقابلہ کرنا ہے۔ تاریخ، عقیدے اور دلیل کےساتھ ہم امریکا کو ایک بار متحد کریں گے۔آج کا دن وہ ہے جب ہمیں ریاست ہائے متحدہ امریکا بننا ہوگا، ہمیں اختلافات کو جنگ میں نہیں بدلناچاہیے۔

اُن کا کہنا تھا کہ کرونا کی وجہ سے اتنی اموات ہوئیں جتنی جنگوں میں بھی نہیں ہوئیں، کووڈ کے باعث معیشت متاثر ہوئی، بے روزگاری میں اضافہ ہوا، ہم متحد ہوکر ہی دہشت گردی اور کرونا جیسی وباء کا مقابلہ کرسکتے ہیں۔

انہوں نے کہا میری روح قومی اتحاد کے مقصد سے جڑی ہوئی ہے، امریکا کو ایک بار پھر صف اول کی طاقت بناسکتے ہیں، ہم ایک مرتبہ پھر امریکا کو دنیا میں اچھائی کی سب سے بڑی طاقت بنائیں گے، ہم سب کا ایک ہونا ہے۔

نومنتخب صدر نے کہا کہ میں پورے امریکا کا صدر ہوں، کوئی تفریق نہیں کروں گا، اختلاف رکھنے والوں کا بھی احترام ہے کیونکہ یہی جمہوریت ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ ’ہم سب ایک مرتبہ پھر متحد ہوکر امن قائم کرسکتے ہیں، نسلی تعصب کا امتیاز اب دوبارہ سر نہیں اٹھائے گا، ہمیں ایک دوسرےکو عزت اور ایک دوسرے کا ہاتھ تھامنا ہوگا، امریکا ہمیشہ مشکل حالات میں سرخرو ہو کر نکلتا رہا ہے، جو میرے خلاف ہیں میں انہیں بات چیت کی دعوت دیتا ہوں، آئیں بات کریں اور مسئلے کا حل نکالیں، جانتاہوں ہمیں تقسیم کرنے والی طاقتیں مضبوط ہیں، ہمیں اختلافات بغیر لڑائی اور تشدد کے بھی حل کیےجاسکتے ہیں.