شال، تم بلوچستان ہو – حاجی حیدر

133

شال، تم بلوچستان ہو

 تحریر: حاجی حیدر

دی بلوچستان پوسٹ

شال نے جب بھی مجھے آواز دی، میں اس کے پاس دوڑا چلا آیا، مجھے اس خرابے سے عشق ہے، اس کی مٹی کی خوشبو سے مجھے اپنے ہونے کا یقین ملتا ہے،  وادی شال کے سینے میں ان گنت راز ہیں، پتہ نہیں میری تہذیب کو کس کی نظر کھا گئی۔

شال، بلوچ مزاحمت کا ہمیشہ مسکن رہا ہے، اس شہر نے نوآبادیات کے مختلف ادوار میں استعماریت کے خلاف مزاحمت کے لیے اپنے آپ کو پیش کیا ہے، آخر کیوں پیش نہ کرے، یہاں میرا وجود بستا ہے، اس شہر میں گم شدہ لوگ بولتے ہیں، مسخ شدہ لاشیں بولتی ہیں، نقل مکانی کرنے والوں کی فریاد گونجتی ہے، یہاں یتیم و بے بس طبقات بولتے ہیں، انسانوں کو بولنے کی اجازت کہاں، شال میں لوگوں کے کردار بولتے ہیں، جس طرح تھامس سانکرا pan Africanist نے کہا تھا، ” I can hear the roar of women’s silence.”

بلوچ مزاحمتی سیاسی جدوجہد کی تربیت کی اس شہر نے، کسی نے درست کہا کہ اگر بلوچستان کی محکومیت کو دیکھنا ہے تو شال میں ماما قدیر کے کیمپ میں چلو، جہاں لاتعداد بلوچ اسٹوڈنٹس کی جبری گمشدگی کے کیسز ملیں گے، لیکن حالیہ مزاحمتی تحریکوں نے اس شہر کو اور خوبصورت بنایا ہے، جہاں سرمایہ دارانہ نظام اور استعماریت نے بلین آف ڈالرز خاص کر بلوچستان میں اس لیے لگائے تاکہ نوجوانوں کی سوچ کو غیرسیاسی بنایا جائے اور ان کے اتحاد کو توڑا جائے۔

لیکن شال نے اس اتحاد کو پھر مضبوط کیا اور بلوچ طلبا تنظیموں کے درمیان استعماریت کے خلاف سیاسی جڑت کا شعور دیا،کیونکہ ایک چیز طے ہے، آپ لاکھ ہمیں دھڑوں میں تقسیم کریں لیکن جس طرح فیض نے کہا “محکوم اور پسے ہوئے اقوام کے درمیان جو رشتہ ہوتا ہے، وہ درد کا رشتہ ہوتا ہے”، وہ کسی بھی وقت یکجا ہو کر اس کولونیلزم لیگسی کے خلاف آواز اٹھائیں گے۔

ایک چیز جو سچ ہے، وہ ہے بلوچ مزاحمتی تحریک نے اپنا پیغام ایک منظم طریقے سے نوجوانوں تک پہنچایا ہے، وہ پیغام ظلم کے خلاف آواز اٹھانے کا، وہ پیغام بالادست کے خلاف سڑکوں پر نکل آنے کا، وہ پیغام اختلافِ رائے قائم کرنے کا، وہ پیغام مزاحمت کا، وہ پیغام جینے کا، سوچنے کا، اپنے حق و حقوق کے لیے مزاحمت کا۔

شال نے ایک ماں کی طرح ہماری تربیت کی۔ شال نے ہمیں چیخوف، لینن، اسٹالن، مارکس کی تصانیف سے آگاہ کیا، ہمیں مزاحمت لکھنے کے لیے مختلف حالات میں پیش کیا۔

شال، تم مزاحمت  ہو
شال تم رخشان ہو
تم کیچ ہو،تم نصیر آباد ہو تم کوہلو ہو، تم کولواہ ہو،تم بلوچ ہو…
شال، تم بلوچستان ہو۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔