سندھ اس کا جنم دن بھول بیٹھا ہے- محمد خان داؤد

40

سندھ اس کا جنم دن بھول بیٹھا ہے

 تحریر : محمد خان داؤد

دی بلوچستان پوسٹ 

کل اس کا جنم آیا اور گزر بھی گیا، وہ اپنے جنم دن سے بے خبر رہا کیونکہ  وہ دیس کے گم شدہ لوگوں کی بازیابی کے لیے سفر میں ہے، پر سندھ اس کے جنم دن سے کیوں بے خبر رہا؟سندھ کی دانش اس کے جنم دن سے کیوں بے خبر رہی، سندھ کا وہ خاص اور مخصوص ٹولہ جس کے لیے سندھی میں بہت ہی بے ہودہ سا لفظ ہے(سایان وند)وہ کیوں بے خبر رہی؟وہ لوگ کیوں بے خبر رہے جن لوگوں کی ردی میں پھینکی جانے والی اسٹوریز کو وہ دل سے چھاپتا رہا؟وہ لوگ کیوں بے خبر رہے جو اسے بہت ہی معمولی اشتہار دے کر اپنی گھٹیا سی نظمیں اس کے پرچے میں شائع کراتے رہے ہیں؟وہ سرکاری دفاتر کے پی آر او کیوں خاموش رہے جو اس اشتہار دے کر اس کے پیسے کھائے بیٹھے ہیں؟ وہ سرکاری کامورے کیوں خاموش تھے جو اپنی بے ہودہ سے ادبی تخلیقات لکھ لکھ کر ادیب اور دانشور بن بیٹھے اور ان کی گھٹیا تخلیقات کا بار بھی یسوع کی طرح وہی اٹھاتا رہا جو سرکاری کامورے اپنی ردی جیسی دانش کو سیڑھی بنا کر بہت آگے نکل گئے اور وہ وہی رہ گیا جہاں سیاہی کی کالک ہوتی ہے اور پریس کا بے ہنگم سا شور۔

اسے اور اس کا جنم دن وہ بھی بھول گئے جو مہان ادیب اور آرٹسٹ ہیں اور وہ بھی بھول گئے جو سرکاری کامورے تو ہیں پر ان پر دانش کا در بند ہی رہا ہے پر وہ بہت سے پیسے دیکر کسی سے بھی قلم مزدوری کروالیتے ہیں اور اپنے آفس کے شوخ لڑکیوں کو پٹا کر ان سے رومانس کرتے نظر آتے ہیں
اسے وہ بھی بھول گئے جو قوم کا درد رکھنے والے صحافی دانشور ہیں
اسے وہ بھی بھول گئے جو نئے لکھنے والے تھے اور اس نے ان کی کچی پکی تخلیقات کو بہت عمدہ سے شائع کیا
وہ تو اپنا جنم دن اس لیے بھول گیا کہ وہ سفر میں ہے اور سفر بھی ایسا نہ جس کی اختتام اور نہ ہی منزل۔
منزل کیا پر سفر کا تو کوئی سنگِ میل بھی نہیں جہاں پر درج ہو کہ
ّّ”درد اختتام”0“کلومیٹر“
پر ایسا بھی نہیں اس درد کو ہی کوئی سنگِ میل نہیں ہوتا جو درد معلوم،معلوم سا ہوتا ہے
تو اس درد کو سنگِ میل کیوں کر ہوگا جس کا سبب بھی معلوم نہیں بس مائیں ہیں کہ درد میں بہتی جا رہی ہیں
تو عزیزو ! وہ تو اپنا جنم دن اس لیے بھول گیا کہ اس کے پیر دن رات سفر کر رہے ہیں وہ مورڑو کی بستی سے طالب المولا کی بستی تک پہنچ گیا ہے
پر سندھ اس کا جنم دن کیوں کر بھول گیا جو وہ مسافر ہی اس دیس کے دردوں کے لیے بنا ہے؟!!
وہ درد جو بے سبب ہیں
وہ در جو لا دوا ہیں
وہ درد جو لاعلاج ہیں
وہ درد جو بہت سے ہیں
وہ درد جو سب کو ہیں
وہ درد جن دردوں میں یہ دیس مبتلا ہے
وہ درد جن دردوں کا مائیں ماتم کرتی ہیں
وہ درد جو ماؤں کو یتیم کر جا تے ہیں
وہ درد جو مائیں آدھی رات کو اپنے کاندھوں پہ سوار کر کے مٹھی کا سفر کرتی ہیں
وہ درد جن دردوں کو سندھ کے رُلتے سنگ،سنگ زنی کرتے ہیں
وہ درد جن دردوں کو کوئی ویکسین دستیاب نہیں
وہ درد جو بس معصوم بچوں کو ہی پاگل نہیں کر جا تے پر ماؤں کو بھی پاگل کر جا تے ہیں
وہ درد جو تھر کی ریت میں دفن ہو جا تے ہیں
وہ درد جو تھر کے صحرا میں نئی قبر کا اضافہ کر جا تے ہیں
وہ درد جس درد سے تھر کے صحرا میں بارش نہیں برستی
وہ درد جس درد سے کھبیوں کی طرح تھر کے صحرا میں نئی معصوم قبریں اُگ آتی ہیں
وہ درد جس درد میں ماؤں کے ہاتھوں میں تصویریں رہ جا تی ہیں
اور بڑے بچے نہیں ملتے
وہ دردجو ماؤں کا مسافر بنا جاتا ہے
وہ درد جس درد کا کوئی جواب نہیں بس سوال ہی سوال ہیں
وہ درد جس درد میں
ہاتھ بے بس
آنکھیں رو تی اور منتظر رہتی ہیں
اور پیر مسافر بنتے ہیں
وہ درد جس درد میں بیٹیاں جلد جوان ہو جا تی ہیں
وہ درد جس درد میں نیند نہیں آتی پر آنکھیں خود ہی درپر اٹک جا تی ہیں
وہ درد جو ہر روز دفن ہوتا ہے
اور ہر روز نیا ہوجاتا ہے
وہ درد جو بہت پرانا ہے
وہ درد جو نیا نیا سا معلوم ہوتا ہے
وہ درد جس درد کا کوئی سنگِ میل نہیں
اسی درد کو لیے وہ تو مسافر بنا ہے وہ جانتا ہے اس کے پیر بہت قلیل سفر کر سکتے ہیں اور سفر بہت طویل ہے پر وہ یہ بھی تو جانتا ہے کہ اس کے قلیل سفر اور ان ماؤں کو دلاسہ دینے سے ان ماؤں اور بیٹوں کو کچھ تو صبر آجائیگا جو مائیں اپنے گم شدہ بیٹوں کی تصویروں کے ساتھ گھنٹوں گھنٹوں ایسے رو تی ہیں جیسے کسی بچے کا من پسند کھلونا ٹوٹ گیا ہو اور وہ بے صبری میں رو رہا ہو
وہ مسافر بنا ہوا ہے اور سندھ اس کا جنم دن بھول بیٹھا ہے۔

سندھ اس کا جنم دن کیوں بھول بیٹھا ہے؟وہ پنڈی اسلام آباد اس لیے تو نہیں جا رہا کہ اس کی  این ای ڈی سے گولڈ میڈل بچی کو پی ڈی ایم کا پلیٹ فارم دیا جائے اور وہ اس پہ تقریر کرے اور وہ نہ اس لیے پنڈی جا رہا ہے کہ اس کی بچی کو شبلی فراز والا عہدہ دیا جائے اور نہ ہی وہ پنڈی اس لیے جا رہا ہے کہ اس کی بچی کو اب فل برائیٹ اسکالر شپ دی جائے نہیں
وہ تو پنڈی اس لیے جا رہا ہے کہ سندھ کی ماؤں کے درد لا دوا بن گئے تھے اور کوئی یسوع نہ تھا جو ان ماؤں کو گلے لگاتا اور وہ مائیں جو کئی کئی سالوں سے مصلوب ہیں ان کی صلیب بس ایک دن ہی وہ اُٹھاتے
نہیں ایسا کوئی نہیں
وہ تو ان ماؤں کی صلیب اُٹھائے جا رہا ہے جن ماؤں کو اس ریاست نے مصلوب کیا ہوا ہے
اور سندھ اس کا جنم دن بھول بیٹھا ہے


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔