بی ایس او آزاد کے نومنتخب چیئرمین ابرم بلوچ کیساتھ خصوصی گفتگو

906

بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن، تاریخ، مقاصد، کونسل سیشن

نومنتخب چیئرمین ابرم بلوچ کیساتھ خصوصی گفتگو

بی ایس او کیا ہے؟

بلوچستان کی سیاست میں بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کا کردار ہمیشہ کلیدی رہا ہے۔ اس تنظیم کی بنیاد پہلی بار بلوچ اسٹوڈنٹس ایجوکیشنل آرگنائزیشن کے نام سے 1962 میں کراچی میں رکھی گئی. جسکے بنیادی مقاصد میں بلوچ طلباء کو مجتمع کرکے ان میں قومی وسیاسی شعور اجاگر کرنا اور انکے حقوق کیلئے جدوجہد کرنا تھا۔ اس کے نام میں لفظ “ایجوکیشنل” کے اضافے کی وجہ ایوبی آمریت بتائی جاتی ہے، کیونکہ اس دور میں طلباء سیاست پر پابندی عائد تھی۔ 1962 کو تنظیم کے پہلے چیئرمین چنگیزعالیانی منتخب ہوئے تھے۔

26 نومبر 1967 کو تنظیم کے نام سے لفظ ایجوکیشنل ختم کرکے باقاعدہ طور پر بلوچ اسٹوڈنٹس آگنائزیشن رکھا گیا اور پہلا کونسل سیشن منعقد کیا گیا۔ کونسل سیشن میں ڈاکٹرعبدالحئی بلوچ بی ایس او کے پہلے چیئرمین جبکہ بیزن بلوچ پہلےسیکریٹری جنرل منتخب ہوئے۔

بی ایس او کی تاریخ جہاں جدوجہد، قربانیوں اور قدوبند سے بھری پڑی ہے، وہیں بی ایس او میں آپسی اختلافات کی تاریخ بھی اتنی ہی طویل اور پرانی ہے۔ ان اختلافات کی ابتداء بی ایس او کے پہلے کونسل سیشن سے ہی ہوگیا تھا۔ ڈاکٹر حئی اور رفقاء نئے بننے والے قوم پرست اتحاد نیپ (نیشنل عوامی پارٹی) سے ہمدردی رکھتے تھے، جبکہ سابقہ سیکریٹری جنرل عبدالرحیم ظفر، امان اللہ گچکی وغیرہ پیپلز پارٹی سے ہمدردی رکھتے تھے۔ جس کی وجہ سے انہوں نے بی ایس او (اینٹی سردار) کے نام سے بی ایس او کا ایک الگ دھڑا قائم کرلیا اور یہیں سے بی ایس او میں تقسیم کی روایت کا آغاز ہوگیا۔

سنہ 1972 تک بی ایس او (اینٹی سردار) پر پیپلز پارٹی کا اثرورسوخ ختم ہوجاتا ہے، وہ نیا کونسل سیشن منعقد کرتے ہیں، تاج بلوچ چیئرمین منتخب ہوتے ہیں۔ دوسری جانب بی ایس او (عوامی) اُردو کالج کراچی میں کونسل سیشن منعقد کرتا ہے، جہاں آج کے بلوچ قومی تحریک کے قدآور شخصیت اور ماضی کے طالب علم رہنماء عبدالنبی بنگلزئی چیئرمین منتخب ہوتے ہیں۔

سنہ 1974 کو بی ایس او کے یہ دونوں دھڑے مذاکرات کے بعد اپنے اختلافات ختم کرکے انضمام کا فیصلہ کرتے ہیں اور مشترکہ کونسل سیشن بلاتے ہیں، جس میں ایوب بلوچ چیئرمین اور یاسین بلوچ سیکریٹری جنرل منتخب ہوتے ہیں۔

سنہ 1986 تک بی ایس او ایک تنظیم کے صورت قائم رہتی ہے، لیکن 1986 کے کونسل سیشن کے بعد جہاں یاسین بلوچ چیئرمین منتخب ہوتے ہیں، بی ایس او میں دوبارہ اختلافات جنم لینا شروع ہوجاتے ہیں اور ڈاکٹر کہور خان 1987 میں اپنا الگ دھڑا بی ایس او صہب کے نام سے بناتے ہیں۔

بی ایس او کی تاریخ میں نوے کی دہائی ایک تاریک دہائی کی حیثیت سے یاد کیا جاتا ہے، جسکے دوران دھڑے بندیاں، آپسی لڑائی جھگڑے، فروعی سیاست بام عروج پر رہی اور کئی دھڑے بنتے اور ٹوٹتے رہے۔

بی ایس او آزاد کی ابتداء:

بی ایس او کی تاریخ کے دھارہ میں ایک بہت بڑی تبدیلی تب پیدا ہوتی ہے، جب فروری 2002 کو بی ایس او (محراب) کونسل سیشن منعقد کررہا ہوتا ہے، جس کا بی ایس او کے سینئر وائس چیئرمین ڈاکٹر اللہ نظر بلوچ اپنے ساتھیوں سمیت بائیکاٹ کردیتا ہے۔ جس کی وجہ اس وقت کے بی ایس او کے چیئرمین نادر قدوس کا پاکستانی پارلیمانی جماعتوں سے قربت، بی ایس او کی حقیقی روح سے روگردانی بتاتے ہیں۔ ڈاکٹر اللہ نظر آزادی، غیر پارلیمانی سیاست اور بی ایس او کی آزاد حیثیت کا نظریہ رکھتے ہوئے، الگ کونسل سیشن منعقد کرکے بی ایس او آزاد کی بنیاد رکھتے ہیں اور تنظیم کے پہلے چیئرمین منتخب ہوتے ہیں۔

اس وقت بی ایس او آزاد اور محراب کے علاوہ بی ایس او کے مزید دو دھڑے موجود ہوتے ہیں۔ بی ایس او (مینگل) جو بی این پی (مینگل) سے، اور بی ایس او (استار) جو بی این پی (عوامی) سے قربت رکھتے تھے۔ بی ایس او (استار) اپنے چیئرمین حمید شاہین کی سربراہی میں بی ایس او آزاد کے ساتھ انضمام کا اعلان کردیتا ہے۔ جس کے بعد بی ایس او آزاد اپنا نام بدل کر بی ایس او (متحدہ) رکھ دیتا ہے۔ بی ایس او (متحدہ) کا کونسل سیشن پنجگور میں منعقد کیا جاتا ہے، جہاں چیئرمین ڈاکٹر امداد بلوچ اور جنرل سیکریٹری سعید یوسف بلوچ منتخب ہوتے ہیں۔

بی ایس او آزاد اور استار کے انضمام کے بعد ایک بار پھر بی ایس او کے باقی دھڑوں کے ساتھ گفت وشنید شروع ہوتی ہے اور تمام دھڑیں انضمام کرکے “سنگل” بی ایس او پر اتفاق کرتے ہیں۔ جو انتہائی قلیل عرصے تک قائم رہتا ہے، پہلے کونسل سیشن سے قبل ہی واحد رحیم بلوچ الگ دھڑا بی ایس او پجار کے نام سے قائم کردیتا ہے۔

2006 کو باقاعدہ طور پر کوئٹہ میں بی ایس او کا کونسل سیشن منعقد ہوتا ہے، جہاں بشیرزیب بلوچ چیئرمین، سنگت ثناء بلوچ وائس چیئرمین اور گلزار بلوچ سیکریٹری جنرل منتخب ہوتے ہیں۔ کونسل سیشن کے دوران اختلافات پر محی الدین بلوچ اپنا الگ دھڑا قائم کرتے ہیں۔ اسکے بعد سنگل بی ایس او اپنا پرانا نام بی ایس او آزاد دوبارہ اختیار کرلیتا ہے۔

سنہ 2008 کو بی ایس او آزاد کے اگلے کونسل سیشن میں بشیر زیب بلوچ دوسری بار تنظیم کے چیئرمین جبکہ زاہد بلوچ سیکریٹری جنرل منتخب ہوتے ہیں۔ اگلے کونسل سیشن کیلئے بی ایس او آزاد کو سخت حالات کی وجہ سے چار سال کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔ 2012 کو منعقدہ انیسویں کونسل سیشن میں زاہد بلوچ چیئرمین، کریمہ بلوچ سینئر وائس چیئرمین جبکہ رضا جہانگیر سیکریٹری جنرل چنے جاتے ہیں لیکن بی ایس او آزاد کے مطابق 14 مارچ 2014 کو انکے چیئرمین زاہد بلوچ کو خفیہ اداروں کے اہلکار گرفتار کرکے لاپتہ کردیتے ہیں، جو تاحال منظر عام پر نہیں آسکے ہیں، اس سے قبل تنظیم کے سیکریٹری جنرل رضا جہانگیر کو بھی تربت میں فورسز ایک چھاپے کے دوران فائرنگ کرکے قتل کردیتے ہیں۔

2015 کو بی ایس او کا بیسواں کونسل سیشن منعقد کیا جاتا ہے، جس میں چئیرپرسن کریمہ بلوچ اور سیکریٹری جنرل ثناء اللہ عرف عزت بلوچ منتخب ہوتے ہیں۔ کریمہ بلوچ کو بی ایس او کی تاریخ میں پہلی خاتون سربراہ ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔
بی ایس او آزاد اپنا اکیسواں کونسل سیشن 2018 کو منعقد کرتا ہے، جہاں سہراب بلوچ تنظیم کے چیئرمین منتخب ہوتے ہیں۔ یہ سلسلہ اس سال تک جاری رہا، جب 3 نومبر 2020 کو بی ایس او آزاد یہ اعلان کرتا ہے کہ “بی ایس او آزاد کا بائیسواں قومی کونسل سیشن بنام معلم آزادی شہید صبا دشتیاری و بیاد درسگاہ آزادی خیر بخش مری آج کونسل سیشن کے تیسرے دن کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوگیا ہے۔ جس میں ابرم بلوچ بلامقابلہ چیئرمین جبکہ مہر زاد بلوچ بلا مقابلہ سیکریٹری جنرل منتخب ہوئی ہیں۔”

چیئرمین ابرم بلوچ کون ہیں؟

ابرم بلوچ بی ایس او آزاد کے آٹھویں چیئرمین ہیں، انہوں نے اپنی سیاسی زندگی کا آغاز اسکول کے زمانے میں ساتویں جماعت سے ہی کردیا تھا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب بلوچستان میں آزادی کی پانچویں تحریک کا آغاز ہوچکا تھا اور یہ پورے بلوچستان میں پھیل چکی تھی۔ ابرم بلوچ کا تعلق بلوچستان کے ایک ایسے علاقے سے ہے، جو سیاسی حوالے سے ہمیشہ متحرک رہا ہے، اس لیئے کم سنی میں ہی انہیں مختلف سیاسی جماعتوں کے مجالس، تقریبات اور سرکلوں میں بیٹھنے کا موقع ملا۔ یہیں سے انکی بنیادی سیاسی تربیت شروع ہوگئی۔

انہوں نے باقاعدہ طور پر بی ایس او آزاد کے پلیٹ فارم سے سیاسی سرگرمیاں اس وقت شروع کیں، جب سنہ 2008 کو تنظیم اپنا کونسل سیشن منعقد کررہی تھی۔ لیکن وہ اس وقت تک تنظیم کے باقاعدہ رکن نہیں تھے، انہوں نے باقاعدہ رکنیت اگلے سال سنہ 2009 میں اختیار کرلی۔ اپنے متحرک سیاسی کردار کے وجہ سے اسی سال ہی دسمبر 2009 کو وہ اپنے یونٹ کے ڈپٹی یونٹ سیکریٹری چنے گئے، اور مختصر عرصے میں وہ اپنے یونٹ کے یونٹ سیکریٹری بھی منتخب ہوئے۔

سنہ 2010 کو جب انکے زون کو تحلیل کرکے آرگنائزنگ کمیٹی تشکیل دی گئی تو وہ پہلی بار زونل آرگنائزنگ کمیٹی کے رکن منتخب ہوئے اور جب سنہ 2011 میں انہوں نے نیا نیا اپنا میٹرک مکمل کرلیا تھا، تو وہ نئے تشکیل پانے والے زونل کابینہ کے رکن منتخب ہوئے۔

سنہ 2009 سے ہی بی ایس او آزاد پر ریاستی کریک ڈاون شروع ہوچکی تھی، تنظیم کے وائس چیئرمین ذاکر مجید بلوچ کو گرفتاری کے بعد لاپتہ کردیا گیا تھا، جو تاحال لاپتہ ہیں۔ اسکے بعد بی ایس او آزاد کے درجنوں ذمہ داران اور کارکنان کو روزانہ کے بنیاد پر لاپتہ کرنے اورقتل کرنے کا سلسلہ شروع ہوچکا تھا۔ مارچ 2013 کو بی ایس او آزاد کو باقاعدہ ایک کالعدم تنظیم قرار دیا جاچکا تھا۔ چیئرمین ابرم بلوچ کے مطابق “یہ دور بی ایس او آزاد کے لئے مشکل اور کٹھن دور تھا، لیکن تنظیمی لیڈر شپ کی دور اندیشی، مستقل مزاجی اور معاملہ فہمی نے تنظیم اور کارکنان کے حوصلوں میں کمی نہیں آنے دی۔ یہ سیاسی دور اور یہ کٹھن حالات ہماری تربیت کا ذریعہ تھیں، جنہوں نے ہمیں ہر مشکل حالات کا مقابلہ کرنے کی قوت فراہم کی اور میری اصل سیاسی تربیت اسی سخت دور نے کی۔”

ریاستی اداروں کی طرف سے بی ایس او آزاد پر جاری سخت کریک ڈاون کی وجہ سے بی ایس او آزاد نے نئے حالات کے مطابق خود کو ڈھالتے ہوئے اپنی ساخت مکمل بدل دی اور 2011 کے وسط میں ایک نئی ساخت “سیل سسٹم ” کے مطابق تنظیم کی تشکیل نو کی گئی۔ نئے ساخت کے مطابق ابرم بلوچ زونل سیل آرگنائزر منتخب ہوئے۔

اسکے بعد وہ آٹھ سالوں تک بی ایس او آزاد کے مختلف مرکزی عہدوں پر ذمہ داریاں سرانجام دیتے رہے اور رواں سال 2020 کو تنظیم کے بائیسویں کونسل سیشن میں ابرم بلوچ بی ایس او آزاد کے نئے چیئرمین منتخب ہوئے۔

چیئرمین ابرم بلوچ سے ملاقات:

ابرم بلوچ اپنا اصل نام میڈیا میں ظاہر نہیں کرتے، اور انکے تعارف سے بھی ایسی معلومات ہذف کیئے گئے ہیں، جن سے انکی شناخت ممکن ہوسکے۔ دی بلوچستان پوسٹ نے مختلف ذرائع سے مسلسل کوششوں کے بعد ان سے رابطہ کرکے نامعلوم مقام پر ملاقات کی، جہاں انہوں نے تصاویر کھنچوانے سے منع کردیا اور انٹرویو کے دوران وہ مسلسل ماسک پہنے ہوئے تھے۔ وجہ دریافت کرنے پر انہوں نے بتایا کہ یہ ماسک کرونا سے تحفظ سے زیادہ ریاستی فورسز سے تحفظ کیلئے ہے۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ انکے تنظیم کے سابق چیئرمین زاہد بلوچ نے بی بی سی کو ایک انٹرویو دیا تھا، جس میں انہوں نے اپنا چہرہ نہیں ڈھانپا تھا، اس انٹرویو کے چند ہفتوں بعد انہیں فورسز نے اٹھالیا، چھ سال گذرنے کے باوجود وہ آج تک لاپتہ ہیں۔ حالانکہ انہوں نے اپنے انٹرویو میں واضح الفاظ میں یہ کہا تھا کہ انکی تنظیم پرامن جدوجہد پر یقین رکھتی ہے اور محض ایک طلباء تنظیم ہے۔

سوال و جواب:

دی بلوچستان پوسٹ: سب سے پہلے ہم آپکو بی ایس او آزاد کے نئے چیئرمین منتخب ہونے پر مبارکباد پیش کرتے ہیں اور ادارے کی جانب سے آپکا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ آپ نے ہم سے گفتگو کی حامی بھری۔

ابرم بلوچ: دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک کا شکریہ جو ہمارا موقف سننے تشریف لائے۔


دی بلوچستان پوسٹ: گذشتہ ایک دہائی سے زائد عرصے سے دیکھا جاسکتا ہے کہ بی ایس او آزاد کے خلاف ریاستی کریک ڈاون زوروشور سے جاری ہے اور مارچ 2013 سے تنظیم قانونی طور پر پابندی کا شکار بھی ہے۔ ایسے حالات میں جمہوری روایات کو برقرار رکھنا ایک تنظیم کیلئے کتنا مشکل ہوتا ہے؟ کونسل سیشن منعقد کرتے ہوئے آپکو کن مصائب کا سامنا تھا؟

ابرم بلوچ: شاید یہاں الفاظ میں اس مشکل صورت حال کو بیان کرنا ممکن نہ ہو جنکا ہمیں کونسل سیشن منعقد کراتے ہوئے سامنا کرنا پڑا۔ بلوچستان مکمل طور پر ایک جنگ زدہ خطے میں بدل چکا ہے۔ یہاں کسی بھی قسم کی معمولی سیاسی سرگرمی بھی آزادانہ طور پر منعقد نہیں کی جاسکتی۔ ایسی صورتحال میں کونسل سیشن جیسی بڑے تنظیمی پروگرام کا انعقاد کرنا ہمارے لیے بہت زیادہ مشکل تھا، لیکن ہمارے تنظیم کے نظریاتی کارکنان نے شب و روز محنت کرکے انتہائی مشکل حالات سے گذرکر کونسل سیشن کے انعقاد کو ممکن بنایا۔

یہ امر نا صرف ان کٹھن حالات میں بی ایس او آزاد میں مضبوط جمہوری اداروں کی عکاسی کرتا ہے، بلکہ سب سے بڑھ کر یہ تنظیم اور نظریئے کے ساتھ ہمارے کارکنان کی مضبوط کمٹمنٹ کا بھی اظہار ہے۔ یہی مضبوط ادارجاتی ہیت اور نظریاتی کمٹمنٹ ہی بنیادی وجہ ہے کہ ایک ریاست کی پوری مشینری تنظیم کے خلاف استعمال ہونے کے باوجود بی ایس او آزاد آج بھی اپنی جگہ پر مضبوطی کے ساتھ قائم ودائم ہے۔

دی بلوچستان پوسٹ: بی ایس او آزاد باقی بلوچ طلباء تنظیموں سے کیسے مختلف ہے؟

ابرم بلوچ: بی ایس او اپنی 53 سالوں سے زائد عرصے پر محیط تاریخ میں مختلف نشیب و فراز سے گذرا ہے۔ بی ایس او نے کبھی قومی آزادی کے نظریئے کو فروغ دیا، تو کبھی صوبائی خودمختاری جیسے فریبی نعروں کے پیچھے بھی گئی ہے، ساحل و وسائل اور دیگر سطحی یا گمراہ کن ایجنڈے بھی بی ایس او کے اس سفر کا حصہ رہے ہیں۔ بی ایس او کا ہر نیا منتخب ہونے والا چیئرمین بی ایس او کے سامنے اپنا نام لگا کر بی ایس او کے پروگرام یا مقاصد میں تبدیلی لاتا رہتا تھا۔ جبکہ مختلف ادوار میں بی ایس او مختلف گروہ اور پارٹیوں کے زیراثر بھی رہی ہے۔ لیکن 2002 کو جب بی ایس او کے نظریاتی سنگتوں نے یہ فیصلہ کیا کہ بلوچ طلبہ کو سطحی نعروں اور پارلیمانی پارٹیوں کے تسلط سے آزاد کرکے، بی ایس او کو اسکے حقیقی مقصد کی جانب راغب کرنا چاہیئے تو ان نظریاتی سنگتوں نے بی ایس او آزاد کی بنیاد رکھی۔

آج دو دہائیاں گذر چکے ہیں، آج میں اس کارواں کا آٹھواں چیئرمین ہوں لیکن بی ایس او آزاد آج تک نہ اپنے حقیقی و بنیادی مقاصد سے پیچھے ہٹا ہے اور نہ ہی کسی چیئرمین یا کابینہ کی تبدیلی سے بی ایس او آزاد کےاصل مقاصد میں کوئی تبدیلی آئی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ بی ایس او آزاد کی نظریاتی طور پر مکمل واضح راستے کا چناؤ ہے۔

‎بی ایس او آزاد اس لیے باقی طلبہ تنظیموں سے مختلف ہے کہ بی ایس او آزاد اپنے مقصد، نظریئے اور پروگرام میں مکمل طورپر واضح ویژن رکھتا ہے۔ بی ایس او آزاد بلوچ طلبہ کو پرفریب نعروں اور سبز باغ کے دھوکے میں رکھنے کے بجائے ان کو حقیقی مسائل سے آگاہ رکھتا ہے اور قومی شعور، حقیقی تاریخ کو جاننے اور قومی غلامی کے خلاف جدوجہد کرنے کے لیئے طلباء کو ایک منظم پلیٹ فارم مہیا کرتا ہے۔

دی بلوچستان پوسٹ: بی ایس او آزاد کے ایک رکن ہونے پر ایک طالب علم کو ایک عمومی طلباء تنظیم کی طرح تحفظ مہیا نہیں ہوتا بلکہ وہ مزید خطرے میں گِھِر جاتا ہے، ایسے حالات میں کوئی طالب علم آخر کیونکر بی ایس او آزاد کو چنے؟

ابرم بلوچ: یہ اس بات پر منحصر ہے کہ آپ تحفظ کی تشریح کیسے کرتے ہیں؟ ہم سمجھتے ہیں کہ بی ایس او آزاد واحد تنظیم ہے جو حقیقی معنوں میں بلوچ طلباء کو تحفظ فراہم کرتی ہے۔ اگر تحفظ سے آپکا مراد روایتی ہاسٹل کے کمرے، استادوں کو دھمکا کر پرچے پاس کرانا، پانی، روڈ، نالی والی تحفظ ہے پھر شاید ہماری توجہ اور دلچسپی دونوں اسطرح کی تحفظ پر مرکوز نہیں لیکن ہم فخریہ کہہ سکتے ہیں کہ بی ایس او آزاد بلوچ طلباء کی فکری محافظ ہے، بی ایس او آزاد طلباء میں قومی آزادی اور ترقی پسند نظریئے کی تحفظ کررہا ہے، ہم طلباء کے جذباتی وابستگیوں کی تحفظ کرتے ہیں اور انہیں کسی شخص و لیڈر کے ذاتی فائدے میں استعمال نہیں ہونے دیتے، بی ایس او آزاد فکری استحصال، نوآبادیاتی تعلیم کے منفی اثرات سے طلباء کوتحفظ فراہم کرتی ہے، ان میں قومی و تنقیدی شعور بیدار کرتی ہے۔ سب سے بڑھ کر بی ایس او آزاد قومی مستقبل اور نسلوں کے محافظ کا کردار ادا کررہی ہے۔

یہ بات بھی ذہن نشین کرنا چاہیئے کہ آج کے بلوچ طلباء جنگ کے زمانے کی نسل ہے۔ ان کی پرورش جنگ کے زمانے میں ہوئی ہے۔ آج قومی تحریک، طلباء کی خود سے تربیت کررہی ہے۔ اس صورتحال میں بلوچ نوجوانوں کے لیئے ریاستی جبر وخوف بے معنی ہو چکے ہیں۔ آج کے بلوچ طلباء جبری گمشدگی، مسخ شدہ لاشیں، گھروں کو آگ لگانا، خواتین و بچوں کی بے حرمتی، مختصراً ظلم و جبر کے ہر روپ کو اپنی آنکھوں سے دیکھ چکے ہیں۔ بلوچ طلبہ کی حالیہ نسل زیادہ باشعور نسل ہے، اس لیے یہ نسل سطحی نعروں اور سبز باغ کے دھوکے میں نہیں آئے گی۔

یہ نسل اپنے حقیقی جدوجہد اور تنظیم کے چناؤ کی پہچان رکھتی ہے۔ اس لیے آج کے بلوچ طلباء کو کسی بھی قسم کا ظلم وجبر اور ریاستی خوف بی ایس او آزاد میں شمولیت سے روک نہیں پارہی ہے۔

دی بلوچستان پوسٹ: اس وقت بی ایس او آزاد کالعدم قرار دی جاچکی، اسکے سینکڑوں کارکنان و رہنماء لاپتہ ہیں، کئی مارے جاچکے ہیں۔ بچے ہوئے تنظیم کو ایک دہائی سے زیر زمین رہ کر کام کرنا پڑرہا ہے، تعلیمی اداروں سے دور، طالب علموں سے دور کیا بی ایس او آزاد واقعی مزید ایک طلباء تنظیم ہے؟ یا آپ کے پاس اپنا پیغام طلباء تک پہنچانے کا کوئی لائحہ عمل وطریقہ کار ہے؟

ابرم بلوچ: کسی سیاسی جماعت وتحریک کو اکھاڑ پھینکنے کی کوشش تب ہوتی ہے، جب اسکا نظریہ حقیقی معنوں میں تبدیلی لارہی ہو اور اسکے طریقہ کار وسرگرمیوں سے غاصب، قابض یا آمر قوتیں خوف محسوس کرنے لگیں، بے معنی و بے ضرر سیاسی زبانی جمع خرچ پر کوئی لاٹھی ڈنڈا نہیں چلتا۔ بی ایس او آزاد اگر زیرعتاب ہے اور گراونڈ پر کھل کر نہیں آسکتی، اسکی وجہ ہماری نا اہلی نہیں رہی ہے بلکہ اسکی وجہ ہمارا سیاسی طور پر موثر ہونا، نوجوانوں پر گہرا اثر رکھنا اور تبدیلی لانے کی صلاحیت رکھنا ہے۔ اور جب تک ہماری تنظیم و نظریئے اور پروگرام میں یہ صلاحیتیں موجود رہیں گی، بی ایس او آزاد عمومی طلباء تنظیموں کی طرح روایتی سیاسی میدان میں نہیں اتر سکے گی، جب ہم نے اپنا اثر کھودیا تو ہم بھی کھلے عام تعلیمی اداروں میں وہی کچھ کرسکیں گے، جو درجنوں غیر موثر طلباء تنظیمیں آزادی کیساتھ پہلے سے ہی کررہے ہیں۔

پوری دنیا میں انقلاب اور جنگ کے زمانے کے اکثروبیشر طلباء تنظیمیں اسی طرح کے مشکل وسخت حالات سے گذرے ہیں۔ لیکن انقلابی نظریئے اور واضح مقصد کا ہونا کسی بھی تنظیم کے منظم اورکامیاب ہونے کا ثبوت ہے۔

آج تمام تر ریاستی ظلم وجبر کے باوجود بی ایس او آزاد بلوچستان اور پاکستان کے اکثروبیشتر تعلیمی اداروں میں طلباء کے درمیان موجود ہے۔ ایک مکمل طلباء تنظیم کی حیثیت سے بی ایس او آزاد تعلیمی اداروں میں طلباء کی شعوری تربیت بھی کررہی ہے جبکہ طلباء کو پرفریب نعروں سے دور رکھنے کے لیے ایک منظم پلیٹ فارم بھی مہیا کررہی ہے۔

البتہ آج تنظیم ماضی کے فرسودہ روایات کے برعکس انقلابی اصولوں اور طریقہ کار کی بنیاد پر اپنے پروگرام وپالیسیاں تشکیل دیکر ان پر عملدرآمد کرنے پر زوردے رہی ہے۔

دی بلوچستان پوسٹ: آپکی تنظیم پر ریاستی اداروں کی جانب سے یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ آپ ایک طلباء تنظیم نہیں بلکہ آزادی پسند مسلح تنظیموں کے سہولت کار بلکہ انکا حصہ ہیں، ان الزامات میں کتنی حقیقت ہے؟

ابرم بلوچ: ایسی بات ہے تو پھر ہمارے کارکنان و لیڈران تعلیمی اداروں و ہاسٹلوں سے کیوں گرفتار ہوکر غائب ہورہے ہیں پہاڑوں سے نہیں؟ گذشتہ ایک دہائی سے ہماری تنظیم مکمل طور پر ریاستی ظلم وجبر کا شکار ہے۔ درحقیقت یہ ریاست دنیا کے سامنے اپنے اس ظلم وجبر اور بی ایس او آزاد کے خلاف جاری ریاستی کریک ڈاؤن کو جواز فراہم کرنے کیلئے اس طرح کے الزامات لگاتا رہا ہے۔

‎بلوچستان میں عام طلباء سے لیکر ہر ذی شعور انسان بھی اس حقیقت سے اب واقف ہے کہ ان الزامات کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

بی ایس او آزاد ایک پرامن آزادی پسند طلباء تنظیم ہے، جو تعلیمی اداروں میں طلباء کی تعلیم و تربیت اور طلباء کو شعوری سرگرمیوں کی جانب راغب کرنے کے لیئے جدوجہد کررہی ہے۔ آزادی کیلئے پرامن سیاست کرنا ہرانسان کا بنیادی سیاسی وانسانی حق ہے۔ مہذب اقوام عالم اسکی مکمل اجازت دیتے ہیں، اسے دہشتگری وشدت پسندی سے تعبیر نہیں کیا جاتا، یہ اظہارِ رائے کی آزادی ہے۔ اسکاٹ لینڈ و کٹالونیا اسی دہائی کی واضح مثالیں ہیں۔

دی بلوچستان پوسٹ: آپ بطور تنظیم کے نئے چیئرمین، تنظیم کو کن نئی خطوط پر استوار کرنا چاہیں گے اور نئی پالیسیاں لانا چاہیں گے، یا آپ پرانے کارکردگی سے مطمئین ہیں؟

ابرم بلوچ: انقلابی جدوجہد میں انقلابی کارکنان اپنے تنظیم کی ہر پالیسی یا سیاسی پروگرام سے مکمل طور مطمیئن ہونے کے بجائے ہر وقت تنظیم کے پالیسیوں اور پروگرام پرغوروفکر کرتے ہیں۔ ان پر سیاسی مکالمے کرتے ہیں، مباحثے ہوتے تاکہ زیادہ سے زیادہ جدید ومنظم طریقے کار کے ذریعے جدوجہد کرکے اپنے مقاصد کو حاصل کیا جائے اور وقت وحالات کے قالب میں اپنے طریقہ کار کو ڈھالا جائے۔

‎اپنے مقصد کو حاصل کرنے کے لیے انقلابی تنظیمیں وقت وحالات کے مناسبت سے اپنی پالیسیوں میں تبدیلی لاتے رہتے ہیں۔ ہم بھی اسی انقلابی طریقہ کار پر عمل پیرا ہیں۔ ہم تنظیم کی کمزوریوں پر غورو فکر کرکے ہر وقت اپنے مجالس میں ان کو زیر بحث لاتے ہیں تاکہ اپنی پالیسی اور پروگرام میں ضروری اور بنیادی تبدیلیاں لاکر زیادہ سے زیادہ منظم طریقے سے جدوجہد کریں۔

بطور نومنتخب چیئرمین میں بھی انہی متعین انقلابی آدرشوں اور طریقہ کار پر چلنے کا پابند ہوں۔ وقت وحالات کے مطابق جب بھی ہمیں جہاں طریقہ کار میں تبدیلی لانے کی ضرورت محسوس ہوئی، متعلقہ اداروں اور متعین طریقہ کار کے تحت ان پر بات چیت و مکالمے ہونگے۔

دی بلوچستان پوسٹ: بلوچ طلباء ہر چند دن بعد احتجاج، ریلی، بھوک ہڑتال، لانگ مارچ کرتے نظر آتے ہیں۔ خطے کے باقی اقوام کے طلباء سے کئی گنا زیادہ بلوچ طلباء سراپا احتجاج نظرآتے ہیں، اسکی کیا وجہ ہے؟

ابرم بلوچ: بلوچ طلباء کے مسائل باقی اقوام کے طلباء سے بہت زیادہ ہیں۔ اسی لیئے بلوچ طلباء آئے روز اپنے تعلیمی حقوق کیلئے سراپا احتجاج نظرآتے ہیں۔ بلوچستان کے اکثریتی علاقے بنیادی تعلیمی اداروں سے محروم ہیں۔ دوسری جانب جو چند ایک تعلیمی ادارے موجود ہیں، وہ بھی پاکستان کے باقی علاقوں کے تعلیمی اداروں کے نسبت بہت زیادہ پسماندہ ہیں، اور ہزاروں مسائل کا شکار ہیں جبکہ جو بلوچ طلبہ بلوچستان سے باہر پاکستان کے مختلف علاقوں میں تعلیم حاصل کرنے جاتے ہیں تو وہاں بھی ان کو مختلف مشکلات کا سامنا ہوتا ہے۔

لیکن دوسری حقیقت یہ بھی ہے کہ بلوچ طلباء اس خطے کے باقی اقوام کے طلباء سے کئی گنا زیادہ سیاسی شعور رکھتے ہیں، بلوچ طلباء اپنے حقوق سے آگاہ ہیں اور استحصال کو برداشت نہیں کرتے، اسکے ساتھ ساتھ جب کوئی بلوچ طالبعلم کسی بڑے تعلیمی ادارے تک پہنچتا ہے تو وہ محض اپنے ذاتی کیریئر کا نہیں سوچتا بلکہ اپنے قوم کے دوسرے طلباء کے حالات کا ادراک رکھنے کی وجہ سے انکے تعلیمی حقوق کے تحفظ کو بھی اپنا فرض سمجھتا ہے۔ یہی قومی وسیاسی شعور بھی ایک وجہ ہے کہ بلوچ طلباء چاہے جہاں بھی زیر تعلیم رہتے ہیں، وہ ایک طرح کے جدوجہد میں یا احتجاج میں نظر آتے ہیں۔

دی بلوچستان پوسٹ: کہا جاتا ہے کہ 2006 میں بی ایس او آزاد نے آزادی، غیر پارلیمانی سیاست اور آزاد حیثیت کا نعرہ دیکر پانچ سالوں تک بلوچ طلباء میں مقبولیت حاصل کی، لیکن اب وہ نعریں زائدالمیعاد ہوچکے ہیں، اب طلباء کو ان نعروں اور مقاصد میں دلچسپی نہیں رہی، لہٰذا ریاستی کریک ڈاون سے زیادہ بی ایس او آزاد کو اس امر نے نقصان پہنچایا، اس میں کتنی صداقت ہے؟

ابرم بلوچ: اس میں کوئی صداقت نہیں ہے، گذشتہ ایک دہائی سے زائد عرصے سے بی ایس او آزاد سب سے زیادہ ریاستی عتاب کا شکار رہی ہے، لیکن آج بغیر کسی خوش فہمی یا نمائشی دعوے کے ہم مکمل دلیل اور حقیقت کے بنیاد پر کہتے ہیں کہ بی ایس او آزاد آج بھی بلوچستان کی سب سے بڑی اور مقبول طلباء تنظیم ہے۔ آج بھی بلوچ طلباء جوق در جوق بی ایس او آزاد میں شمولیت اختیار کررہے ہیں۔

اگر بی ایس او آزاد کا سیاسی پروگرام زائدالمیعاد ہوچکا ہوتا تو آج بی ایس او آزاد اس قدر طلباء میں مقبول نہ ہوتا اور نہ ہی آج اتنی بڑی تعداد میں طلباء بی ایس او آزاد کے کارواں میں شامل ہوتے۔

اگر بی ایس او آزاد کا سیاسی پروگرام زائدالمعیاد ہوچکا ہوتا تو اس قدر بڑا، شدید اور طویل دورانیئے تک جاری ریاستی کریک ڈاؤن بی ایس او آزاد کو ختم کردیتا، لیکن یہ ہمارے سیاسی پروگرام اور انقلابی نظریے کا ثمر ہے کہ بی ایس او آزاد آج بھی بلوچ طلباء کےلیے سب سے زیادہ قابل قبول طلباء تنظیم ہے۔

دوسری بات یہ کہ قومی آزادی اور غیرپارلیمانی سیاست کا نظریہ بی ایس او آزاد کی تخلیق نہیں بلکہ یہ بلوچ قوم کا سیاسی نظریہ ہے، جس کی تخلیق غلامی اور استحصال کے کوکھ سے ہوئی، اور ستر سالوں سے مختلف بلوچ تنظیمیں اس نظریئے پر مختلف طریقوں اور ناموں سے کام کرتے رہے ہیں۔ یہ نظریہ تب تک رہے گا، جب تک قومی غلامی واستحصال قائم ہے۔ بی ایس او آزاد نے اسی قومی نظریئے کو بلوچ طلباء میں اجاگر کیا اوراس قومی نظریئے پر بطور طلباء تنظیم اپنے طریقہ کار کے مطابق چلتا رہا ہے۔ یہ قومی نظریہ مقصد آزادی کے حصول کے بعد ہی زائدالمیعاد ہوسکتا ہے، اس سے قبل نہیں۔

دی بلوچستان پوسٹ: کیا وجہ ہے کہ آپ اسے کونسل سیشن کا نام دیتے ہیں اور الیکشن کا بھی دن رکھتے ہیں لیکن گذشتہ چار کونسل سیشنوں میں آپکی تنظیم میں تمام عہدیدار بلامقابلہ ہی جیت کر آتے ہیں؟

ابرم بلوچ: ہم باقاعدہ تنظیمی آئین کے مطابق، جمہوری اقدار کے رو سے تنظیمی کونسل سیشن منعقد کرتے ہیں۔ جہاں ہمارے تنظیم کے ہر کونسلر کو مکمل حقوق حاصل ہوتے ہیں اور ہر کونسلر مکمل با اختیار ہوتا ہے۔ آج بلوچستان کے سیاسی حالات میں وہ تنظیمیں بھی دو سال میں اپنا کونسل سیشن منعقد نہیں کر پاتے، جن کو مشکلات کا سامنا نہیں ہے۔ جبکہ بی ایس او آزاد مکمل طور پر ریاستی کریک ڈاؤن کا شکار ہے لیکن اس کے باوجود جمہوری روایات کو برقرار رکھتے ہوئے ہر دو سال بعد تنظیمی آئین کے مطابق کونسل سیشن بلا ناغہ منعقد کیا جاتا ہے۔

رہی بات بلامقابلہ منتخب ہونے کی، تو ہم آج فخر سے کہتے ہیں کہ بی ایس او آزاد نے آج ماضی کے بہت سے فرسودہ سیاسی روایات ختم کردیئے ہیں۔ ماضی کے بیشتر کونسل سیشنوں میں عہدوں کے لئے تنظیم کو دو لخت کردیا جاتا تھا یا عہدوں کے لیے نمود ونمائش والی سیاست کی جاتی تھی۔ بی ایس او کے ہر کونسل سیشن کا مطلب لڑائی جھگڑے اور ایک نئے دھڑے کا پیدا ہونا ہوتا تھا، آج کونسل سیشن عہدوں کیلئے کھینچا تانی اور دھڑہ بندی کے بجائے قومی پالیسیاں ترتیب دینے کے اعلیٰ ادارے کی حیثیت سے اپنا کردار ادا کررہی ہے۔

لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ بی ایس او آزاد نے جمہوری اقدار ختم کردیئے ہیں، بلکہ آج بھی کونسل سیشن آئین کے مطابق منعقد ہوتا ہے اور ہر عہدے پر الیکشن لڑنے کا حق ہر ایک کونسلر کا برابر ہوتا ہے۔ کونسل سیشن میں الیکشن کمیشن کا چناؤ ہوتا ہے۔ الیکشن کمیشن آزادانہ حیثیت سے الیکشن کا انعقاد کرتا ہے، جہاں ہر کونسلر کو مکمل حق حاصل ہوتا ہے کہ وہ کسی بھی عہدے کے لیے اپنے فارم جمع کرسکتا ہے۔ ہر کونسل سیشن کے دوران ایک عہدے کے لیئے ایک سے زائد فارم جمع کرائے جاتے ہیں۔ بعض اوقات تنظیمی دوست آپس میں سیاسی مکالمہ کرتے ہیں، تو ایک دوست دوسرے کے حق میں دستبردار ہوجاتا ہے، تاکہ ماضی کے روایات کو دہرایا نہیں جائے جبکہ بعض اوقات مختلف عہدوں کے لیے دوستوں کے درمیان مقابلہ بھی ہوتا ہے، جو شفاف طریقہ سے انجام پاتا ہے۔ کیونکہ یہ پورا عمل پورا شفاف اور بغیر لڑائی جھگڑے کے ہوتا ہے تو اسلیئے اسکی شنید شاذ ہی ادارے سے باہر نکلتی ہے۔

ہم سمجھتے ہیں کہ یہ بی ایس او آزاد کے دوستوں کی سیاسی شعور اور بالیدگی ہے کہ وہ بلوچ طلباء سیاست میں فرسودہ روایات کو ختم کرکے نئے جمہوری اقدار کی بنیاد رکھ رہے ہیں۔

حرف آخر:

چیئرمین ابرم بلوچ سے تفصیلی گفتگو کے بعد جب ہم نے ان سے پوچھا کہ اگر وہ تمام بلوچ طلباء تک ایک پیغام پہنچانا چاہیں تو وہ کیا کہیں گے؟ تو انہوں نے اس نشست کا اختتام ان الفاظ سے کیا “میں بلوچ طلباء سے صرف اتنا کہنا چاہتا ہوں کہ بلوچوں کی موجودہ نسل، جو جنگ اور تحریک کے بام عروج کے دوران پیدا ہوئی ہے، اس جنگ کے دوران ہی اسکی پرورش ہوئی ہے، یہ نسل اس قوم کی پوری تاریخ کے ایک ایسے دور کی نسل ہے، جسکے زندگی کے دوران ہی اس قوم کے مستقبل کا فیصلہ ہونا ہے کہ ہمارا مستقبل عزت، وقار وا ٓزادی ہوگی یا پھر اقلیت میں بدل کر ابدی غلامی۔ اس دھرتی کی اور اس انقلاب کا لاج آپ کو رکھنا ہے۔ اگر آپ نے آج اس دھرتی سے، اس تحریک سے اپنے آپ کو بیگانہ رکھا، تو تاریخ اور آنے والی نسلیں آپکو کبھی بھی معاف نہیں کرینگی۔”