بلوچستان میں 12 لاکھ سے زائد بچے تعلیم جیسے بنیادی حق سے محروم

140

بچے کسی بھی ملک اور قوم کا مستقبل ہوتے ہیں، ان کی صحیح معنوں میں تعلیم و تربیت سے یہ امید کی جا سکتی ہے کہ وہ ملک کی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں گے۔

بلوچستان میں بہت سے بچوں کو ترقی کے مواقع ہی میسر نہیں، کئی بچے غربت کے باعث کم عمری میں ہی اپنے گھرانوں کے معاشی بوجھ تلے دب کر تعلیم کو خیر آباد کہہ دیتے ہیں۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق بلوچستان میں اب بھی 12 لاکھ سے زائد بچے تعلیم جیسے بنیادی حق سے محروم ہیں اور ان میں سے 5 سے 15 سال تک کے زیادہ تر بچے اپنے گھرانوں کی معاشی ضروریات کے لیے کچرہ چننے، مکینک شاپس اور دیگر مزدوری کے کام کرنے پر مجبور ہیں۔

دوسری جانب حکومت کی طرف سے بچوں کےحقوق کے تحفظ کے دعوے محض دعوے ہیں جس کا اندازہ زمینی صورتحال دیکھ کر بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔

بلوچستان میں زیادہ تر بچے انڈر 14 ہیں اور چائلڈ لیبر میں زیادہ تعداد میں کام کرتے ہیں۔