برطرف اساتذہ کے دھرنے پر پولیس کا لاٹھی چارج قابل مذمت ہے – بی ایس او پجار

154

بی ایس او پجار کے مرکزی سینئر وائس چیئرمین بوہیر بلوچ، مرکزی جونئیر وائس چیئرمین گورگین بلوچ، صوبائی جنرل سیکریٹری عابد عمر اور دیگر نے اپنے جاری کردہ بیان میں گذشتہ روز ضلع کیچ سے تعلق رکھنے والے برطرف خواتین ومرد اساتذہ پرکوئٹہ میں اپنی بحالی کیلئے پرامن کی پاداش میں لاٹھی چارج کی شدید الفاظ مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایک مہینے سے کوئٹہ پریس کلب کے سامنے احتجاجی کیمپ لگانے کے باوجود مسائل حل نہ ہونے کی وجہ سے مجبوراً تادم مرگ بھوک ہڑتال پر بیٹھے ہیں مگر کسی حکومتی نمائندے کے کانوں میں جوں نہیں رینگتی۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ گذشتہ ایک سال سے زائد عرصہ سے احتجاج کے باوجود حکومت ٹس سے مس نہیں ہورہی ہے، کوئٹہ کی اس شدید سردی میں خواتین اور بچے احتجاج پر ہیں جو اب بیمار ہورہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ قانونی تقاضے پورے کیئے بغیر ضلع کیچ کے 114 مرد و خواتین اساتذہ کو گذشتہ سال اگست کے مہینے میں ملازمتوں سے برطرف کردیا گیا تھا ان غیرقانونی برطرفیوں کے خلاف بی ایس او پجار نے ان اساتذہ کے ساتھ مل کر احتجاج کا راستہ اپنایا جس پر اس وقت انہیں یہ تسلی دی گئی تھی کہ محکمانہ انکوائری اور آن لائن ائیرنگ کے بعد انہیں بحال کردیا جائے گا مگر تین مرتبہ مختلف نوعیت کی انکوائریوں اور آن لائن ائیرنگ کے باوجود تاحال ان کی بحالی عمل میں نہیں لائی گئی اور ہر کوئی ہفتہ دس دن کی یقین دہانی پر انہیں ٹرخانے کی کوششوں میں مصروف ہے

مزید کہا گیا کہ جھوٹے وعدوں اور یقین دہانیوں سے تنگ آکر ہماری مائیں بہنیں کوئٹہ میں احتجاج پر مجبور ہوگئی ہیں مگر ایک مہینہ کے باوجود بھی کسی قسم کوئی پیش رفت نظر نہ آنے پر آج کوئٹہ میں دھرنا اور تادم مرگ بھوک ہڑتال کا سلسلہ شروع کردیا گیا ہے لیکن بڑے بڑے اعلانات کرنے والے اب کہیں نظرنہیں آتے، ایسی بے حس حکومت اس سے پہلے ہم نے نہیں دیکھی ہے جسے نہ کوئی احتجاج اثر کرتا ہے نہ یہ سلیکٹڈ حکمران کسی ماں بہن کی فریاد سنتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کسی لیت و لعل کے بغیر ان برطرف ٹیچرز کو فوری طورپر بحال کرے بصورت دیگر تادم مرگ بھوک ہڑتال اور کوئٹہ کی شدید سردی سے کسی بھی خاتون یا بچے کو کچھ ہوا تو اس کی ذمہ دار نام نہاد اور سلیکٹڈ حکمران ہوں گے۔