بحیثیت قوم ہمیں کسی بھی ملک سے مدد لینے کا حق حاصل ہے – ڈاکٹر اللہ نذر

611

بلوچستان لبریشن فرنٹ کے سربراہ ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ نے پاکستانی فوج کے تعلقات عامہ کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار کے ان الزامات کو بے نیاد قرار دیا ہے جن میں انہوں نے کہا تھا کہ ڈاکٹر اللہ نذرسمیت دیگر آزادی پسند تنظیموں کو بھارت کی مدد حاصل ہے۔

ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ نے مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے جاری کردہ پیغامات میں کہا کہ ان کی تنظیم بین الاقوامی اصولوں کے تحت جنگِ آزادی لڑرہی ہے اور انہیں یہ حق حاصل ہے کہ بلوچستان کی آزادی کے لیے کسی بھی ملک کی مدد لیں۔

انہوں نے کیا کہ غیر ملکی امداد اور دہشت گردی کے پاکستانی کے الزامات بے بنیاد ہیں۔ ہم بین الاقوامی اصولوں کے مطابق اصولوں کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی قوانین اور اصول ہر قوم کو آزاد وطن حاصل کرنے کا حق دیتے ہیں۔

اگر ہمارے پاس غیر ملکی مالی امداد اور فوجی مدد ہوتی تو صورتحال کچھ اور ہوتی۔ جب بنگلہ دیش کو ہندوستان نے امداد فراہم کی تو صورتحال اس وقت بدل گئی۔ اس جنگ آزادی میں ہم نے بلوچ قوم کی مدد سے پاکستان کو شکست دی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور فوج کا ترجمان حواس کھو بھیٹے ہیں اسی لیے اس طرح کے بے بنیاد پروپیگنڈہ کا سہارا لے رہے ہیں۔ یہ محض سیاہ پروپیگنڈا ہے۔ پھر بھی بحیثیت قوم ہمیں کسی بھی ملک سے مدد لینے کا حق حاصل ہے ، خواہ وہ ہندوستان، برطانیہ یا کوئی اور ہو۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی وزیر خارجہ اور آئی ایس پی آر اپنی فوج کے حوصلے بلند کرنے اور عوام کو گمراہ کرنے کے لئے ایسے ہتھکنڈے استعمال کررہے ہیں۔ گیلانی نے شرم الشیخ میں بھی یہ حربہ آزمایا۔ رحمان ملک بھی یہی باتیں کہتے تھے۔ لیکن وقت اور حالات نے انہیں غلط ثابت کیا ہے۔

ڈاکٹر اللہ نذر نے کہا کہ فوج کا دعویٰ ہے کہ تین ہیلی کاپٹر ہمارے لئے فوجی امداد لائے ہیں۔ لیکن، کہاں سے؟ اگر یہ سچ ہوتا تو بلوچستان طویل عرصے سے بنگلہ دیش کی طرح آزاد ہوتا۔ در حقیقت، پاکستان بلوچ قوم سے جنگ ہار چکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب ڈی جی آئی ایس پی آر سی پی ای سی (چائنا پاکستان اکنامک کوریڈور) کی سیکیورٹی کے بارے میں بات کرتے ہیں تو اس کا سیدھا مطلب ان کی ترقی کے لئے بلوچوں کی نسل کشی کرنا ہے۔ پاکستان کی جانب سے انسانی حقوق کی پامالیوں کے بارے میں ایمنسٹی انٹرنیشنل کی حالیہ رپورٹ نے انسانی حقوق سے متعلق پاکستان کے موقف کو مزید خراب کردیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان دہشت گردوں کی مدد کے لئے ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں مستقل طور پر شامل ہے۔ اور ہم بحیثیت قوم ان دہشت گردوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہوں نے لشکر خراسان اور دیگر کی شکل میں ہم پر حملہ کیا۔ پاکستان کے فوجی کیمپ ان کے ٹھکانے ہیں۔

انہوں نے آخر میں کہا کہ پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کا حالیہ دورہِ تربت اور شہر میں کرفیو اور گردونواح کی ناکہ بندی، بلوچستان میں پاکستان کا نوآبادیاتی چہرہ ظاہر کرتی ہے۔