کوئٹہ: اسپتالوں میں سہولیات کے فقدان کے خلاف ینگ ڈاکٹرز کا احتجاج

34

ینگ ڈاکٹر ایسویس ایشن کے صدر ڈاکٹر یاسر خان خوستی نے کہا ہے کہ حکومت سرکاری ہسپتالوں میں صحت کی تمام سہولیات فراہم کرے ورنہ وائی ڈی اے ہسپتالوں سے بائیکاٹ کا راستہ بھی اختیار کرنے سے گریز نہیں کرے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے سول ہسپتال سے نکالی جانے والے احتجاجی ریلی کے بعد کوئٹہ پریس کلب میں احتجاجی جلسے سے خطاب کے دوران کیا۔

اس موقع پر ان کے ہمراہ ڈاکٹر حفیظ مندوخیل، ڈاکٹر رحیم بابر، ڈاکٹر اورنگزیب کاکٹر اور دیگر بھی تھے۔

دوران خطاب ڈاکٹر یاسر خوستی کا کہنا تھا کہ آج بلوچستان کے سرکاری ہسپتالوں میں سرنج تک میسر نہیں ہے، ہمارے تمام مطالبات ہسپتالوں کو بہتر بنانے کیلئے ہیں، بلوچستان میں کورونا وائرس نے تمام سرکاری ہسپتالوں کے پول کھول دیئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ جب تک بلوچستان کے ہسپتالوں میں بنیادی سہولیات نہیں دی جاتی احتجاج کا سلسلہ جاری رہے گا۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ تمام سرکاری ہسپتالوں میں ادویات دی جائیں، سرکاری ہسپتالوں میں ٹیسٹ تک نہیں ہوتے تمام مشینیں خراب ہے ہم احتجاج کرکے حکومت کو مجبورکرینگے کہ وہ سرکاری ہسپتالوں کو جدید سہولیات سے آراستہ کرے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمیں سڑکوں پر آنا اچھا نہیں لگتا لیکن حکومت کی ناقص پالسیاں ہمیں سڑکوں پر لے آئی ہیں، تحقیقات کی جائے بلوچستان کے ہسپتالوں میں کتنی کرپشن ہوئی ہے۔

دیگر مظاہرین نے کہا کہ اسپتالوں میں سہولیات کا فقدان ہے۔ سابق ڈی جی صحت 70 کروڑ کی کرپشن میں ملوث ہیں، کرپشن میں ملوث سابق ڈی جی صحت موجودہ بی ایم سی کا ایم ایس ہے۔ جبکہ کورونا میں آنیوالے فنڈز کی تحقیقات کی جائیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ صحت کا قلمدان وزیر اعلیٰ بلوچستان کے پاس ہے وہ محکمہ صحت میں بہتری کے لئے اقدامات کریں اور ہمیں اور مریضوں کو سہولیات کی فراہمی میں کردار ادا کریں۔

قبل ازیں ینگ ڈاکٹر ایسویسی ایشن نے سول ہسپتال سے پریس کلب تک ریلی نکالی اور انسکمب روڈ جناح روڈ سرکلر روڈ سے ہوتے ہوئے ریلی پریس پہنچ کر احتجاجی جلسے میں تبدیل ہوگئی۔