پنجگور سے اغواء شیعہ زائرین کے واقعہ سے بلوچ علیحدگی پسندوں کا کوئی تعلق – بی آر اے

451

اس واقعہ میں براہ راست ریاستی ایجنسیاں ملوث ہیں جو ایک عرصے سے بلوچ اور سندھی سیاسی کارکنوں اور اقلیتوں کے بنیادی انسانی حقوق کی پامالی میں ملوث ہیں – بیبگر بلوچ

‎بلوچ ریپبلکن آرمی کے ترجمان بیبگر بلوچ نے میڈیا کو جاری کردہ ایک بیان میں گذشتہ روز پنجگور میں مسلح افراد کے ہاتھوں چھ شیعہ زائرین کی اغواء سے کسی بھی قوم پرست آزادی پسند مسلح تنظیم کے ملوث ہونے کی تردید کرتے ہوئے پاکستانی الیکٹرانک میڈیا کی غلط رپورٹنگ کو ریاستی بیانیہ قرار دیتے ہوئے مزید کہا کہ اس اغواء میں براہ راست پاکستانی ایجنسیاں اور اس کے مقامی کارندے ملوث ہیں۔ یہ کاروائی ایک منظم منصوبے کے تحت کیا گیا کہ تاکہ اس کا الزام قوم پرست حلقوں پر لگا کر ان پر انسانی اور اقلیتوں کے حقوق کی پامالی کا الزام لگاکر ان کے اصل پروگرام کو مسخ کیا جائے۔

بیبگر بلوچ نے مزید کہا کہ پاکستان میں گذشتہ کئی دہائیوں سے قومیتوں اور اقلیتوں کی بنیادی انسانی حقوق ریاستی اداروں کے ہاتھوں پامال ہورہے ہیں۔ سندھی، پشتو، بلوچ، گلگتی، کشمیری سمیت اقلیتی مذہب کے لوگ ریاستی اداروں کے ہاتھوں روز اغواء ہورہے ہیں جو دنیا کیلئے ایک المیہ سے کم نہیں ہونا چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہماری جنگ ایک آزاد سماج کیلئے ہیں جہاں تمام مذاہب کے لوگ قابل احترام ہونگیں۔