پشاور: مدرسے میں دھماکہ، 7 افراد جانبحق 70 زخمی

82

 خیبرپختونخواہ کے دارالحکومت پشاور میں مدرسے میں بم دھماکے کے نتیجے میں7 افراد جاں بحق جبکہ 70 زخمی ہوگئے جن میں بچے بھی شامل ہیں۔

سینئرسپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس ایس پی) آپریشن منصور امان نے بتایا کہ دھماکہ پشاور کی دیر کالونی میں واقع ایک مدرسے میں ہوا۔

دھماکے کے بعد پولیس، ریسکیو حکام اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے جائے وقوع پر پہنچ گئے اور علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔

علاوہ ازیں ایس ایس پی آپریشنز منصور امان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اب تک 7 افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ زخمیوں کو مختلف ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اب تک 35 زخمیوں کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ مختلف ہسپتالوں میں منتقل ہونے کی وجہ سے تعداد کو مزید دیکھ رہے ہیں۔

منصور امان کا کہنا تھا کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق یہ امپرووائزڈ ایکسپلوزو ڈیوائس (آئی ای ڈی) دھماکا تھا جس میں 5 سے 6 کلو دھماکا خیز مواد استعمال کیا گیا۔

ادھر ایک اور سینئر پولیس عہدیدار نے خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ مدرسے میں دھماکہ اس وقت ہوا جب قرآن پاک کی کلاس جاری تھی اور کوئی فرد مدرسے میں بیگ رکھ کر چلا گیا۔

ایک اور سینئر پولیس افسر محمد علی گنڈاپور نے ان معلومات کی تصدیق کی اور کہا کہ زخمی ہونے والوں میں 2 استاد بھی شامل ہیں۔

دوسری جانب لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے ترجمان محمد عاصم نے بتایا کہ دیر کالونی میں دھماکے کے بعد 7 لاشوں اور 70 زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ دھماکے میں جاں بحق ہونے والوں میں 4 طالبعلم بھی تھے جن کی عمریں پندرہ سے 25 سال کے درمیان تھیں۔

انہوں نے بتایا کہ زخمیوں کو فوری طبی امداد دی جا رہی ہیں تاہم زیادہ تر زخمی جھلسے ہوئے ہیں جبکہ ہسپتال ڈائریکٹر محمد طارق برکی خود ایمرجنسی ٹیم کے ہمراہ ایمرجنسی میں موجود ہیں۔

واقعے کے بعد  خیبرپختونخوا کے وزیر صحت تیمور سلیم جھگڑا نے بھی جائے وقوع کا دورہ کیا اور اس موقع پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس وقت توجہ زخمیوں کو بہترین علاج فراہم کرنے پر ہے تاکہ وہ جلد از جلد ٹھیک ہوسکیں