مریم کا والد لندن میں ہے اور سمّی کا دین جان کہاں ہے؟ – عدیل حیات بلوچ

216

مریم کا والد لندن میں ہے اور سمّی کا دین جان کہاں ہے؟

تحریر: عدیل حیات بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

جو ممالک آمریت کی گود میں پلے بڑے ہوں اور وہاں کی قوم (پاکستان میں ہجوم) اُن آمری طاقتوں ہی کو اپنا مسیحا سمجھے وہاں انقلاب کبھی نہیں آسکتا۔ پاکستان گرے لسٹ میں رہے یا بلیک لسٹ میں’ خاکی لسٹ میں رہے یا وائٹ لسٹ میں اس سے ایک عام بلوچ کی زندگی میں فرق کبھی نہیں آسکتا۔ سی پیک کامیاب ہو یا ناکام، سیندک سے سونے کے مزید ذخائر دریافت ہوں یا پورے بلوچستان سے گیس نکلے اس سے بلوچوں کو کچھ نہیں ملنے والا۔

پی ڈی ایم کے جلسے پورے ملک میں ہورہے ہیں اچھی بات ہے لیکن اس سے بلوچوں کا کیا لینا دینا؟

بھائی یہ اقتدار کی جنگ ہے آپ کو خوش ہونے کی ضرورت نہیں، آپ کے قومی بقا کو خطرہ ہے اور آپ ان جلسوں سے خوش ہورہے ہیں اور سوچ رہے ہیں کہ تبدیلی آجائیگی خوشحالی آجائیگی؟
واقعی ہم (بلوچ) ظلم و بربریت کو بہت جلد بھول جاتے ہیں”’
اقتدار کی جنگ میں کچھ بلوچ ایسے مگن ہیں کہ جیسے حیات قتل ہی نہیں ہوا’
دین جان زندان سے آزاد ہوگیا’
ماما قدیر تمام لاپتہ افراد کی بازیابی کے بعد سکون کی زندگی جی رہا ہو’
ایک شوانٙگ (چرواہا) آزادی سے پہاڑ پہ بکریاں چرا رہا ہو’
بلوچ کی قومی بقا کا سوال ہے مریم بلوچی کپڑے پہنے تو وہ ماہرنگ،مہلب یا حسیبہ نہیں بن سکتی، ایک جیسے کپڑے پہننے سے درد مشترکہ نہیں ہوتے انہیں اقتدار چاہئیے تو ہمارے نام پہ سیاست کر رہے ہیں حسیبہ کو اقتدار نہیں اپنے پیارے چاہیئں، جو درندوں کی درندگی برداشت کر رہے ہیں۔

مہلب و سمی کو کسی بھی کرسی سے لگاؤ نہیں انہیں دین جان چاہیئے وہی جو ڈاکٹر تھا جسے ١١ برس قبل لاپتہ کیا گیا تھا۔ دین جان سے یاد آیا جب دین جان لاپتہ ہوا تب پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت تھی ذاکر مجید بھی انہیں کی حکومت میں لاپتہ ہوا تب یہ اقتدار میں تھے کسی نے کچھ کیا؟

شال (کوئٹہ) سے مارچ کرتا ہوا ایک قافلہ اسلام آباد آ پہنچا غالباْ انسانی تاریخ کا طویل ترین مارچ (قبل از تاریخ ہجرتوں کے علاوہ) ہاں ن لیگ کی حکومت تھی اس وقت اسی مریم کے والد صاحب وزیر اعظم تھے جو ہمارے نام پہ سیاست کر رہی ہے لاپتہ افراد کو بازیاب کرنا کُجا پُرسانِ حال کے لئے کوئی ننھے علی حیدر کے پاس نہیں آیا اُلٹا پُر امن احتجاج کرنے والوں کو ڈرایا گیا دھمکایا گیا۔

یہاں بلوچ کے لئے کسی میں ہمدردی نہیں ١٩٩٨ میں چاغی کا سینا بھی نواز حکومت میں چیر دیا گیا ایٹمی تجربے کے نام پہ’ پاکستانی خوشیاں مناتے رہے اور بلوچستان آج بھی اس ایٹمی تابکاری کے مضر اثرات سے دوچار ہے کینسر کے کیسز میں دن بدن اضافہ ہوتا جارہا ہے اور ہسپتال کا نام و نشان نہیں۔

اگر آپ نے تجربہ کرنا تھا تو پنجاب میں بھی کر سکتے تھے جہاں آپ کے پاس اور کچھ نہیں علاج کے مراکز تو تھے۔

کٙل کو تبدیلی سرکار کے وزیراعظم خان صاحب بھی یہی کہا کرتے تھے کہ جس دن میری حکومت آئی کوئی کالی شیشوں والی گاڑی آکے کسی کو اٹھا کر نہیں لے جائے گی۔

آج بلوچستان کٙل سے بد تر ہے اور ہمارے وزیراعظم صاحب بھنگ گے نشے میں سورہے ہیں بلوچستان حکومت کی تو بات ہی نہ کرو باپ تو واقعی سوتیلا باپ نکلا۔

تو مریم صاحبہ آپ اپنے دلاسے اپنے پاس رکھیں ہم نے ہر دٙور دیکھا ہے ہر حکومت دیکھی ہے بلوچستان کا مسئلہ کسی حکومت کے ہاتھ میں نہیں، آپ پنجاب کی سیاست یہاں نہ کریں ہمارے لاپتہ افراد کے نام پہ سیاست نہ کریں اور بلوچ نوجوان بھی ان کے چُنگل سے نکل جائیں اپنا راستہ اپنائیں بلوچی دٙوچ پہننے سے مریم سمّی نہیں بن سکتی مریم کے والد صاحب لندن میں ہے اور سمّی کا دین جان کہاں ہے؟
کوئی بتائے گا؟


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔