بائیسواں قومی کونسل سیشن بنام معلم آجوئی شہید صبا دشتیاری و بیاد درسگاہءِ آجوئی بابا خیر بخش مری منعقد کیا جائے ۔بی ایس او آزاد

142

بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن آزاد کے مرکزی ترجمان نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا کہ بی ایس او آزاد کا پانچواں مرکزی کمیٹی اجلاس زیر صدارت مرکزی چیئرمین سہراب بلوچ منعقد ہوا. اجلاس میں سابقہ رپورٹ,تنقیدی نشست,آئین سازی, تنظیمی امور اور آئندہ لائحہ عمل پر سیر حاصل بحث ہوئی. شہدائے بلوچستان کی یاد میں دو منٹ کی خاموشی کے بعد اجلاس کا باقاعدہ آغاز کیا گیا اور مختلف ایجنڈوں پر سیر حاصل بحث کے بعد مرکزی چئیرمین نے دیوان سے خطاب کیا۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی چیئرمین نے کہا کہ بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن آزاد مختلف ادوار سے گزر کر آج تاریخ کے ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں اسے ریاستی جبر اور پابندی کا تسلسل کیساتھ سامنا ہے. ہزاروں کی تعداد میں تنظیمی کارکناں ریاستی اذیت خانوں میں پابند سلاسل ہیں جبکہ سینکڑوں کی مسخ شدہ لاشیں پھینک دی گئیں۔ ریاستی جبر اور پابندی کا بنیادی محرک بلوچ طالبعلموں کو تنظیم کے پلیٹ فارم سے دور رکھ کر قومی تحریک میں رکاوٹیں ڈالنا ہے. ریاستی سخت پالیسیوں کے باوجود بلوچ نوجوانوں نے آج بھی جدوجہد کےشمع کو جلایا ہوا ہے جو تنظیمی کارکنوں کی مخلصی اور ریاستی پالیسیوں کے ناکامی کی واضح دلیل ہے۔

چیئرمین نے کہا کہ بلوچ نوجوانوں کو بلوچ قومی تحریک سے جدا رکھنے کےلیے ریاست ظلم وجبر کیساتھ دیگر پالیسیوں پر بھی عمل پیرا ہے۔ نوجوانوں کو حقیقی قومی مسلئے سے نا آشنا رکھنے اور معمولی سماجی مسائل میں الجھانے کےلیے تعلیمی اداروں میں سیاسی سرگرمیوں پر پابندی لگا کر مختلف خیراتی اداروں کی افزائش کی جارہی ہے۔ بلوچ نوجوانوں میں فکری ابہام پیدا کرنے اور بلوچ طالبعلموں کو عملی سیاست سے دور رکھ کر مہم جوہانہ سیاست کی جانب راغب کرنے کےلیے مختلف این جی اوز اور تنظیموں کو فعال کیا جارہا ہے۔ ریاست کے زیر سایہ کام کرنے والے یہ این جی اوز اور تنظیمیں طالبعلموں کو سبز باغ دکھا کر انھیں قومی تحریک سے دور رکھنے کےلیے جدوجہد کر رہے ہیں۔
چیئرمین نے مزید کہا کسی بھی قوم میں نوجوانوں کو قومی تعمیر و تشکیل میں بنیادی ستون کی حیثیت حاصل رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بلوچ قومی تحریک کو جدید بنیادوں پر استوار کرنے میں بی ایس او کا ایک اہم کردار رہا ہے۔ ایک ایسے موقع پر جہاں ریاست بلوچ نوجوانوں کو بلوچ قومی تحریک سے غافل رکھنے کےلیے ہر ممکن کوشش کر رہی ہو وہیں خود کو علمی, فکری اور شعوری حوالے سے مضبوط کر کے بلوچ قومی جدوجہد میں کلیدی کردار ادا کرنا تمام نوجوانوں کی ذمہ داری بنتی ہے۔ لہذا معروضی حالات اور بلوچ قومی جدوجہد کو مدنظر رکھتے ہوئے ضرورت اس امر کی ہے کہ بلوچ نوجوان اپنی ذمہ داریوں کا ادراک کریں اور جدوجہد کو فرض سمجھ کر بلوچ قومی تحریک میں اہم کردار ادا کریں۔
اجلاس کے آخر میں بائیسواں قومی کونسل سیشن بنام معلم آجوئی شہید صبا دشتیاری و بیاد درسگاہ آجوئی بابا خیر بخش مری یکم تا تین نومبر منعقد کرنے کا فیصلہ لیا گیا۔ مرکزی چیئرمین نے کونسلران کو تاکید کرتے ہوئے کہا کہ تنظیمی سرگرمیوں کو مزید متحرک و منظم کرنے کےلیے مرکزی کونسل سیشن میں بھرپور تیاری کے ساتھ شرکت کریں۔