ایران چین دفاعی معاہدہ عالمی امن و سلامتی کے لئے خطرہ بن سکتا ہے

158

ایرانی حکومت کی جانب سے چین کے ساتھ پچیس سالہ دفاعی معاہدے پر نہ صرف ایران مخالف حلقوں کی طرف سے تنقید کی جا رہی ہے بلکہ اس سمجھوتے کے خلاف ایران کے اندر سے بھی آوازیں اٹھ رہی ہیں۔ ایران کی 74 سرکردہ سیاسی اور سماجی شخصیات نے بیجنگ اور تہران میں طے پائے سیکیورٹی معاہدے کو علاقائی اور عالمی امن وسلامتی کے لیے بہت بڑا خطرہ قرار دیا ہے۔

میڈیا رپورٹس ‌ کے مطابق ایرانی شخصیات نے عالمی رہنماوں اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے نام ایک متفقہ اور کھلا مکتوب شائع کرایا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ایران اور چین کے درمیان طے پانے والا 25 سالہ معاہدہ عالمی امن و سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔

یہ مکتوب اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل، بھارت، جاپان، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، برطانیہ، فرانس، جرمنی اور امریکی سربراہان مملکت کو بھیجا گیا ہے۔

مکتوب میں کہا گیا ہے کہ چین اور ایران کے درمیان طے پانے والے معاہدے میں چین کے کیمونسٹ نظام اور ایران کے ولایت فقیہ کے مذہبی سیاسی نظام کو مضبوط کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس اعتبار سے یہ معاہدہ بین الاقوامی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔

ایرانی شخصیات نے لکھا ہے کہ چین کا نیو سلک روڈ علاقائی مرکزایران کو خطے میں مداخلت کا غیرمسبوق راستہ فراہم کرے گا۔

اس کے علاوہ چین اور ایران ایک بڑے عسکری معاہدے کے ذریعے اسلحہ کی ایک بڑی ڈیل کریں گے۔ دونوں‌ ملک ایک دوسرے کے اسلحہ کی خریداری اور اس سے استفادے کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ مکمل تعاون کریں گے۔ اس طرح خطے میں اسلحے کے حصول اور غیر روایتی ہتھیاروں کی تیاری کی ایک نئی دوڑ لگ سکتی ہے۔

مکتوب میں کہا گیا ہے کہ چین اور ایران کے درمیان طے پانے والے عسکری معاہدے سے عالمی نظام میں تبدیلی کے بعد ایک بار پھر جمہوری ممالک اور استبدادی حکومتوں کے درمیان محاذ آرائی شروع ہوسکتی ہے۔

خیال رہے کہ رواں سال 21 جون کو ایرانی صدر حسن روحانی نے چین کے ساتھ 25 سالہ دفاعی معاہدہ اپنی کابینہ کے سامنے پیش کیا تھا۔ ایرانی کابینہ سے اس سمجھوتے کی منظوری کے بعد صدر روحانی نے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف کو اس پر دستخط کی اجازت دی تھی۔

اس معاہدے سے قبل جواد ظریف نے چین کا دورہ بھی کیا اور معاہدے کو آخری شکل دینے کے لیے چینی حکام کے ساتھ معاملات طے کیے تھے۔

ایرانی شخصیات نے چین اور ایران کے درمیان طے پانے والے معاہدے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بیجنگ اور تہران میں معاہدہ سیاسی اسلام اور چین کے کیمونسٹ نظام کو مضبوط کرنے کی کوشش ہے۔ اس سمجھوتے کی بھاری قیمت نہ ایرانی عوام بلکہ پوری دنیا کو چکانا ہوگی۔

ان کا کہنا ہے کہ معاہدے کے نتیجے میں خطے میں ایران اور چین کا اثر ونفوذ غیرمعمولی حد تک بڑھ جائے گا اور ایرانی اور چینی رجیموں کو اپنے عزائم کی تکمیل کا معوقع مل سکتا ہے۔ چین اور ایران خطے میں موجود دہشت گرد تنظیموں کی مدد کرکے خطے میں سلامتی کے مسائل پیدا کرسکتے ہیں۔

ماہرین نے اس معاہدے کو نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کی سلامتی، امن اور استحکام کے لیے ایک بڑا تزویراتی خطرہ قرار دیتے ہیں۔

اس مکتوب میں اقوام متحدہ کے رکن ممالک اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل سے اپیل کی ہے کہ وہ ایرانی حکومت کےساتھ تعاون کے بجائے ایرانی عوام کی مدد کریں اور ایران میں کسی تشدد کے بغیر جمہوری تبدیل کے عمل میں مدد کریں۔
مکتوب پر دستخط کرنے والی ایرانی شخصیات میں معروف قانون دان غینی بور فاضل، انسانی حقوق کے مندوب حشمت اللہ طبرزدی، آیت اللہ معصومی تہرانی، فلم پروڈیوسر محمد نوری زاد، قومی محاذ کے رہ نما کورش زعیم، بیرون ملک مقیم سیاسی رہ نما ماری ابیک، داریوش، شہرہ اغدا شلو، پرویز صیاد اور سام رجبی شامل ہیں۔