کوئٹہ: لاپتہ افراد کیلئے احتجاج جاری

58

وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کی جانب سے بلوچ لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے کوئٹہ پریس کلب کے سامنے احتجاج کو 4085 دن مکمل ہوگئے۔ وکلاء برادری نے  بڑی تعداد میں کیمپ کا دورہ کرکے لواحقین سے اظہار یکجہتی کی۔

وی بی ایم پی کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے وفود سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ لاپتہ بلوچوں کو ریاستی اداروں ںے اغواء نما گرفتاری کے بعد حراست میں لے رکھا ہے جن کے لواحقین ناقابل بیان کرب سے دوچار ہیں اور آج تاریخ کی طویل ترین بھوک ہڑتالی کیمپ میں احتجاج پر مجبور ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حقائق نوآبادیاتی فکر سے متصادم ہے جس کا مظاہرہ لاپتہ بلوچوں کے لواحقین کے تاریخی بھوک ہڑتالی کیمپ میں دیکھ کر کیا جاسکتا ہے لہٰذا بلوچقوم یہاں کس سے انصاف کی توقع رکھے اور کیوں رکھے، ایسی صورتحال میں بلوچ قوم کے پاس انصاف کے حصول کا واحد راستہ بین الاقوامی برادری سے رجوع کرنے اور اپنی پرامن جدوجہد کو پہلے سے زیادہ منظم اور تیز تر کرنے کا رہ گیا ہے۔

ماما قدیر نے کہا کہ بین الاقوامی سطح پر امن، انصاف اور قوموں کے حقوق کی داعی قوتوں نے بلوچ نسل کشی پر بارہا آواز بلند کی ہے، بلوچوں کی جبری گمشدگی، شہادت پر بھی عالمی ضمیر خاموش نہیں رہا، جس کی گونج اقوام متحدہ سمیت امریکہ، یورپ اور برطانیہ میں سنائی دی گئی ہے مگر ان سب کے باوجود عملی طور پر اقدام اٹھانے کی ضرورت ہیں۔