شاہینہ شاہین اور نوآدیاتی نظام – شے حق بلوچ

90

شاہینہ شاہین اور نوآدیاتی نظام

تحریر: شے حق بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

کسی بھی نیم مردہ نیم زندہ یعنی نوآدیاتی معاشرے میں انسانی زندگی قابل قدر نہیں ہوتی، نوآدیاتی معاشرے میں جہاں انسانی زندگی کی کوئی اہمیت نہیں، جہاں موت حسبِ معمول ایک عام سی چیز سمجھی جاتی ہے، وہاں مرنا اور مارنا بہت ہی نجی معاملات سمجھی جاتی ہیں کیونکہ ایسے حالات میں انسانی تقدیر زمینی خدا یعنی قبضہ گیر کے ہاتھ میں ہوتی ہے ، وہ جسے چاہے زندگی بخشے جسے چاہے موت کے گھاٹ اتار دے، ان حالات میں مظلوم کافی حد تک ظالم کی خدائی کو تسلیم کر لیتا، اور جب وہ قبضہ گیر کی اس خدائی کو قبول کر لیتا ہے تو اپنی زندگی میں بیشتر پیش آنے والے واقعات اور مظالم کو اس زمینی خدا کی طرف سے دی ہوئی آزمائش یا اپنی تقدر سمجھ کر قبول کر لیتا ہے- اس دورانیے میں مظلوم اپنے ساتھ پیش آنے والے تمام مصائب کو آقا کی طرف سے دی ہوئی فطری عمل سمجھ کر تسلیم کرکے اپنے اندر کے انسان کو سُلا دیتا ہے اور ایک چلتا پھرتا مردہ بن کر زندگی گزارنے کی کوشش کرتا ہے اور اسطرح ظلم اور جبر کا یہ سلسلہ تا ابد تک قائم و دائم رہتا ہے.

جب تک ظالم کا وجود اس دنیا میں قائم ہے تب تک ظلم و جبر بھی قائم رہتا ہے – میں یہ سمجھتا ہوں کہ شاہینہ شاہین سمیت تمام بلوچ جو کہ اس سے پہہلے بے دردی سے قتل کئے گئے اور اس سانحے کے بعد کوئی بھی بلوچ کسی بھی جگہ یا کسی بھی دور میں قتل کیا جائے گا تو اس کا نہ صرف ذمہ دار بلکہ قاتل بھی صرف اور صرف پاکستانی سامراج ہے- گو کہ قتل کرنے والے چہرے بدلتے ہیں، وہ چاہے ایف سی کی وردی میں حیات بلوچ کے قاتل ہوں یا بلوچی لباس میں سمیر سبزل اور ڈیتھ اسکواڈ کے کارندے مکلناز بلوچ کے قاتل ہوں یا وہ رات کے اندھیرے میں گمنام چوروں کی صورت میں بی بی کلثوم کو انکے بچوں کے سامنے کمرے میں لے جاکر انکا گردن کاٹنے والے ہوں، یا وہ جو دن دہاڑے محراب گچکی کی صورت میں شاہینہ کو قتل کرنے والا شوہر ہو – ان تمام مظالم اور غیر انسانی رویہ کا زمہ دار صرف اور صرف غیر انسانی غیر جمہوری مُلک پاکستان اور اسکے تمام ادارےہیں، جو اس مُلک کے ستون کے مانند ہیں۔ چاہے وہ پاکستانی نام نہاد عدلیہ، پارلیمان ہو یا پولیس و عسکری قوتیں ہوں ، یہ تمام ادارے اس ظلم و جبر میں نہ صرف برابر کے شریک دار بلکہ حقیقی معنوں میں خود مجرم اور قاتل ہیں-

یہ قاتل ہے ان تمام بلوچوں کا، ان تمام سندھیوں کا، ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والے انسانوں کا اور ان تمام انسانوں کا جو اس سامرجی قوت کو دوام دینے کے لیے قتل کئے گئے ہیں اور آنے والے وقتوں میں قتل کئے جائینگے، زندانوں اور عقوبت خانوں میں تا مرگ مختلف جسمانی اور ذہنی اذیت میں پھینک دیئے جائینگے۔

اس سانحے کو ہونر کلنگ یا ڈومیسٹک واِلینس کا نام دینا بھی ایک ریاستی پالیسی ہے ، اور اس سانحے کو اس طرز سے ظاہر کرنا جہالت اور حماقت ہے- اگر اس طرح ریاستی جرائم کو چُھپایا گیا، تو یہ ریاست اور اسکی سامراجی مشینری آئے روز بلوچ قوم اور دوسرے تمام مظلوم اقوام کو اسی طرح بے دردی سے قتل کرکے ان اقوام کی نسل کشُی کرنے میں کامیاب ہوتا رہے گا اور ہم اسی طرح ریاست کے دکھائے ہوئے راستے پر چل کر اپنے ہی ہاتھوں سے اپنا گلہ دباتے رہینگے، یہ سلسلہ جاری رہے گا اور بلوچ بچے بلوچ بچیاں ، جوان بھوڑے ریاست کے ہاتھوں قتل ہوتے رہینگے-

بے بسی اور جرائم کا یہ سلسلہ جاری و ساری رہینگے بشرطیکہ اس سانحے کو حقیقیقی معنوں میں سمجھ کر اسے اسی طرح پیش کر کے ان نوآدیاتی پالیسیوں کے خلاف مزاحمت کا راستہ اختیار کرکے اپنے آپ اور اپنی قوم کو اس جہنم سے نکال کر ایک انسانی سماج میں لے آئیں وگرنہ ہمیں روز ایسے واقعات دیکھنے کو ملتے رہینگے –


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔