سورج کا شہر (حصہ دوئم) | قسط 45 – ڈاکٹر شاہ محمد مری

44

دی بلوچستان پوسٹ کتابی سلسلہ

سورج کا شہر (سفر نامہ) – ڈاکٹر شاہ محمد مری
حصہ دوم | پندرہ برس بعد | اورماڑہ اور پسنی کے بیچ

ہم اور ماڑہ گئے۔ جمعہ کا دن اور وقت تھا، اس لیے بازار تقریباً بند تھا۔ وہاں ایک شخص سے شہر کے اِس عجب نام کے بارے میں پوچھا۔ اُس کی معلومات تھیں کہ یہاں سے گزرنے والی سکندر کی فوج کے کمانڈر ”ہر مز“ کا نام بگڑتے بگڑتے اور ماڑہ بن گیا۔

اورماڑہ کی حالیہ صدیوں کی تاریخ دنیا بھر میں اپنی نوعیت کی انوکھی تاریخ ہے۔ یہ قلات کا حصہ ہوا کرتا تھا۔ پھر نصیر خانِ اعظم نے اُسے جہیز میں اپنی بیٹی (جام غلام شاہ کی بیوی) کو دیا۔ جس نے بعد میں بیلہ کے جام میر خان اول کے ساتھ شادی کی۔ اورماڑہ پھر قلات کو ملا جب اُسے محراب خان دوم کی بیوی، جام علی دوم کی بیٹی بی بی عائشہ کے جہیز میں دیا گیا۔ پھر اسے اوتھل کے ساتھ ملا کر بیلہ کے جام کو اس وقت دے دیا گیا جب جام میر خان دوم نے خان خدائیداد خان کی بہن بی بی اللہ ڈنی سے شادی کی۔

آج تو یہاں کا سمندر (اور یوں شہر بھی) نیوی کے زیر استعمال ہے۔ ہم بس گئے اور کار موٹر میں ہی شہر اور بازار میں سے گزرے اور واپس مین روڈ پر آئے۔ اِدھر مست توکلی کے بقول ہمارے ”اباّ بچ مری آنی“ نہ تھے، ڈاکٹر فضل خالق ٹرانسفر ہو کر گوادر چلا گیا تھا اور غوث بہار خود ساختہ، خود سوختہ اور معروض کی ماری جلا وطنی کی ٹھوکروں میں۔ اور اپنا کوئی واقف نہ تھا۔

ہم اورماڑہ سے نکلے اور موبائل سگنل کی آمد کے مواقع پر دوسرے دوستوں سے رابطہ قائم کرکے بالآخر سڑک کے کنارے ایک ہوٹل میں کھانا کھانے رکے۔ ارے ادھر تو اپنوں نے ایک دنیا بسائی ہوئی تھی۔ نوشین تھی ناں۔ نادر جان کی ملائکہ بیٹی اور اُس سے وابستہ لوگ تھے۔ یہ عورت ہو بہو بلوچستان جیسی ہے۔ قحط و سیر سالی کی دو انتہاؤں کے بیچ کے سارے سپیکٹرم سے مزین۔ مسیحی لوگوں کی طرحlove اور beloved اُس کے بے معنی تکیہ ِ کلام ہیں۔ جتنے ذاتی و سماجی دکھ ایک بلوچ تعلیم یافتہ خاتون کے لوح محفوظ میں لکھے ہوتے ہیں وہ اُن سب کا ذائقہ چکھ چکی ہے۔ ابتدائی انسان کی طرح بکھری فطرت کے اندر سیاسی اور سماجی، معبود پاتی اور مسترد کرتی رہی۔ پاتی تھی تو ارشمیدسی نعرے لگاتی تھی، مگر جب ”جاننے“ کے بعد مسترد کرتی تھی تو تاسف کا گہرا گھاؤ اس کے دل پر ایک چیر کا نشان بنائے بنا کبھی نہ لگا۔ اس کی باطنی دنیا جب اعتماد کرتی ہے تو اپنی صندوق میرے سامنے الٹ دیتی ہے مگر مردم گزیدگی میں مہینوں سالوں تک دبیز دھند اوڑھے رکھتی ہے۔ مجھے ”ماما“ کہنے والے میرے میڈیکل کے شاگردوں شاگردنیوں کی بیماری اُسے بھی لگی تھی مگر اب کئی دہائیاں بیت گئیں، وہ اس تکلف کو ترک کرگئی۔………… (اردو زبان میں ”ماموں بنانا“ ایک محاورہ بھی ہے۔ مگر اِس گہما گہمی کے عہد میں آپ کس کس بھانجے اور بھانجی کو روک کر اُس کا منہ سونگھتے پھریں گے کہ اُس کے ”ماما“ کے خطاب میں کہیں ”ماموں بنانے“ کی الکوحل کی آمیزش تو نہیں)۔

نادر قمبرانڑیں اِس قوم کو دو گڑیائیں دے گیا ہے۔ افشیں اور نوشیں۔ چاہے تو اُن سے فیضؔ ترنم میں سن لو، چاہے تو گل خان کے ترانے۔ نوشین نے اپنی شاعری ہمارے رسالے سے شروع کی تھی اور اب تو وہ جائز طور پر بلوچ عورتوں کی ”شاعرِ مشرق“ بن چکی ہے۔ مگر اپنی ملنگ طبعی میں نیپ کی فضیلہ عالیانڑیں نہ بنی۔ اور ہمارے رسالے میں بھی بار بار یاد دہانیاں اُسے نظم بھیجنے پہ مجبور کرتی ہیں۔ بلوچستان کی ثبینہ رفعت!

نوشین جہاں موجود ہوتی ہے ایک مختلف النوع حلقہ اپنے گرد بنالیتی ہے۔ آج اس چھپر والے ہوٹل کے ایک چھوٹے سے چھپر کے کمرہ نما حصے میں درجن بھر لوگ پروانگی کو جامد و موجود تھے۔

ایک ننھی بلوچ بچی رژنا وہاں تھی۔ متحرک و مستعد۔ فطین و ناطق۔ ذہین و تفتیش کار۔ اعتماد سے بھری، سوالات سے پُر۔ مجھے گل خان نصیر کی، بلوچ کے بارے میں دعا یاد آئی۔ (یا خدا وندا بلوچانہ چوشیں مردم بہ دئے)۔ سوا دو منٹ کے اندراندر اُس بچی نے ہمیں بچہ بنا ڈالا………… اور مجھے بچہ بننا بہت اچھا لگتا ہے۔

وہاں سے چلے تو آگے ماکولا آیا۔ مچھیروں کی بستی اور عین سامنے سمندر۔

ہم پسنی کے لیے مڑگئے، بائی پاس کے راستے۔ پسنی تو گوادر کی طرح بلوچ کی درخشاں تاریخ کا سنہرا باب ہے۔ اُسے گوادر کی طرح اس وقت جل کر خاکستر ہونا پڑا تھا، جب اُس کے وطن دوست اور آزادی پسند بچے 1581 ء میں پرتگالی سامراجیوں کے خلاف لڑے تھے۔

ہم نے ہر حال میں پسنی جانا تھا۔ ہمیں ایک آدھ قرض چکانا تھا، ایک وفا نبھانا تھی، ایک رواج کی برآوری کرنا تھی۔ ہمیں اپنے آفت زدہ اور شاعر یار، مبارک قاضی سے ملنا تھا۔ کچھ اشکوں کا لین دین کرنا تھا ……

مگر قاضی ملے تو سہی۔ اِس دکان میں ہوگا، نہیں نہیں اُس اوطاق میں ملے گا، ارے نہیں ابھی ابھی گھر چلا گیا۔ ہم نے یہ ”چیز جاہ“ (کھلونوں کی دکان)، چھان ماری، وہ ”سرٹاپ جاہ“ (باربر شاپ) جھانکا، وہ ”ٹیکی جاہ“ (گفٹ سنٹر) جھاتی ماری۔ ہم نے شہر بھر پھر کر جانی، انجانی، شناسی، اور تلاشی متلاشی نگاہیں خود پہ ڈلوائیں۔ وفا، رفیق و رقیب دونوں کے نوٹس میں رہتی ہے………… اور اب تو سارا شہر (اور بلوچستان کا ہر شہر) رفیق و رقیب کی ٹاپوں کی آماج گاہ بن چکا ہے۔………… ہم نہ رقیب کی اندوہ کاری سے ہاتھ ملا پائے، نہ رفیق کی کرخت انصافی ڈنڈے ماری سے نباہ کرسکے، اور نہ ہی اپنی، تیسری آواز بہت لوگوں تک پہنچا پائے۔

ہمیں انور صاحب خان بھی مطلوب تھا، مگر یونہی خیر سگالی کے لیے۔ آپ پیروں فقیروں کے شہر ملتان جائیں، رکن الدین کی زیارت کریں مگر یوسف مگسی کے والد کی قبر کو سلام نہ کہیں، یہ ممکن ہے کیا؟۔ آپ پسنی جائیں، قاضی کے دربار جائیں اور انور صاحب خان نامی مرشد زیارت سے رہ جائے تو خلش کہاں چھوڑے گی۔ ادب سے وابستہ یہاں کے سیاہ اور ماہ لنج دونوں ہمیں پیارے۔ (سیاہ ہمل کی گھوڑی کا نام تھا اور ماہ لنج اُس کی محبوبہ تھی)۔ اب قاضی اور انور میں سیاہ کون ہے اور ماہ لنج کون؟……دل بتانے سے قا صر ہے۔

قاضی کو تلاشنے میں ابھی بھنبھوریوں کو مزید ریت پھانکنا تھا۔ منزل معلوم ہونا چاہیے، راہ شناسی تو اضافی نعمت ہوتی ہے۔ہمارے ہاں تو غضب یہ ہے کہ منزل کا تعین ہی نہیں کیا ہوتا، راستہ کے انتخاب پر فرقے کاریاں اور بیان بازیاں ہوتی رہتی ہیں۔
انور صاحب خان مل گیا۔ ”شاباش شابش“ یعنی جلدی کرو جلدی کرو پیٹتے ہوئے وقت نے یہ موقع تو نہ دیا کہ ہم اُس کے ساتھ دو گھڑی بیٹھتے، بہت ادب اور توجہ سے اُس کی زبانی اُس کا کلام سنتے، اُس کی کتابیں اُس سے وصول کرتے۔ مگر یہ کیا کم نعمت ہے کہ بلوچستان کا مشرق، اپنے مغرب سے عصر کے وقت گلے ملے؟۔ جوانوں نے ہمیں ایک بار پھر احسان مند کردیا کہ اُس کے ساتھ فوٹو گرافی کا موقع بخشا۔ بس ایک لمحہ ملا تھا دید کو۔ ایک گرم جوش خیر مقدمی گلے ملائی کے دس منٹ بعد ہی ہم الوداعی گلے ملے، اورقاضی مبارک کی طرف چلے۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔