سندھ میں ’لاپتا افراد آزادی مارچ‘ کا آغاز

55

ایڈوکیٹ محب آزاد سمیت سندھ بھر سے جبری لاپتا کارکنان کی آزادی کے لیے حیدرآباد میں ’لاپتا افراد آزادی مارچ‘
عالمی دنیا اور انسانی ضمیر کو سندھ و بلوچستان میں جبری گمشدگیوں و انسانی حقوق کی پامالیوں پر خاموشی ختم کریں: سورٹھ لوہار

وائس فار مسنگ پرسنز آف سندھ، سندھ سجاگی فورم، عوامی ورکرز پارٹی، ورکرز رززٹنس، نوجوان اتحاد، سول سوسائٹی اور لاپتا افراد کے لواحقین کی جانب سے آج شہباز بلڈنگ، ٹھنڈی سڑک سے پریس کلب حیدر آباد تک جبری طور پر لاپتا سندھ سجاگی فورم کے رہنماء ایڈوکیٹ محب آزاد سمیت سندھ بھر سے جبری لاپتا افراد کی آزادی کے لیئے ’مسنگ پرسنز آزادی مارچ‘ کیا گی۔

مظاہرے کی رہنمائی سندھ سجاگی فورم کے جوائنٹ سیکریٹری سارنگ جویو، وائس فار مسنگ پرسنز آف سندھ کی رہنماء سہنی جویو، عوامی ورکرز پارٹی کے رہنماء بخشل تھلھو، ورکرز رززٹنس کے رہنماء مسرور شاہ، نوجوان اتحاد کے رہنماء امجد رند، نامور سندھی ادیب تاج جویو، سول سوسائٹی رہنماء امداد چانڈیو و دیگر نے کی۔

اس موقع پر رہنماؤں نے احتجاجی مارچ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی ایجنسیوں کے ہاتھوں سندھ بھر میں جبری گمشدگیوں کا تیز ہونے والا یہ سلسلہ بتا رہا ہے کہ اس ریاست کے اصل ’کرتا دھرتا‘ ریاست کا سیاسی استحکام قائم رکھنا نہیں چاہتے، اس لیئے وہ سندھ اور بلوچستان میں وہی پریکٹس دُہرا رہے ہیں جو انہوں نے آج سے چار دہائی قبل بنگلادیش میں آزمائی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سندھی ایک پرامن قوم ہے، لیکن ریاستی ہتھکنڈے سندھ میں بھی مذہبی و لسانی گروہوں کی سرپرستی کرکے سندھ جیسی پرامن سرزمین کو نسلی و لسانی گروہوں کی ایک ناختم ہونے والی خانہ جنگی کے طرف دھکیل دینا چاہتے ہیں۔ جس کا واضح مثال گذشتہ روز کراچی پریس کلب پر سندھی و بلوچ جبری لاپتا کارکنان کی مسنگ پرسنز کیمپ پر ان کی آشیر واد یافتہ انتہاء پسند تنظیم ’سپاہِ صحابہ‘ کا کروایا گیا حملہ ہے۔ حملے کی ناصرف ہم مذمت کرتے ہیں بلکہ سندھی عوام کو آنے والے تمام ممکنہ ریاستی لسانی و فرقہ وارانہ خانہ جنگی سے بھی آگاہ و ہوشیار کرنا چاہتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم دنیا کے عالمی اداروں و انسانی حقوق کی تنظیموں کو سندھ میں ریاستی سرپرستی کے سائے میں پلنے والی ایسے مذہبی انتہاء پسند گروہوں پر نوٹس لینے کی اپیل کرتے ہیں جو سندھ کے تاریخی طور پر پرامن، سیکیولر اور مذہبی روادار سماج پر حملہ کرکے سندھ کی تاریخی شناخت و قومی وجود کو ملیامیٹ کردینا چاہتے ہیں۔

اس موقع پر رہنماؤں نے مزید کہا کہ سندھ بھر سے سو سے زائد سندھی قومپرست کارکنان کو پاکستانی ایجنسیوں نے جبری طور اٹھا کر لاپتا کردیا ہے، جس میں نا صرف۱۶ سالا بشیر شر اور عاقب چاندیو جیسے نو عمر کمسن بچے شامل ہیں، بلکہ ۸۰ سالا سید بچل شاہ سمیت سندھ ہائی کورٹ کے وکیل ایڈوکیٹ محب آزاد لغاری،۶۰ سالا استاد شادی خان سومرو،۵۹ سالا سندھ پبلک ورکس ڈپارٹمینٹ کا ملازم ایوب کاندھڑو، پٹھان خان زہرانی، امتیاز خاصخیلی، ریاض خاصخیلی، امداد شاہ، انصاف دایو، مرتضیٰ جونیجو، شاہد جونیجو، ستار ہکڑو، مسعود شاہ، مرتضیٰ سولنگی، نسیم بلوچ اور مہران میرانی سمیت سیکڑوں سندھی کارکنان شامل ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ان سب کی آزادی کے لیئے ہم اقوام متحدہ، ایمنسٹی انٹرنیشنل، سپریم کورٹ اور انسانی حقوق کی تمام تنظیموں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ مسنگ پرسنز کی آزادی کے لیئے اپنا عملی کردار ادا کریں۔

دوسری جانب وائس فار مسنگ پرسنز آف سندھ کی سربراہ سورٹھ لوہار نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ دنیا اور انسانی ضمیر سندھ و بلوچستان میں جبری گمشدگیوں و انسانی حقوق کی پامالیوں پر خاموشی ختم کریں کیونکہ ہمارے پاس آواز اٹھانے اور احتجاج کرنے کے علاوہ اور کوئی راستہ ہی نہیں ہے، جس کے ذریعے ہم مسنگ پرسنز کو واپس کروا سکیں۔

ان کا مزید کہنا ہے کہ ایڈوکیٹ محب آزاد لغاری سمیت سندھ بھر سے جبری طور لاپتا کیئے گئے تمام کارکنان کی آزادی کے لیئے آج حیدرآباد میں کیئے گئے ‘مسنگ پرسنز آزادی مارچ‘ کے بعد اب لاڑکانہ، سکھر، میرپور خاص اور کراچی میں بھی ’مسنگ پرسنز آزادی مارچ‘ نکالیں گے۔