دیہاڑی – عمران بلوچ

54

دیہاڑی

تحریر: عمران بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

شبنم پھول اور چمن پر گرچکی تھی۔ چڑیا چہچہانے لگی تھیں۔
سورج کوہ حلوائی سے سر اٹھانے لگی تو اسکی شعائیں شبنم سے ٹکرا کراسکو موتی میں تبدیل کردیتے۔

روشنی اندھیرے کو شکست دے کر ہر انواع کو بیدار کر رہی تھی۔
شہر میں امدورفت شروع ہوچکی تھی۔

دوستین اور بہادر اپنی مزدوری کی غرض سے بازار کے اس طرف گامزن ہوئے جہاں سے مزدوروں کو کوئی ٹھیکیدار فیکٹریوں یا کسی مکان کی تعمیر کے لیئے اٹھاتے تھے، دونوں کے پاس اپنے اوزار موجود تھے کپڑے جھریوں بھرے جیسے کسی بوڑھی عورت کے پیشانی کی جھریاں ہوں
کالر ٹوٹی ہوئی، استین کے سلائی کھل چکے تھے، پانچے بھی اپنے اخری ایام گن رہے تھے۔

واہ دوستو یارا آج نئے کپڑے پہنے ہیں تو نے
ہاں اڈے بہادر وہ میرا چچازاد ہے اس نے بھیجے ہیں
یار دوستو نئے کپڑے تو نہیں لگ رہے ہیں
چل یار ہمیں نئی چیزیں نصیب کب ہوتی ہیں یہ تو اسکا بڑک پن ہے کہ یہ بھی بھیجے
چل یار اگر تیرا چچازاد اگلی بار بھیجے تو میرے لیئے بھی کہہ دینا کہ ایک غریب اور بھی ہے

دونوں ہنس کر چوک کی طرف روانہ ہوئے سورج کوہ حلوائی کے اوپر کھڑی ایسے لگ رہی تھی، جیسے کسی بادشاہ کے تاج پر بڑی سی موتی ہو۔۔۔۔
بہادر یار دعا کرنا آج کوئی ٹھیکہ مل جائے
کل کوئی دہیاڑی نہ لگنے کی وجہ سے تیرے بھابی کی دوائی نہیں لے پایا اور اوپر سے حنیفہ نے آج گھڑی کی فرمائش کی ہے۔۔۔
یارا دوستو بس دعا کر میری حالت بھی کچھ خاص نہیں ہے گھر کا چولہ بجھ چکا ہے رات کو نہ میں نے کھانا کھایا ہے نہ تیری بھابھی نے
دن کا کچھ بچا تھا وہ بھی بچوں کو کھلا دیا صبح وہ سورہے تھے میں بھاگ نکلا کہیں کوئی کچھ مانگ نہ لے۔

بہادر کی انکھیں نم ہوئیں تو دوستو نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا
چائے پیوگے میرے یار
بہادر نے سر اٹھا کر پوچھا
پیسے نہ تیرے جیب میں نہ ہی میرے چائے کہاں سے پیئنگے
تو فکر مت کر چوک کے قریب میرا ایک دوست چائےکا ڈھابہ لگا چکا ہے وہیں اس سے ادھار میں پی لینگے
اچھا پھر پیسے کب دینگے۔۔۔
وہ مجھ پہ ہیں چل
نہیں یار اج بچوں کو کچھ ناشتے میں نہیں ملا ہے میرے حلق سے کیسے جائے گا؟
میرے بہادر اگر تجھ میں توانائی نہیں ہوگی تو وہ ہر روز بغیر کچھ کھائے سویا اور اٹھا کرینگے چل بکواس سوچنا بند کر۔

باتوں باتوں میں دونوں ڈھابے پر پہنچ گئے ڈھابے کے دیواروں پہ سبز رنگ اور چھت پر ایک پرانہ پنکھا جس پر مکھیوں کی بھرمار کی وجہ سے اسکا رنگ بھی نہیں پہچانا جارہا تھا، چار طلباء ایک میز کو گھیرے ہوئے تھے۔

انکے پاس ہی ایک ادھیڑ عمر کا شخص دو دن پرانا اخبار پڑھ کر چائے کی چسکی لے رہا تھا پاس ہی کچھ اور مزدور اپنے گپوں میں مصروف تھے۔ انہیں طلباء کی پشت میں ایک جگہ خالی تھی، دوستو اس طرف ہو چلا بہادر بھی اسکے پیچھے پیچھے چل رہا تھا۔۔۔۔
اجا میرے یار بیٹھ یہاں
استاد دوستو کی آواز ابھری
کمرے میں بیٹھے سب لوگ اسکی طرف مڑے چائے بنانے والے نے ہاتھ اوپر کی
ہاں دوست جان اج میرے غریب خانے میں کیسے انا ہوا ۔۔۔
بس یار کافی دن ہوئے تیری چائے پیئے دو چائے زرا جلدی بھیج ۔۔۔
اسکی چائے پی لے بڑی مزےدار ہوتی ہے

بہادر ان طلباء کو سن رہا تھا جن کی پشت اسکے طرف تھی وہ انکی طرف دیکھتے ہوئے بولا
یار دوستو یہ انقلاب، برابری، عورتوں کے حقوق، مزدورں کے حقوق، تعلیم، صحت۔ کیا بلا ہیں؟

دوستو حیرت سے اسکی طرف دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا یہ کیا پوچھ رہے ہو کہاں سے سن لیا یہ سب؟
یہ جو نفیس لڑکے ہمارے محلے کے لڑکوں سے بلکل الگ ہیں ان سے سنا ابھی انہیں الفاظ کو دہرا رہے ہیں
خیر باقیوں سے مطلب نہیں لیکن ہمارے بھی کوئی حقوق ہوتے ہیں۔
کیا ہم بھی کسی کی بحث کا مرکز ہوتے ہیں؟
کیا ہم بھی کسی کے لیئے درد سر ہیں؟
یار بہادر مجھے اور کچھ نہیں پتہ اسکول تو میں نے پانچویں تک پڑھا
یہ لڑکے کتابیں پڑھ کر ایسی باتیں کرتے ہیں ایسا میں نے اپنے کسی رشتہ دار کو کہتے سنا تھا
کیا کتابوں میں ہمارے بارے میں لکھا ہوتا ہے؟
دیکھ بہادر اتنا نہیں پتہ لیکن اتنا پتہ ہے کہ یہ ان کتابوں کو پڑھ کر سوچتے ہیں بات کرتے ہیں
کیا یہ بھی لکھا ہوتا ہے کہ مزدور کے گھر میں ہر دو شب بعد بچے بھوک سے تلملا اٹھتے ہیں؟
کیا یہ بھی لکھا ہوتا ہے کہ بہت سے مزدور عورتوں کے بچے دوران مزدوری پیدا ہوتی ہیں؟
کیا یہ بھی لکھا ہوتا ہے کہ بہت سی عورتیں کمزور ہونے کی وجہ سے بچہ جن نہیں سکتیں؟ اور موت کو گلے لگاتی ہیں۔۔
کیا یہ بھی لکھا ہوتا ہے کہ مزدور کو زخم لگنے کی وجہ سے علاج نہیں ہوتا اور گھر کے کونے میں پڑھ کر اپنے زخم کو دیکھتا رہتا ہے جب اسے کیڑے لگتے ہیں تو اہستہ اہستہ موت کی اغوش میں چلا جاتا ہے؟
کیا یہ بھی لکھا ہوتا ہے کہ رات کو بار بار بھری خواب سے اٹھ کر یہ سوچتا ہے کہ کل دہیاڑی ہوگی بھی کہ نہیں؟
کیا ان لکھے ہوئے الفاظ میں حنیفہ کی خواہش اور بھابی کی دوائی لکھی ہوتی ہے؟
کیا میرے گھر کا ناشتہ لکھا ہوتا ہے؟
سب سے بڑھ کر کیا وہاں پر ہم مزدوروں کے جذبات ہوتے ہیں؟

دوستو حیران پریشان بہادر کی طرف دیکھ رہا تھا چائے کی چینک دو پیالیوں کے ساتھ ٹیبل پر پہنچ گئے دوستو نے چینک سے دونوں پیالیوں میں چائے انڈیل دی اور بس اتنا کہا
یار بہادر مجھے پتہ نہیں لیکن میں نے ایسا بھی سنا ہے کہ جو ان کتابوں کو پڑھتا ہے سمجھتا ہے اسے ایک گروہ غائب کر دیتا ہے اور بعض اوقات انہیں کاٹ کر انکے اعضاء بیچ دیتا ہے
کبھی کبھار انکو کسی ویرانے میں گولی ماری جاتی ہے اور جو خوش قسمتی سے ذندہ واپس اتا ہے تو اسکا ذہنی توازن ٹھیک نہیں رہتا کون ہیں۔ کہاں سے اتے ہیں کسی کو نہیں پتہ۔۔۔۔
بہادر چونک پڑا ایسا کیا گناہ ہے ان کتابوں کو پڑھنے میں یار دوستو؟
یہ مجھے معلوم نہیں بہادر جان
انہیں باتوں کے دوران دو موٹر سائیکل سوار ڈھابے کے دروازے پر رکے دونوں نے ڈھابے کا معائنہ کیا دوسرا موٹرسائیکل بھی پہنچ گیا انکے ہاتھ میں ہتیھار تھے فائرنگ شروع ہوئی
سب کچھ اڑنے لگا گولیاں ختم ہونے کا نام تک نہیں لے رہے تھے جب فائرنگ بند ہوئے تو بہادر کو کچھ سںنائی نہیں دے رہا تھا
دھواں جب تھم گیا بہادر نے بھی اپنے حواس پر قابو پالیا اس پاس دیکھا وہ طلباء خون میں لت پت زمین پر پڑے تھے اخبار پڑھنے والا شخص بھی خون میں دھل چکا تھا اچانک اسکی نظر دوستو پر پڑی جو پاس والے ٹیبل کے نیچے پڑا تھا۔ بہادر نے اسے اٹھانے کی کوشش کی تو اسے اپنے کندھے پر جلن اور درد محسوس ہوا اسکے کندھے پر ایک گولی لگی تھی
بڑی کوشش کے بعد جب اسنے دوستو کو ٹیبل کے نیچے سے نکالا تو دوستو اپنی اخری سانسیں گن رہا تھا۔

ٹوٹتے الفاظ کو بڑی مشکل سے ادا کرتے ہوئے بولا میری حنیفہ کو کہنا مجھے معاف کردے میں اسے کچھ نہیں دلا پایا
اپنی بھابی کو کہنا بہت محبت کرتا ہوں اس سے کمبخت زندگی نے ساتھ نہیں دیا
ورنہ اسکو ڈھیر ساری خوشیاں دیتا
اور میرے دوست بہادر ہمیشہ بہادر رہنا
بہادر کی انکھوں سے انسو نہیں روک رہے تھے اپنا درد بھول بیٹھا اپنے یار کا سر اپنی گود میں رکھا انسو بہا رہا تھا دوستو کے منہ سے خون کے بلبلے نکلے اور انکھوں کی پتلیاں اوپر کی طرف چلی گئیں۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔