دشمن کی نئی چال اور ضمیر فروش – زہرہ جہاں

130

دشمن کی نئی چال اور ضمیر فروش

تحریر: زہرہ جہاں

دی بلوچستان پوسٹ

یقیناً ضمیر فروش ضمیر خریدنے والوں سے زیادہ بد مست و بد چلن ہوتے ہیں. کیونکہ جو ضمیر بیچے اسے عزت, غیرت و ننگ سے کیا لینا دینا. جب ضمیر ہی نہیں ہوگا تو انسان گوشت و پوست کے ایک پتلے کے سوا اور ہوگا بھی کیا؟

ضمیر ہی تو شعور کو جلا بخشتی ہے. ضمیر ہی تو انسان کو اندھیروں سے روشنی کی طرف مائل کرتا ہے. ضمیر ہی تو انسان کو اسکے غیرت, عزت اور آزادی سے جینے کی ہمت, جرأت اور سوچ فراہم کرتی ہے. اگر ضمیر ہی نہیں تو اس زندہ لاش نما بیکار انسان سے کیا اچھے توقعات رکھنے۔

پاکستان آرمی کی ذلیل و ذیلی شاخ ایف سی بلوچستان سے کون واقف نہیں؟
اسکی درندگی سے کون آشنا نہیں؟
اسکی دہشت گردی کے قصوں کا کسے خبر نہیں؟
پاگل کتوں سے بھی زیادہ بیمار زہنیت کے انسان نما حیوانوں کی بلوچستان میں کی جانے والی مظالم سے شاید ہی کوئی بے خبر و نا آشنا ہو۔

بلوچستان کے حالات کو خود ہی خراب کرنا، عوام کے ہر کام میں جسکی سکیورٹی سے دور دور تک کوئی رشتہ ہی نہیں ہو اس میں زور زبردستی ٹانگ اڑانا… عام لوگوں کو سر عام کان پکڑواکر کوڑے مارنا, سکیورٹی کے نام پر بسوں اور ویگنوں میں سفر کرنے والے جوان و بوڑھے مرد اور عورتوں کی گالیوں سے تذلیل کرنا… آپریشن کے بہانے ہفتوں اور مہینوں تک عام آبادی کا محاصرہ کرنا… لوگوں کو اپنے ہی گھروں میں محدود کرنا، چادر و چار دیواری کی پامالی کو اپنا پسندیدہ مشغلہ بنانا.، جس دن کرنے کو کچھ نہ ہو اس دن آپریشن کے نام پہ بنا کسی ثبوت اور وجہ کے مار پیٹ, لوٹ مار, قتل و غارت گری کرنا، لوگوں کے گھروں کو جلانا, عورتوں کو اپنی جسمانی تسکین کے لیۓ زبردستی اغواٗ کرنا اور تفتیش کے نام پہ ہفتوں تک اپنے کیمپ میں بند کرنا اور پھر نیم مردہ حالات کسی ویرانے میں مرنے کے لیۓ پھینکنا یا بکاؤ میڈیا کے ذریعے دہشت گرد ثابت کرکے پھر سے چھوڑنا. ماؤں, بہنوں اور بیوی کے سامنے والد, بیٹے, بھائی یا شوہر کو اغواٰٗ کرنا. پھر مدتوں بعد یا تو مسخ شدہ لاش تحفے میں دینا, یا تشدد زدہ نیم پاگل انسان گھر والوں کے سپرد کرنا جن میں سے خوش قسمت ہی زندگی کچھ دن اور جی پاتے ہیں.

یہی تو ہے شیوہ ایف سی کا، یہی تو وہ فرض ہے حو ایف سی سر انجام دیتا ہے بلوچستان میں. اس سے بڑھ کر اگر کچھ کرتا ہے تو بتلاۓ مجھے کوہی؟

جو مظالم پچھلے 15 سال سے ہورہے ہیں ان کو ایک طرف رکھ کر اگر ہم ابھی کی بات کریں تو حیات بلوچ کا واقعہ, ملک ناز کے ساتھ ہونے والی ظلم و زیادتی, شہید بی بی کلثوم و برمش کے ساتھ ہونے والی ظلم و انصافی, پنجگور جنگ میں شہید ہونے والے بلوچ سرمچاروں کی بے حرمتی. باقی سب چھوڑیں ابھی حال ہی میں پچھلے ہفتے گچک میں خواتین و بچوں کو تین چار دن تک کھلے میدان میں قید کرنے کا توہین آمیز واقعہ. مجھے ایف سی سے کوئی گلا نہیں کیونکہ وہ ہمارا دشمن ہے اور بد تہذیب دشمن ہے. اس سے جنگی قوانین کی پاسداری کا خیال ہی بےوقوفانہ و جاہلانہ ہے.

لیکن شکوہ ہے تو ان اپنوں سے ہے جو ان سب حقیقتوں سے واقف ہونے کے باوجود بجاۓ عزت و جرأت کی زندگی کے ضمیر فروشی و بوٹ چاٹنے کو ترجیح دیتے ہیں. آزادی و آسراتی کی لیۓ سر اٹھا کر جینے کے بجاۓ غلامی کے طوق گلے میں ڈال کر سر جھکا کر چلنے کو فوقیت دیتے ہیں. چار روپے کی شان و شوکت, گاڑی و پیسے کے لیۓ اپنی تن و من کوڑی کے دام بیچتے ہیں اور انھیں پتہ بھی ہے کہ انکی اوقات کیا ہے فوجیوں کے سامنے… غلام کی اوقات ہو بھی کیا سکتی ہے؟ لیکن پھر بھی انھیں دلال کہلانا اور پیسے کے لیۓ ضمیر بیچنا زیادہ عزیز لگتا ہے. یہی وہ لوگ ہیں، جو دشمن سے زیادہ خطرناک ہوتے ہیں کسی بھی قومی و انقلابی تحریک کے لیۓ.

کل ہی کی بات ہے، بلوچ قوم خصوصاً خواتین کو ورغلانے کے لیۓ ایف سی نے پمفلٹ جاری کی کہ ہم تربت, پنجگور, خضدار,نوکنڈی و خاران کی بلوچ خواتین کوباعزت نوکری دینگے. وہ بطور جونیئر کمیشنڈ آفیسر, نرس اور سپاہی ہمارے ادارے کا حصہ بن سکتے ہیں. دشمن نے اپنی نئی چال چلی ہے, اب نیا پتہ پھینکا ہے… یقیناً کوئی فوج جنگ ہارنے کے قریب ہو وہ ایسے ہی اوچھے ہتھکنڈے استعمال کرتا ہے. ایف سی کی اس نیچ و ناکام چال کو تقویت اور اہمیت دینے ہمارے نام نہاد رہنما ظہور بلیدی صااحب بھی میدان میں آے اور فوراً طوطے کی زبان بولنا شروع کردیا زبیدہ جلال صاحبہ کی طرح فیسبک پہ پوسٹ کیا کہ “ایف سی بلوچستان اب باعزت نوکری فراہم کریگی بلوچ خواتین کو.”

ہو بھیا جی! بلوچ خواتین کی عزت اتنی سستی ہوئی نہیں ہے کہ اب ایف سی انھیں عزت دے. بلوچ خواتین کی عزتوں کو تار تار کرنے والے بھی تو یہی ایف سی اور فوج ہے. شہید فدائی رازق بلوچ کے گھر والوں کو ایف سی کیمپ میں جبری طور پہ قید کرنے والے ایف سی والے ہی تھے. جس کھیت پہ شہید دلجان و بارگ نے ٹہراو کیا تھا… اس کھیت کے بزگر کو ایال کے ساتھ اغوا کرنے والے بھی ایف سے والے تھے. جنکا آج تک کوئی اتا پتہ نہیں ہیں. دشمن سے کوئی کیسے عزت کی توقع رکھ سکتا ہے؟

ظہور بلیدی صااحب تم خود بکے ہو اسکا یہ مطلب نہیں کہ ہم بھی بکیں گے۔

ہمیں پتہ ہے ہمارے عزت کے رکھوالے کون ہیں اور عزت سے کھلواڑ کرنے والے کون. ہمیں پتہ ہے ہمارے اپنے کون ہیں اور پراۓ کون. اتنی تو ہم بھی عقل رکھتے ہیں کہ دوست و دشمن میں فرق کرسکیں. تو اگر آپ کو ایف سی بلوچستان سے عزت افزائی کا اتنا ہی شوق ہے تو براۓ مہربانی اپنے ہی گھر سے یہ کار خیر شروع کریں. بلوچ عوام کو اپنی مفاد کی خاطر خدارا مت استعمال کریں. اس قوم کو پہلے ہی بہت نقصان دیا گیا ہے، ضمیر فروشوں نے اب آپ بس کردیں. خود کو بیچ دیا ہے کافی اب بلوچ قوم خصوصاً خواتین کے عزتوں کا سودا مت کریں کیونکہ اس کام میں رسوائی اور ذلت کے سوا کچھ نہیں ہے اور اگر خدا نخواستہ تاریخ آپ کو یاد کرے بھی تو جعفر و صادق سے بھی زیادہ بدتر الفاظ میں یاد رکھیگا.


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔