بی زیڈ یو کے طلباء کیساتھ اظہار یکجہتی کیلئے کوئٹہ میں احتجاج

54

بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کے جانب سے بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان میں بلوچستان اور فاٹا کے طلباء کے لئے اسکالرشپس کی بحالی کے لئے کوئٹہ پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا اس احتجاجی مظاہرے میں مختلف طبقہ ہائے فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے کثیر تعداد میں شرکت کرکے طلباء کے ساتھ اظہار یکجہتی کا مظاہرہ کیا۔

احتجاجی مظاہرے سے مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا بلوچستان تعلیمی حوالے سے ایک زبوں حالی کا شکار صوبہ ہے۔ جہاں حکومتی انتظامیہ کی نااہلی کی وجہ سے طلباء کو آئے روز مختلف مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ اسی تعلیمی زبوں حالی اور بلوچستان کے حالات کے پیش نظر پنجاپ حکومت کے جانب سے بلوچستان کے طلباء کے لئے اسکالر شپس کا اعلان کیا گیا بلوچستان کے طلباء نے اپنے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے پنجاب کا رخ کیا مگر 2018 یونیورسٹی انتظامیہ نے اوپن میرٹ پر سکالرشپ کا خاتمہ کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ اب انہوں نے 2020 سے کوٹے پرآئے ہوئے طلبا کیلئے فیس پالیسی لاگو کرنے کی پالیسی جاری کی ہے اس دوران اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے جانب سے بھی طلباء کے اسکالر شپس کا خاتمہ کیا گیا جو ایک افسوس ناک عمل ہے جس کی وجہ تعلیمی حوالے سے محکوم صوبے کے طلباء تشویش کا اظہار کررہے ہیں۔

احتجاجی مظاہرے میں مقررین نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان کی جانب سے اسکالر شپس کا خاتمہ اور وائس چانسلر کی بے حسی ایک محکوم صوبے کے طلباء کے ساتھ نا انصافی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان نے بلوچستان اور فاٹا کے لئے مختص اسکالر شپس کے خاتمے کا نوٹیفیکشن جاری کیا جس کے بعد بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل ملتان کے جانب سے یونیورسٹی گیٹ کے سامنے ایک احتجاجی کیمپ جو تئیس دن سے جاری ہے اس احتجاجی کیمپ کے انعقاد کا مقصد اسکالر شپس کی بحالی ہے لیکن اس حوالے سے خاص پیشرفت دیکھنے میں نہیں آئی۔

مظاہرین کا کہنا تھا کہ یہ اس چیز کا اظہار ہے کہ حکومت پنجاب اور حکومت بلوچستان اس حوالے سے سنجیدہ نہیں ہیں۔

مقررین کا مزید کہنا تھا کہ بلوچستان کے طلباء کو بلوچستان میں اعلیٰ تعلیمی اداروں کی کمی کے وجہ سے چند یونیورسٹیوں میں آئے روز ایک نئے تشویشناک صورتحال کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ اسی وجہ سے طلباء کی یہ کوشش رہی ہے کہ وہ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لئے پنجاب سمیت دیگر صوبوں کا رخ کریں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ مگر حالیہ عرصوں سے انہی اداروں میں بلوچستان اور فاٹا طلباء کے ساتھ متعصبانہ رویہ برتا جارہا ہے بلوچستان اور فاٹا کے طلباء کے اسکالرشپس کا خاتمہ اس ناانصافی کا شاخسانہ ہے جس کے خلاف طلباء روز اول سے اپنے آئینی حق کے لئے جدوجہد میں مصروف ہیں۔ مگر اس صوبے میں بلوچ وزیراعلیٰ ہونے کے باوجود بلوچ طلباء بھوکے پیاسے موسم کی پروا کئے بغیر اپنا احتجاج جاری رکھے ہوئے ہیں۔

مقررین کہا کہ یونیورسٹی انتظامیہ اوربلوچ طلباء کے درمیان مذاکرات کا اہتمام کیا گیا جس میں یونیورسٹی انتظامیہ کے جانب سے یہ کہا جارہا ہے کہ فنانشل بحران کی وجہ سے اسکالر شپس کا خاتمہ کیا گیا۔ جس کی وجہ سے طلباء اپنی تعلیمی سرگرمیوں کے حوالے سے بہت پریشان ہیں۔ لہٰذا ہم حکومت پنجاب، حکومت بلوچستان اور ایچ ای سی سے یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ بلوچستان اور فاٹا کے طلباء کے مسائل کا جلد از جلد حل تلاش کریں تاکہ طلباء اپنی تعلیمی سرگرمیوں کو برقرار رکھ سکیں۔