انصاف کو ترستا بلوچستان – اعظم بلوچ

105

انصاف کو ترستا بلوچستان

تحریر: اعظم بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

گذشتہ ہفتے سے ایک خبر پاکستانی الیکٹرانک، پرنٹ و سوشل میڈیا میں ٹرینڈ کرہا ہے کہ آٹھ اور نو ستمبر کے درمیانی شب لاہور سیالکوٹ موٹر وے پر گجرپور کے قریب ایک انتہائی دلخراش واقعہ پیش آیا تھا۔ ہوا یوں کہ ایک خاتون اپنے دو چھوٹے بچوں کے ساتھ رات کے وقت موٹروے پر سفر کررہی تھی کہ راستے میں اسکی گاڑی کا پٹرول ختم ہوگیا۔ تو اس خاتون نے فوراً موٹروے پولیس کے ہیلپ لائن پر فون کیا، مگر پولیس کے آنے سے پہلے انسان کی شکل میں کچھ وحشی وارد ہوئے اور بچوں کے سامنے انکی ماں کی عصمت دری (ریپ ) کی گئی۔ ہم اسکو خوش قسمتی تو نہیں کہہ سکتے کیونکہ وہ جبری طور پر نفسیاتی حوالے سے اجتماعی عصمت دری کے زخموں و واقعے کی وحشت ناک خیالوں سے چور تھی، مگر حسن اتفاق یہ واقعہ سوشل میڈیا و ملکی و بین الاقوامی میڈیا پر وائرل ہوگئی اور جلتی پر تیل کا کام سی سی پی او لاہور محمد عمر شیخ کے متنازعہ بیان نے کیا کہ اسکے بعد اس واقعے کےخلاف ملک گیر احتجاج شروع ہوئے تو پر مجبوراً عمران خان، عثمان بزدار اور متعلقہ ایم پی ایز و ایم این ایز اور وزراء نے اس واقعے کا نوٹس لیا اور پولیس و متعلقہ ادارے حرکت میں آگئے اور مجرموں کو پکڑ لیا گیا اور ابھی پاکستان کے پارلیمینٹ و میڈیا سمیت تمام حلقوں میں یہ بحث جاری ہیکہ مجرموں کو سر عام پھانسی دیا جائے یا انکی مردانگی ختم کیا جائے یا کوئی اور سزا دیا جائے اور تو اور اس حوالے سے قانون دانوں و علماء سے بھی مشورے لیے جارہے ہیں۔

دوسری طرف ہم آتے ہیں بلوچستان کی جانب کہ جہاں ہفتوں کی بنیاد پر بلوچ خواتین کو قتل کیا جارہا ہے۔ بلوچ خواتین اور بلوچ نوجوانوں کے قتل کے خلاف بلوچستان، پاکستان سمیت تمام عالم میں احتجاج جاری ہیں، پختون رہنما جناب محسن داوڑ نے یکجہتی و اظہار ہمدردی کے طور پر اپنی نومولود بچی کا نام بھی برمش تک رکھ دیا (وہ تعزیت کے لیے ہمارے گھر آرہے تھے کہ اسے کوئٹہ ایئر پورٹ پر روک دیا گیا)۔ پاکستان کے تمام سوشل میڈیا ایکٹیوسٹوں نے بھرپور آواز اٹھایا، حتیٰ کہ جناب حامد میر نے اپنے ٹویٹ میں جام کمال و پاکستان کے حکام بالا کو یاد دہانی بھی کرائی پر نہ جانے کیوں وزیر اعظم پاکستان تو دور کی بات علاقے کی ایم این ایز و ایم پی ایز کے بہرے کانوں تک یہ آوازیں نہیں پہنچ پارہی ہیں؟

جب میں اپنے چار سالہ بھتیجی برمش کو رات تین بجے روتے ہوئے اُٹھتا دیکھتا ہوں، جب وہ اپنی ماں شہید ملک ناز کو پُکارتی ہے، جسے ڈیتھ اسکواڈ کے کارندوں نے ہمارے گھر میں گھس کر قتل کیا تو مجھے احساس ہوتا ہے کہ بلوچستان پاکستان کا کوئی حصہ نہیں، میرا ننھا سا برمش تین مہینے سے زائد عرصہ ہوا انصاف کا منتظر ہے، جو راتوں کے تین بجے اٹھ اٹھ کرروتا ہے، تو یقین ہوتا ہے کہ انصاف اس ملک میں بلوچوں کے لیئے نہیں ہے۔

کیا پاکستان میں کوئی ایسا ارباب اختیار ہے کہ جو ننھی برمش کی ماں شہید ملک ناز، شہید کلثوم، شہید ناز بی بی، شہید حیات اور شہید شاہینہ شاہین کو انصاف دلا سکے؟


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔