گیارہ اگست یوم آزادی بلوچستان – وشین بلوچ

127

گیارہ اگست یوم آزادی بلوچستان

تحریر : وشین بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

تقسیمِ ہندوستان سے چند روز قبل 4 اگست 1947 کے دن لارڈ ماؤنٹ بیٹن وائسرائے ہند محمد علی جناح جو کہ پاکستان کا آنے والا گورنر جنرل تھا انہوں نے خان قلات احمد یار خان کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کیا۔ جس میں 11 اگست 1947 کو بلوچستان کے آزادی کا دن قرار دیا گیا۔ بلوچستان کا اس وقت انگریز حکومت کے ساتھ معاہداتی تعلقات تھے اور برصغیر سے بلکل منفرد سیاسی، ثقافتی ، تمدنی تاریخ تھا حکومتِ پاکستان نے بلوچستان کو آزاد اور خودمختار ریاست تسلیم کر لیا۔

خان میر احمد یار خان کے سرکردگی میں 15 اگست 1947 بروز جمعہ نمازِ جمعہ سے قبل خانِ قلات (بلوچستان) نے بلوچستان کے مکمل آزادی کا اعلان کردیا اور نمازِ جمعہ کے بعد مسجد کے صحن میں ہی بلوچستان کا جھنڈا لہرایا گیا۔
اس وقت بلوچستان کا جھنڈا دو رنگوں سبز اور سرخ پر مشتمل تھا جس کی وضاحت نوری نصیر خان اول نے کچھ اس طرح کیا تھا کہ
سبز رنگ اسلام اور سرخ رنگ بلوچ ہے
سبز رنگ امن اور سرخ رنگ جنگ ہے
بلوچوں نے ہمیشہ اپنے سر زمین کی دفاع کرتے ہوئے اپنے جانوں کا نظرانہ پیش کر کے غیر اقوام کو اپنے سرزمین پر ٹکنے نہیں دیا۔

میر احمد یار خان نے تقریبِ آزادی سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا “کہ میں آج اپنے جذبات بیان نہیں کر سکتا کہ جو صرف میرے جذبات نہیں پورے بلوچ قوم کے جذبات ہیں جو خواب ہم نے دیکھا تھا آج وہ پایا تکمیل تک پہنچ چکا ہے آج پھر بلوچستان بلوچ قوم کے حوالے ہوگیا ہے” انہوں نے مزید کہا کہ میرے دل کی تین آرزو تھے (1) یہ کہ بلوچستان جس کی سرحدیں ایک طرف افغانستان دوسری طرف ایران تیسری طرف ہندوستان اور چوتھی طرف سمندر سے ملی ہوئی ہیں ہمیشہ کے لیے آزاد ہوجائے تا کہ بلوچ قوم ذلیل وخوار ہونے سے بچ سکے۔

(2) دوسری خواہش یہ ہے کہ بلوچستان میں شرعی قوانین مرتب کیا جائے یعنی اسلامی طرز عمل کا حکومت قائم کیا جائے
(3)تیسرا یہ کہ بلوچ قوم متحد ہو کر ایک مرکز کے تحت عزت و آبرو سے دوسرے اقوام کی طرح ایک روشن مستقبل تعمیر کر سکیں۔

میر احمد یار خان نے بلوچ قوم کو تنبیہہ کیا کہ وہ اس ریاست کو مظبوط و مستحکم بنانے میں میرا ساتھ دیں۔ جس کا جواب بلوچ قوم نے آزاد بلوچستان کے نعروں سے دیا۔

ریاست بلوچستان کے لیے دیوانِ خاص اور دیوان عام کے نام سے دو اسمبلیوں کا اعلان کیا گیا
دیوان عام کے لیئے کُل 52 سیٹیں مختص کی گئیں۔ جن کا انتخاب قبائلی معتبرین کے رائے سے ہوتا۔
اور دیوان خاص کے امیدوار صرف موروثی سرداروں ہوسکتے تھے جن کی کُل تعداد 36 تھا
دونوں اعوان ریاست کے فلاح و بہبود ، ترقی و خوشحالی کے لیے کام کرینگے اور دونوں ایوانوں کا سال میں ایک بار اجلاس ہونا لازمی قرار پایا۔ دونوں ایوانوں کا سربراہ وزیر اعظم قرار پایا۔
اس کے علاؤہ خان بلوچستان میر احمد یار خان نے فرمایا کہ غیر مسلم رعایا جو کہ بدستور ہمارے ساتھ شامل تھے اب بھی ہم ان کے جان، مال ، مذہب اور تمدن کے حفاظت کی یقین دہانی کرتے ہیں
دیوان عام میں ہندو کمیونٹی کے کیئے ایک نشست بھی مختص کیا گیا۔

پہلی دفعہ جب ریاست قلات کے وزیراعظم نوابزادہ اسلم (جسکا تعلق پاکستان سے تھا اس لیئے ہمیشہ پاکستان کے مفادات کے لیے کام کیا) اور وزیرِ خارجہ ڈی وائ فل( جو کہ ایک انگریز تھا) کراچی گئے جہاں پر ان کا ملاقات گورنر جنرل پاکستان سے ہوا جس کا نیت ٹھیک نہیں تھا جو بلوچستان کا پاکستان کے ساتھ الحاق پر بضد تھا۔ انہوں نے واپس آکر خان قلات کو جناح کے رویے سے آگاہ کیا تو ستمبر 1947 میں پہلی بار دیوان عام کا پہلا اجلاس ڈھاڈر کے مقام پر طلب کیا گیا جو کہ اپنے نوعیت کا سب سے بڑا اجلاس تھا جہاں پر خانِ قلات نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ
“پاکستان بلوچستان کا اپنے ساتھ الحاق کرنا چاہتا ہے لیکن میں فردِ واحد بلوچ قوم اور اس سرزمین کا قطعاً کوئی فیصلہ نہیں کرسکتا۔ وزیرِ خارجہ ڈی وائ فل نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ریاست بلوچستان جو کہ ہر لحاظ سے ہندوستان سے جدا گانہ حیثیت کا حامل ہے۔ جب ہم نے گورنر جنرل پاکستان سے مستجار علاقوں کے بارے میں گفت و شنید کی خواہش کی تو انہوں نے اس بات سے انکار کرکے بلوچستان کا پاکستان کے الحاق پر زور دیا۔ ہنر ہائ نس نے بلوچستان کو اس کے مستجار علاقے جو حکومت برطانیہ کے ماتحت تھے برطانوی حکومت نے جانے سے پہلے ایک بار پھر بلوچستان اور خان قلات کے حوالے کردیا۔ جو کہ صرف بلوچستان کے ہی علاقے تھے اور اج بھی ہے ۔ لسبیلہ اور خاران جو کہ برطانوی حکومت نے ریاست قلات سے الگ کر کے برطانوی سامراج کے زیرِ حکومت تھے جاتے جاتے پھر سے ریاست قلات کے ماتحت چھوڑ گیا۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔