کوئٹہ: دستی بم حملے میں 1 شخص ہلاک، 6 زخمی

181

بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں ہونے والے بم حملے میں بچہ ہلاک اور چھ افراد زخمی ہوئے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق نامعلوم افراد نے کوئٹہ کے علاقے بروری روڈ پر ایک دکان کو دستی بم حملے میں نشانہ بنایا گیا۔

ایس ایچ او بروری تھانہ کے مطابق دکان پر چودہ اگست کے حوالے سے اسٹال قائم کیا گیا تھا۔ زخمیوں کو طبی امداد فراہم کرنے کے لیے ہسپتال منتقل کردیا گیا جبکہ مزید کاروائی کی جارہی ہے۔

آخری اطلاعات تک کسی تنظیم نے دھماکے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ یاد رہے اس سے قبل بلوچ آزادی پسند مسلح تنظیمیں پاکستان کے جشن آزادی کی تقاریب اور اسٹالز کو تواتر کے ساتھ نشانہ بناتے رہے ہیں۔

دو روز قبل صنعتی شہر حب میں شیر علی پیٹرول پمپ کے سامنے پاکستان کے جشن آزادی کی تیاریوں کے سلسلے میں لگائے گئے ایک اسٹال پر نامعلوم افراد نے دستی بم سے حملہ کیا تھا، جو زور دار دھماکے سے پھٹ گیا۔ جس سے فورسز کے تین اہلکاروں سمیت چھ افراد زخمی ہوئے تھیں۔

مذکورہ حملے کی ذمہ داری بلوچ لبریشن آرمی نے قبول کی تھی۔ تنظیم کے ترجمان جیئند بلوچ کا کہنا تھا کہ بی ایل اے 14 اگست کی تقریبات و اسٹالز پر حملے کریگی۔

گذشتہ رات حب ہی میں اٹک سیمنٹ فیکٹری کو بم حملے میں نشانہ بنایا گیا جبکہ اس سے قبل مستونگ میں بم حملے میں فورسز کو نشانہ بنایا گیا۔ ان حملوں کی ذمہ داری بھی بی ایل اے نے قبول کی تھی۔

دریں اثناء حب میں حکام نے نوٹفکیشن جاری کرتے ہوئے ایک مہینے کیلئے دفعہ 144 نافذ کردی ہے جس کے تحت ضلع بھر میں موٹر سائیکل کی ڈبل سواری پر پابندی عائد ہوگی۔