مرزا بلوچ کا ادھورا خواب – بختیار رحیم بلوچ

120

مرزا بلوچ کا ادھورا خواب

بختیار رحیم بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

مرزا زندگی کی ابتداء غربت سے نکل کر امیر ہونے کے خواب کے ساتھ گامزن تھا، کبھی کسی کجھور کے باغیچے کا ٹھیکہ اٹھا کر دو چار ہزار کا نقصان کرلیتا، کچھ دن قسمت کی شومئی سمجھ کر افسوس کرتا بعد میں کوئی دوسرا باغیچہ ڈھونڈ لیتا، مالک کو دو چار ہزار روپے منافع دینے سے راضی کرلیتا۔ کبھی کسی کے باغیچے میں کجھور چن چن کر جمع کرکے بیچ کر دو چار سو روپے کمالیتا، اس سے بچوں کا سکول وغیرہ کا خرچہ بمشکل پورا کرتا رہا۔

جب گھر میں حیات پیدا ہوا تو اس نے حیات کو اپنے ملک قوم اور اپنی زندگی کی حیات سمجھ کر اسے اعلٰیٰ تعلیم دینا اپنا ایک خواب سمجھ کر محنت کو مزید تیز کرلیا۔

شاید اس نے یہی سوچا تھا حیات کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد زندگی کے تمام مشکلات آسان ہوں، ۔اس نے اس خواب کو پورا کرنے کےلیے دن رات ایک کر لیئے۔ صبح ایک کپ سلیمانی چائے پی کر شام کو گھر واپس آجاتا اسے خواب نے بھوک پیاس نیند کی ضرورت سے بے خبر کیا تھا ۔ بس دل میں یہی سوچ تھا حیات تعلیم مکمل کرے میری زندگی کا اصل آرام شروع ہو جائے گا۔ باغیچوں کی صفائی اور محنت کرتا رہا، مالکوں سے کہیں دوچار کلو کھجور کہیں دو چار سو روپے پیسہ حاصل کرکے حیات کے فیسوں اور دوسرے ضروریات پورے کرنے کے لیے کوشاں تھا۔

کبھی اکیلا کام کرنا مشکل ہوتا تو گھر سے حیات کی امی کی مدد حاصل کرکے لگا رہتا۔ دھوپ، گرمی، سردی پسینے سے شرابور کپڑے، ننگے پاؤں، کوئی پریشانی اور کوئی شرم دل میں نہیں تھا، بس اپنے محنت سے خوش تھا کیونکہ اسکی زندگی کی امیری مشکلات سے چھٹکارہ آخری خواب پورا ہونے کے لیے بہت کم عرصہ بچ گیا تھا۔ جو تھا حیات کی سی ایس ایس کے امتحان کا پاس ہونا۔

حیات کو شاید والدیں کی مزدوری کھیتوں میں کجھور کے کانٹوں کو ہاتھ سے صفائی کرنے کی یاد یونیورسٹی میں ہر آتا تھا۔ کلاس کے دوران والدین کا یہ غم سر پر سوار ہونے سے پتہ نہیں کیا سوچ کر مگن رہتا تھا ۔ بعد میں یہی سوچتا بس محنت کرکے تعلیم مکمل کرنا ہے۔ تعلیم مکمل ہونے کے بعد والدیں کی مشکلات آسانی میں بدل دونگا۔

۔اسی وجہ سے کرونا کی وجہ سے تعلیمی بندش کو دیکھ کر حیات کے دل میں یہ درد پیدا ہوا کہ والدین کے غربت اور مزدوری سے کیا حال ہوا ہے۔ ان کو یہ دکھ مزید کراچی میں رہنے نہیں دیا، اپنے آبائی علاقے میں جاکر والدین کے زخمی ہاتھوں سورج کی تپش سے جلے چہرے کو دیکھ کر ابا کو مزید محنت کرنے دینے کا دل نہیں چاہ رہا تھا۔

اس لئے اس نے ابا کے دن رات کے مزدوری کے اوزار اپنے سر پر اٹھا کر روزانہ والدین کے ساتھ جاکر باغیچے کی صفائی میں لگا، باپ اور بیٹے دونوں کا شاید خواب یہ تھا کہ باپ محنت کرکے بچے کو اعلٰیٰ تعلیم دے ، بچہ تعلیم پورا کرکے باپ کی زندگی کے بہے ہوئے پسینے کا حق ادا کرلے گا۔

لیکن نا انصاف سماج نے مرزا کے خواب حیات کے وعدے کو پورے نہ ہونے دیا، تیرہ اگست کو صبح گیارہ بچے وہی مرزا اور اسی باغیچے میں لگا ہوا تھا، اپنے زندگی کا روٹین پورا کر رہا تھا۔

باغیچے میں ایف سی اہل کار گھس کر حیات کو باغیچے سے نکالا، دوسرے اہلکار نے حیات کی بے بس اور بے سہارا امی کا سر سے دوپٹہ کھینچ کر اسکے آنکھوں پر باندھ لیا، آٹھ گولیاں مرزا کے خواب کے سینے میں پمپ کر دیا۔

حیات کا وہ وعدہ نامکمل اور ادھورہ رہ گیا وہ اعلٰیٰ تعلیم حاصل کرکے والدین کا بہتا ہوا پسینہ چکتا نہیں کرسکا۔۔ مزا کے وہ خواب نامکمل رہ گئے، حیات کو اعلٰیٰ تعلیم دے کر سکھ کا سانس لے کر باقی زندگی گذارنے کے۔

تیرہ اگست گیارہ بجے کے وقت حیات کی ماں اپنی زندگی کے آنے والے خوشیوں کے امید کے لت پت لاش کے سرہانے بیٹھ کر دونوں ہاتھ آسمان کی طرف اللہ سے اپنے امید کو نا امید میں بدلنے کی وجہ پوچھتے نظر آرہی ہے۔ مرزا کی زندگی کی امید کی حیات دنیا کے ہر انسان کے پتھر دل کو پگھلا کر موم کردیا۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔