سندھی ادیب تاج جویو کے دو بھانجے جبری گمشدگی کا شکار

301

تاج جویو کے بیٹے سارنگ جویو پہلے سے ہی لاپتہ ہیں۔

دی بلوچستان پوسٹ کو موصول اطلاعات مطابق کے سندھی ادیب تاج جویو کے بیٹے سارنگ جویو کے بعد انکے دو بھانجے آصف جویو اور مظہر جویو کو گذشتہ شب گرفتاری کے بعد لاپتہ کیا گیا ہے۔

وائس فار مسنگ پرسنز آف سندھ کے مطابق گذشتہ شب رات کے دو بجے آصف جویو اور مظہر جویو کو ڈوکری میں واقع انکے گھر سے فورسز نے گرفتار کرکے لاپتہ کردیا ہے۔

یاد رہے اس سے قبل 10 اگست 2020 کو سندھی ادیب تاج جویو کے بیٹے اور سماجی تنظیم سندھ سجاگی فورم کے کورڈینٹر سارنگ جویو کو بھی جبری گمشدگی کا شکار کیا گیا تھا جو تاحال لاپتہ ہیں۔

وائس فارمسنگ پرسنز آف سندھ کے مطابق “پاکستانی فورسز نے سندھ میں ظلم و جبر کی انتہا کردی ہے، سندھ بھر سے جبری طور پر لاپتہ کیئے گئے سینکڑوں کارکنان کی آزادی کے لیئے آواز اٹھانے والے رہنماء سارنگ جویو کو بھی گھر سے گرفتار کرنے کے بعد لاپتہ کردیا گیا۔”

“سارنگ جویو سندھی مسنگ پرسنز اور سندھ کی سیاسی جدوجہد کی ایک مضبوط آواز بنے ہوئے تھے، جو سندھ سجاگی فورم کے پلیٹ فارم سے سندھ کے تمام سیاسی و سماجی مسائل کے لئے اپنی پرامن سیاسی جدوجہد جاری رکھے ہوئے تھے۔”

یاد رہے کل وائس فار مسنگ پرسنز آف سندھ کی جانب سے کراچی پریس کلب سے گورنر ہاؤس تک سارنگ جویو اور جبری گمشدگی کے شکار دیگر سندھی کارکنوں کی بازیابی کے لیئے احتجاج کو پولیس نے مختلف مقامات پر روکا، کئی جگہوں پر جھڑپیں بھی ہوئے۔ فورسز نے ریلی کو گورنر ہاؤس جانے نہیں دیا۔


اس موقع پر بلوچستان سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون حانی گل کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا گیا، حانی گل کے مطابق انکا منگیتر نسیم بلوچ فورسز کے ہاتھوں جبری گمشدگی کا شکار ہے۔

وائس فار مسنگ پرسنز آف سندھ کی جانب سے سارنگ جویو سمیت سندھ کے تمام لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیئے سندھ گیر احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

تںظیم کے مطابق اس وقت کراچی پریس کلب کے سامنے احتجاج جاری ہے اگر انکے لاپتہ کیے گئے کارکنوں کو منظر عام پر لایا نہیں گیا تو احتجاج کو سندھ بھر میں وسعت دیا جائے گا۔