حیات کے آخری لمحات ۔ یاسین بلوچ

255

حیات کے آخری لمحات

تحریر ۔ یاسین بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

بیٹا آج کل کے جوانوں میں دم ہی نہیں، تھوڑا سخت کام کرنے سے جلدی تھک جاتے ہیں. حیات کے والد نے کہا، ایسے ہی تم بھی کمزور ہو مگر یہ اچھی بات ہے جلدی تھک ہار کر بیٹھتے نہیں. ابھی آمین (کھجور کے پکنے کا وقت) بھی ہے تو کام بہت کرنا ہے.

بیلچہ لگانے کی رفتار تیز کرو تاکہ شام تک یہ کام مکمل ہو تو کل کا کام آج جتنا رہے گا.
حیات نے مسکراتے ہوئے کہا ابّا میں جتنا کام کرتا ہوں اتنا تو آپ نہیں کرتے، یہ کہہ کہہ کر مجھ سے سارے باغ کا کام کت لیا.

حیات کے والد قہقہہ لگاتے ہوئے، ہاں سارا کام تم نے کیا ہے تم سے تو ایک نِیَال لگایا نہیں جاتا.

اس وقت باغ کے بائیں جانب میدان میں، جہاں سے کچا راستہ گذرتا ہے وہاں سے ایف سی کے گاڑیاں گذر رہی تھیں کہ اچانک ایک دھماکہ ہوا، جس سے ایک گاڑی کو نقصان پہنچا، حیات اور اس کے والد کجھور کے درختوں کے درمیان سے راستہ بنا کر دیکھنے گئے کہ ہوا؟ کیا ہے؟ جب باغ کے آخری کجھور کے درخت تک پہنچے تو دور سے ایف سی والوں نے حیات اور اس کے والد کو دیکھ کر کہا یہ ہمیں مارنے آرہے ہیں تو وہیں سے انہوں نے بندوق کی نوک سے اشارہ کرتے ہوئے کہا زمین پر لیٹو.

کچھ لمحے وہ حیران ہوئے کیا ہورہا ہے مگر تب تک کچھ وردی والے اُن تک پہنچ گئے, پہنچتے ہی حیات کو مارنا شروع کیا حیات کے والد نے ہاتھ جوڑ کر پوچھا میرے بیٹے کو مت مارو مگر وہ مارے ہی جارہے تھے.

کچھ ایف سی والوں نے حیات کے والد کو پکڑا اور حیات کو گھسیٹتے گئے. وردی والوں کے تشدد دیکھ کر
حیات کے والد ان سے بیٹے کے زندگی کی بھیک مانگ رہا تھا.

مجھے چھوڑ دو میں نے کچھ نہیں کیا ہے مگر وہ کہے جارہے تھے یہ آئی ای ڈی تم نے بچھایا ہے، تم نے ہم پر حملہ کیا ہے. حیات کو گھٹنوں پہ بٹھا کر ایک ایف سی والے نے اس پر گولی چلائی جو حیات کے سینے کو چیر کر نکلی، پھر بھی وہ اس حالت میں تھا خود کو سنبھال سکے اسی وقت اس کی والدہ دوڑی چلی آرہی تھی.

حیات سینے پر ایک گولی کھانے کے بعد بھی اس کوشش میں لگ گیا کہ ماں کو پتا نہ چلے کے گولی مجھے لگی ہے. لیکن ایف سی والے کا غصہ ٹھنڈا نہیں ہوا تھا، اس نے سات اور گولیاں چلائیں حیات گر گیا. خون تھا کہ بہے ہی جارہا تھا. نزع کے عالم میں حیات اپنی ماں کو تسلی دینا چاہتا تھا پر پیروں کی انگلیوں سے نکلتے ہوئے روح جب سینے تک پہنچی تھی تب شاید وہ کہنا چارہا تھا کہ ہماری زندگیاں آزادی کے بغیر زندگی نہیں، نہ ہی اس کی کوئی اہمیت ہوگی. تب بھی حیات کی والدہ ہاتھ اٹھا کر خدا سے کسی معجزے کی امید میں تھا، پھر سے سانسیں لینے لگے، پر وہ ہمیشہ کے لئے جاچکا تھا.


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔