حیات کو ماتھے پہ بوسہ دو – محمد خان داؤد

100

حیات کو ماتھے پہ بوسہ دو

محمد خان داؤد

دی بلوچستان پوسٹ

حیات کا قتل، بس اک فرد کا قتل نہیں ہے۔ حیات کا قتل، حیات کا قتل ہے۔ وہ حیات جو بلوچستان سے لیکر چترال کی وادیوں میں انسانی رگوں میں جان بن کر دوڑ رہی ہے۔ حیات کا قتل، بس اک فرد کا قتل نہیں ہے، حیات کا قتل کئی ماؤں کا قتل ہے اور بچ جانے والی مائیں بھی سوئے مقتل کو جا رہی ہیں، حیات کا قتل، اک جسم کا قتل نہیں ہے، حیات کا قتل، روح کا قتل ہے، اور اب بچ جانے والے ارواح سوزانِ روح بنے ہوئے ہیں، حیات کا قتل، بس تربت کے ایک نوجوان کا قتل نہیں ہے، حیات کا قتل ان سب نوجوانوں کا قتل ہے جو پڑھنا چاہتے ہیں جو آگے بڑھنا چاہیے ہیں،اب حیات کے قتل کے بعد کئی نوجوان روحانی طرح مارے گئے ہیں اور باقی بچ جانے والے بھی قتل گاہوں میں اپنی اپنی باری کے منتظر ہیں۔

حیات کا قتل بس ایک بھائی کا قتل نہیں ہے، جس کے بغیر اب بہنیں جینے کی سزا میں جیتی رہیں گی، پر حیات کا قتل ان سب بہنوں کا قتل ہے جو اپنے گھروں،اپنی گلیوں اور اپنے گھروں کے دروں پہ اپنے بھائیوں کی گمشدگی اور اپنے بھائیوں کے قتل ہوجانے پر ماتم کناں ہوتی ہیں
اب وہ سب بہنیں حالِ یار میں جی رہی ہیں
اب وہ جئیں بھی تو کیسے؟
اور مریں بھی تو کیسے؟

حیات کا قتل، بس حیات کا قتل نہ تھا، پر حیات کا قتل اُمید کا قتل تھا، آس کا قتل تھا، مکتب کا قتل تھا۔ کتابوں کا قتل تھا۔ ان قدموں کا قتل تھا جوآگے بڑھنے پر اُکساتے ہیں۔ ان نینوں کا قتل تھا جن نینوں میں دید کے دئے جلتے رہتے ہیں۔ ان ہاتھوں کا قتل تھا جو بہنوں کے سروں پہ سُرکتی اجرک کو درست کرتے ہیں۔ اس دل کا قتل تھا جو اپنوں کے دکھوں پر ملال میں رہتا ہے۔ حیات کا قتل خوشبو کا قتل ہے۔ حیات کا قتل روشنی کا قتل ہے، حیات کا قتل نئی صبح کا قتل ہے۔ حیات کا قتل ہر اس بات کا قتل ہے جس بات میں کوئی نئی اُمید پیوستہ ہوتی ہے۔ حیات کا قتل بہار کا قتل ہے۔ حیات کا قتل اس صلیب کا قتل نہیں جو ہر یسوع کو مصلوب کر دیتی ہے اور پیچھے بہت سی مریمیں ماتم کرتی رہ جاتی ہیں۔ پر حیات کا قتل تو پو رے بلوچستان میں ان صلیبوں کا ایسے پیدا کرگیا ہے جیسے تھر اور مٹھی میں برستی بارش میں کھبیاں اُگ آتی ہیں۔

حیات کے قتل نے بلوچستان سے وہ پھانسی گھاٹ ختم نہیں کیے، پر اس دنیا کو یہ بتایا ہے کہ دیکھو کیسے پو رے بلوچستان میں صلیبیں، پھانسی گھاٹ، اور بارود بچھا ہوا ہے جس پر چل کر بلوچستان کے نوجوان زندگی میں آگے بڑھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ زندگی میں بچتے رہتے ہیں کہ ان وہ پھانسی گھاٹوں سے بچ کر نکل جائیں،وہ مصلوب نہ ہوں اور ان کا چلتے میں پیر ان بارودی سرنگوں پر بھی نہ پڑے جن پر پڑنے سے مائیں
دیوانی ہو جاتی ہیں اور بلوچستان میں ایک اور نئی قبر کا اضافہ ہوجاتا ہے
اور بلوچستان کے دھرتی اس نئی قبر کے بار سے جھکنے لگتی ہے
پر حیات کو زبردستی اس بارود کے منہ میں جھونک دیا گیا جو بارود یہ کبھی نہیں جان پاتا کہ
حیاتوں کے مرنے کے بعد ماؤں کا کیا ہوگا؟

پھربوڑھے والد اپنا ذہنی توازن کھو بیٹھتے ہیں، پر پھر بھی تعزیتیں وصول کرتے رہتے ہیں
اب اگر بلوچستان میں بہار آئی بھی تو اس پر سیاہ رنگ عیاں ہوگا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ برستی بارشیں سب داغوں کا دھو دیتی ہے، پر حیات کے خون کے دھبے کون سے بارش دھوئے گی؟

جب جب بارش برسے گی، جب جب حیات کا ناحق خون اور صاف ہوکر ہم سے پوچھا کریگا کہ میرے انصاف کا کیا ہوا؟ میرے قتل کا کیا ہوا؟ میرے قلم کا کیا ہوا؟ میرے مکتب کا کیا ہوا؟ میری ماں کا کیا
ہوا؟ میرے خون کے دھبوں کا کیا ہوا؟ بلوچستان کا کیا ہوا؟
تو بارشیں دھرتی اور دل پر پڑے داغ نہیں دھوتی یہ تو ان داغوں کو اور واضع کرتی ہے!
کس سے دھرتی اور مائیں اپنا توازن کھو بیٹھتی ہیں!
جب حیاتوں سے،حیات چھین لی جاتی ہے تو مائیں سراسر ماتم بن جاتی ہیں۔
ایسی ہی اک ماں اس وقت تربت میں ماتم بنی ہوئی ہے۔
وہ حالِ یار میں بہت روئی ہے۔
بہت روئی ہے۔
بہت روئی ہے۔
برستی برکھائیں تو رُک بھی جا تی ہیں،پر ان برستے نینوں کا کون روکے اور کیوں روکے؟
یہ نہیں ہے کہ بلوچستان میں یہ کسی نوجوان کا پہلا قتل ہے
اور ایسا بھی نہیں ہے کہ یہ بلوچستان میں کسی نوجوان کا آخری قتل ہوگا
یہاں میں ان قبروں کا تو ذکر ہی نہیں کر رہا جو دشت کو جلارہی ہے، جن قبروں کے کتبوں پر کوئی نام نہیں کوئی عرفیت نہیں کوئی شناخت نہیں ان قبروں پر بس نمبر درج ہیں اور اب تو وہ نمبر سینکڑوں میں پہنچ گئے ہیں۔
ان قبروں میں دفن ہونے والوں کو ماؤں نے جنا
ریاست نے قتل کیا
اور ایدھی کے رضاکاروں نے انہیں نمبر دے کر امانتاً دفن کردیا
پر میں تو یہاں ان قبروں کا ذکر کر رہا ہوں جن کے نام ہیں اور پہچان ہے جن کے گھر ہیں اور مائیں ہیں ان قبروں سے بھی بلوچستان بھرا ہوا ہے۔
وہ جوان مٹی میں دفن ہیں
جب کہ حیات کو قتل ہونے کے بعد بلوچستان نے ماں سے مل کر حیات کو اپنے دل میں دفن کر دیا ہے
اب حیات کی قبر کوئی ایک نہیں جو تربت کے دور دراز قبرستان میں موجود ہے
پر حیات کی اور بھی دو قبریں ہیں
اک ماں کے سینے میں
اور اک بلوچستان کے دھڑکتے سینے میں
حیات کے مقتول بن جانے پر بلوچستان نے ماتم یار کیا ہے
اور آگے بڑھ کر حیات کو اپنے سینے سے لگا لیا ہے
حیات کے ماتھے کو بوسہ دیا ہے
اور حیات کے اس سینے پہ ہاتھ رکھا ہے جو سینے بندوق سے گھائل ہوا تھا جس سے خون پانی کے فوارے کی ماند نکل رہا تھا
اب پو رے بلوچستان میں حیات کے لیے موم بتیاں جل رہی ہیں
وہ کینڈل پروٹسٹ نہیں
پر وہ تو وہ بوسہ ہے جو بلوچستان حیات کو دے رہا ہے
اور بلوچستان،اہلیانِ بلوچستان سے بھی کہہ رہا ہے کہ
،،اپنے ہاتھوں میں جلتی موم بتیاں لیے
حیات کو بوسہ دو!،،


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔