ثناء بلوچ تم کیا کہو گے – محمد خان داؤد

240

ثناء بلوچ تم کیا کہو گے

محمد خان داؤد

دی بلوچستان پوسٹ

 

ثناء بلوچ کیا تم اپنا آرٹیکل اس لائن سے شروع کروگے؟
,,ALL SUNSHINE HAS GONE OUT OF MY LIFE!,,
ثناء بلوچ کیا تم بلوچستان اسمبلی میں ایسی کوئی تقریر کروگے، جس کے آخر میں ایسے الفاظ کی باز گشت سنائی دے کہ
,,ALL SUNSHINE HAS GONE OUT OF MY LIFE!,,
،،میری زندگی سے سورج کی ساری تپش جیسے گُم ہوگئی ہو!،،

یہ الفاظ بالکل سچ ہیں پر بلوچستان اسمبلی کے منتخب ممبران سے لیکر دانشوروں تک اور اس ثناء بلوچ تک جس کے لیے یہ کہا جاتا ہے کہ وہ اسمبلی فلور پر دانشورانہ مقرر نظر آتا ہے اور اپنے الفاظ کو رلی کے تکڑوں کی ماند اپنے آرٹیکلوں میں چسپاں کرتا ہے، جس سے وہ الفاظ پڑھنے والوں کے دلوں میں اتر جاتے ہیں۔

ثناء بلوچ نے بہت سی تقریریں کی ہونگی۔ اس نے بہت سے مکالمے کیے ہونگے۔ ثناء بلوچ نے بہت سی کتابیں پڑھی ہو نگی اور بہت سے آرٹیکل لکھے ہونگے۔

پرجب بلوچستان کی ایک ان پڑھ ماں درد کرب سے گزر رہی ہے۔ جسے کسی بھی لفظ سے چین نہیں پڑتا،جو نہ تو لکھ سکتی ہے اور نہ پڑھ سکتی ہے۔ اگر وہ ماں پڑھنا جانتی تو وہ کوئی اور کتاب نہ پڑھتی، وہ حیات کے وہ نوٹ بک پڑھتی جو نوٹ بک حیات کے یونیورسٹی بیگ میں بند ہے، جس میں محبت کی باتیں ہونگی اور وہ ماں جان پاتی کہ اس کا تیزی سے جوان ہوتا بچہ کس کو دل دے بیٹھا تھا؟

اگراس ماں کو کچھ لکھنا آتا تو وہ ماں بابا فرید کی یہ دو لائین لکھ کر ماتم بن جاتی کہ
،،روئیندے عمر نبھائی
یار دی خبر نہ کائی!،،
پر وہ تو بس معصوم ماں ہے
اور دنیا کی مائیں سوائے دردوں کے اور دلوں کے اور کیا پڑھ سکتی ہیں؟
حیات کی ماں کے دل کو کوئی نہیں پڑھ رہا
اور اس کا درد ایسا ہے جس کو ہما ری آنکھیں نہیں سہہ سکتیں

تو ثناء بلوچ نے بہت سے مضامین لکھے ہیں، ان مضامین میں ثناء نے بلوچستان کے درد بھی لکھے ہیں۔ بلوچ ماؤں کی تکلیفیں بھی لکھی ہیں، پر کیا ثناء بلوچ نے ان مضامین میں دلوں کا ناپ لے کر دلوں کا سائز لکھا ہے؟

کیا ثناء بلوچ ہم عام قارئین کو یہ بتا سکتے ہیں کہ جب معصوم ماؤں کے جوان بیٹے بارود کی آگ میں جلتے ہیں تو ماؤں کے دلوں کا سائز بڑھ جاتا ہے یا گھٹ جاتا ہے؟

ثناء بلوچ نے بہت سے الفاظ لکھے ہیں، پر ثناء بلوچ نے ان روتی ماؤں کی آنکھوں کو قلم بند کیا ہے اور کیا ثناء بلوچ ہم عام قارئین کو یہ بتا سکتے ہیں کہ جب ان پڑھ ماؤں کے پڑھے لکھے قابل بچے بھونکتی بندوقوں کی زد میں آتے ہیں تو وہ رو تی، دیکھتی، محسوس کرتی آنکھیں اندھی ہو جاتی ہیں یا خاموش؟

ثناء بلوچ نے بہت سے الفاظ بلوچستان کی ثناء میں لکھیں ہیں، پر ثناء ہمیں یہ بھی تو بتائیں کہ ان کے لکھنے کے عمل سے وہ بہادر ہوئے ہیں یا ڈر بزدل؟ اگر بہادر ہوئے ہیں تو کیا وہ بلوچستان اسمبلی کے آنے والے سیشن میں حیات بلوچ کو ان الفاظ سے یاد کریں گے کہ
,,ALL SUNSHINE HAS GONE OUT OF MY LIFE!,,
،،میری زندگی سے سورج کی ساری تپش جیسے گُم ہوگئی ہو!،،
اگر بزدل ہو گئے ہیں تو وہ حیات کی روتی ماں سے اسمبلی فلور پر یہ کہیں کہ
،،اے پہاڑوں میں بسنے والی ماں مجھے معاف کردو
سب مایا ہے!،،
ثناء بلوچ ایک ماں اپنے بیٹے کے ناحق قتل پر رو تی، چیختی چلاتی، ماتم کرتی رہ گئی
اور مجھے معلوم ہے کہ اب وہ بہت جلد دیوانی ہو جائیگی
کیوں کہ جب بوڑھی ماؤں کے جوان بیٹے مارے جا تے ہیں تو ان ماؤں کی زندگیاں کم ہو جاتی ہیں
اب حیات کی ماں اس دیئے کی ماند ہو گئی ہے، جو جلتاہی اس لیے ہے کہ وہ کب بجھتا ہے
وہ بہت جلد بجھ جائیگی
کسی جلتے ديئے کی طرح!

وہ ماں کوئی شاعر نہیں۔ کوئی ادیب نہیں۔ کوئی دانشور نہیں۔ اس ماں نے کسی مست توکلی کو نہیں پڑھا۔ وہ ماں کسی عطا شاد سے واقف نہیں۔ وہ بس ماں ہے، اس نے کتابوں کے اوراق جیسا بیٹا جنا، جسے دہشت کھاگئی۔ پر ثناء بلوچ تم تو دانشور ہو۔ ادیب ہو۔ شاعر ہو، کالمسٹ ہو اور تمہیں بھی نہیں معلوم کہ تم کیا کیا ہو؟ جو بھی ہو کمال ہو۔ ثناء بلوچ تم اپنی لکھے اور کہی باتوں میں نیلسن منڈیلا کا حوالہ دیتے رہے ہو۔
وہ ان پڑھ ماں ہے وہ ماں نیلسن مینڈیلا سے واقف نہیں
پر ثناء بلوچ تم تو نیلسن مینڈیلا سے واقف ہو اور تمہارا یہی خیال ہوگا جو میرا خیال ہے کہ نیلسن مینڈیلا پستی اقوام کا مرشد ہے
اور ثناء بلوچ یہ جو تم لکھتے رہتے ہو کہ
،،میرے بابا نے مجھے ایک دن کہا کہ
جس کو اپنی دھرتی نہیں ہوتی
اسے دھرتی پہ قبر نہیں ملتی!،،
ثناء بلوچ تم اپنے جادوئی نثر میں ایسے الفاظ لکھ تو جاتے ہو پر ایسے الفاظ کا پاس بھی رکھا کرو
یہ اوپر کے الفاظ مرشد نیلسن منڈیلا نے مظلوم اقوام کے لیے کہیں ہیں کہ جن کی دھرتی پر ظالم اقوام مسلط ہوتی ہیں حیات بلوچ اپنے جسم پر کئی گولیاں کھا کر بلوچستان کی زمیں میں مل کر زمیں ہوگیا۔
پر وہ سردار،جاگیر دار،نواب،بھوتار، منتخب نمائیندے کہاں جائینگے
جو دھرتی کو اپنا نہیں کرتے
اور جو دھرتی کو اپنا کرتے ہیں
تو سردار،بھوتار منتخب نمائیندے انہیں اپنا نہیں کرتے۔

ثناء بلوچ! بلوچستان کے کئی سردار کتابوں سے آشنا نہیں، پر تم کتابوں میں رہتے ہو
تم دھرتی کو اپناؤ اور اسمبیلی کے آنے والے سیشن میں حیات بلوچ کو ان الفاظ میں یاد رکھو کہ
,,ALL SUNSHINE HAS GONE OUT OF MY LIFE!,,
،،میری زندگی سے سورج کی ساری تپش جیسے گُم ہوگئی ہو!،،
ثناء بلوچ کہیں ایسا نہ ہو کہ تم بھی چہ مگوئیوں کا شکار ہو جاؤ
اور وہاں تمہا ری بھی حالت ایسی ہو جائے کہ جیسے غالب نے فرمایا ہے کہ
،،تاب لائے ہی بنے گی غالب
واقعہ سخت ہے،اور جان عزیز!،،

ثناء بلوچ اگر ایسا ہوتا ہے
تو تمہیں وہ ماں اور بلوچستان کبھی معاف نہیں کریں گے
جو بہت اکیلے ہیں
جو بہت دکھی ہیں.
جو بہت مظلوم ہیں!


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔