بہاؤالدین ذکریہ یونیورسٹی کا فیصلہ ناانصافی ہے – بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل

63

بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل اسلام آباد کے ترجمان نے اپنے جاری کردہ مذمتی بیان میں حالیہ بہاؤالدین ذکریہ یونیورسٹی کے فیصلے کو بلوچستان کے طالب علموں کو نظر انداز کرنے کے مترادف قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان دوسرے شعبوں کے ساتھ تعلیم کے لحاظ سے پاکستان کا پسماندہ ترین صوبہ ہے جہاں کالجوں اور یونیورسٹیوں کی تعداد پاکستان کے دیگر صوبوں کی نسبت انتہائی کم ہیں جبکہ معیار تعلیم بھی پنجاب سمیت دیگر صوبوں کے نسبت انتہائی دگرگوں صورتحال میں ہے جس کی وجہ سے اکثر و بیشتر بلوچ اور قبائلی علاقوں سے تعلق رکھنے والے پشتون طالب علم اچھے اور معیاری حصول تعلیم حاصل کرنے کیلئے پنجاب سمیت دیگر صوبوں کی طرف رخ کرتے ہیں جس کی مثال پنجاب میں ہزاروں طالب علم بلوچ ہیں جو بلوچستان کے مختلف علاقوں سے پنجاب معیاری تعلیم کی حصول کیلئے جاتے ہیں لیکن مختلف اوقات انہیں سخت ناروا سلوک اور تعلیم سے دور رکھنے کی کوششوں کا سامنا ہوتا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ بہاؤالدین ذکریہ یونیورسٹی کا حالیہ فیصلہ جس میں بلوچستان کے طالب علموں کیلئے مختص کیے گئے سیٹوں کو ختم کرنے کو انہی کوششوں کا ایک تسلسل سمجھتے ہیں جس سے بلوچستان کے طالب علموں کیلئے تعلیم کے دروازے بند کیئے جا رہے ہیں جس کے مستقبل میں انتہائی ناہموار نتائج مرتب ہونگے۔

ترجمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بہاؤالدین ذکریہ یونیورسٹی ملتان میں اسکالرشپ کے تحت بلوچستان سے آئے ہوئے طالب علموں کیلئے ماسٹرز اور بیچلرز کے دو دو سیٹیں مختص تھے جہاں غریب طالب علم فیسوں کی رعایت کے ساتھ تعلیم حاصل کرتے رہے ہیں لیکن وائس چانسلر نے اس اسکالرشپ کو ختم کرکے کئی غریب طالب علموں کیلئے یونیورسٹی میں حصول تعلیم کے دروازے بند کیے گئے ہیں جو طلبہ کے ساتھ سراسر ناانصافی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ اقدام بلوچستان کے طالب علموں کو مزید پیچھے دھکیلنے کی ایک اور کوشش ہے جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ تمام طبقہ فکر سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو اس کی سخت مذمت کرنی چاہیے۔

ترجمان نے بیان کے آخر میں وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار، وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال سمیت تمام متعلقہ ذمہ داروں سے اپیل کی ہے کہ بلوچستان کو مزید پیچھے دھکیلنے کی اس سازش کی بیخ کنی کرکے طالب علموں کیلئے تعلیم کے دروازے بند کرنے کی ایسی تمام کوششوں کو ناکام بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔

ترجمان نے کہا کہ اس اقدام کو اگر واپس نہیں لیا گیا تو اس کے خلاف بلوچستان کے طلبہ کے ساتھ ملکر سخت احتجاجی راستہ اپنائیں گے۔ ایسے تمام تعلیم دشمن اقدامات کے خلاف سخت احتجاج کیا جائے گا۔